حسین مناظر اور خوبصورت لوگوں کا دیس ، وادی کیلاش

(Rafi Abbasi, Karachi)
اس وادی کے باشندے بھی قدرتی ماحول میں مشینی دور اور جدید تہذیب سے دور، دو ہزار سال قبل کی تہذیب و ثقافت اور قدیم بودو باش سے اپنا رشتہ استوار کیے ہوئے ہیں

حسین مناظر اور خوبصورت لوگوں کے دیس کیلاش یا کافرستان کا شمار پاکستان کی دل موہ لینے والی وادیوں میں ہوتا ہے جہاں قدرت کی رنگینیاں اپنے حقیقی رنگوں میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں اور اس وادی کے باشندے بھی قدرتی ماحول میں مشینی دور اور جدید تہذیب سے دور، دو ہزار سال قبل کی تہذیب و ثقافت اور قدیم بودو باش سے اپنا رشتہ استوار کیے ہوئے ہیں۔ ان سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے والے لوگ کمپیوٹر ٹیکنالوجی،انٹرنیٹ، ٹی وی چینلز کی بھرمار کی وجہ سے دنیا بھر کی معلومات سے باخبر رہتے ہیں لیکن یہاں کے لوگ آج بھی لالٹین اور چراغوں کی روشنی میں اپنے شب و روز گزارتے اور اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ یہاں پر ریڈیو تک ناپید ہے۔ کیلاشی خواتین اپنا روایتی مخصوص لباس زیب تن کرتی ہیں جس کا ہزاروں سال قبل یہاں رواج ہوا تھا۔ سیاہ لمبی میکسی نما فراک جو خوبصورت رنگ برنگے ڈیزائنوں پر مبنی ہوتی ہے۔ موتیوں اور سیپیوں سے بنے ہوئے لاتعداد ہار اپنے گلے میں پہنتی ہیں جبکہ سر پر انہی موتیوں اور سیپیوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں اوڑھتی ہیں جس سے ان کا حسن مزید دوبالا ہوجاتا ہے، پریوں کا تذکرہ قصے کہانیوں میں ملتا ہے لیکن یہاں کی حسین خواتین کو دیکھ کر سچ مچ پریوں کا گمان ہوتا ہے۔ مرد جو پہلے یونانیوں کی فوجی وردی جیسا لباس پہنتے تھے، چترال اور پشاور کے راستے سے آنے والے سیاحوں کی دیکھا دیکھی شلوار قمیص پہنتے اور اونی ٹوپی لازمی اوڑھتے ہیں جس پر کسی پرندے کا پر لگا ہوتا ہے۔

اگر ہم اپنا سفر پشاور سےشروع کریں تو یہاں سے 365کلومیٹر کے فاصلے پر چترال واقع ہے جس کا سفر بارہ گھنٹے میں طے ہوتا ہے جبکہ یہی سفر راولپنڈی کے پیر ودھائی کے بس اڈے سے چودہ گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے، جہاں سے مزید 35کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے دو گھنٹے کے سفر کے بعد کیلاش کی وادی پہنچتے ہیں۔ کیلاش تین چھوٹی چھوٹی وادیوں بمبوریت، بریر اور رامبور پر مشتمل ہے۔ پشاور سے چترال تک قومی ایر لائن کی فوکر سروس بھی موجود ہے لیکن مہم جو لوگ زمینی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ پشاور سے کوسٹر کے ذریعے مردان سے ہوتے ہوئے چکدرہ پہنچتے ہیں۔ اگر یہاں سے سیدھے چلتے جائیں تو مینگورہ (سوات) پہنچ جائیں گے جبکہ بائیں جانب مڑ کر دو گھنٹےمزید سفر کرنے کے بعد دیر آئے گا جس کے بعد لواری ٹاپ کی دشوار گزار چڑھائی شروع ہوتی ہے جو ساڑھے دس ہزار فٹ بلند درہ ہے۔ لواری ٹاپ کے پر خطر راستے پر سفر کرتے ہوئے 66موڑ آتے ہیں۔ پگڈنڈی نما تنگ سی سڑک کے ایک جانب فلک بوس پہاڑ جبکہ دوسری جانب ہزاروں فٹ گہری کھائیاں ہیں اور ذرا سی انسانی غلطی انہیں موت کی گھاٹیوں میں لے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔ خوبصورت وادیاں، انتہائی نزدیک سے گزرتے ہوئے بادل، آبشار اور گلیشئرز سفری صعوبتوں کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ یہ راستہ برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سال میں صرف تین ماہ کھلا رہتا ہے، سابقہ دور حکومت میں چترال تک باآسانی سفر اور تجارت کی غرض سے ایک سرنگ بنائی گئی ہے جس سے آمدورفت بہت سہل ہوگئی ہے۔ چترال سے بذریعہ کوسٹر آیون پہنچتے ہیں، وہاں سے کیلاش کے لیے مزید سفر شروع ہوتا ہے۔ جوں جوں وادی کیلاش قریب آتی ہے، قدرت کی صناعی کے شاہکارنظر آنے لگتے ہیں۔ سر سبز و شاداب وادیاں، چیختا چنگھاڑتا ہوا دریا، ندی، شفاف پانی کے نالے سفر میں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ کیلاش کی وادی میں داخلے سے قبل دریا کے اوپر بنا ہوا لکڑی کا ایک پل آتا ہے، جسے عبور کرنے کے بعد ایک عمارت کے سامنے مسافر گاڑیاں ٹھہر جاتی ہیں کیوں کہ یہ چیک پوسٹ کی عمارت ہے جہاں وادی کیلاش میں داخل ہونے سے قبل ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ بمبوریت کی وادی کے اطراف بلند وبالا پہاڑ ہیں۔ یہاں فش فارمنگ بھی ہوتی ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کا فارم بھی ہے۔ یہاں سے ایک سڑک دریائے کنہار کا پل عبورکرکے افغان بارڈر تک جاتی ہے ۔ بمبوریت سے رامبور کا فاصلہ 11کلومیٹر اور بریر 5کلومیٹر دور رہ جاتا ہے۔

بمبوریت میں مسلمانوں کی کافی تعدادہے ۔ یہاں مساجد بھی موجود ہیں لیکن غیرمسلموں کی اکثریت اپنی دوہزار سالہ پرانی روایات پر قائم ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے پیراہن اور عقائد میں تبدیلی کی تو ان پر دیوتاؤں کا عذاب نازل ہوگا۔ ان کی تاریخ متنازع معلومات پر مبنی ہے۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق ان کی جنم بھومی سیام ہے جبکہ یونانیوں کا دعوی ہے کہ یہ لوگ چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کی فوج کے ان چند سپاہیوں کی اولادوں میں سے ہیں جو سکندر اعظم کی یونان واپسی کے بعد یہیں بس گئے تھے ۔ کیلاش کے باسیوں کی رگوں میں یونانیوں کا خون دوڑ رہا ہے۔ یونان کے وزیر اعظم پاپاندریو جب 1974 میں پاکستان کے دورے کے دوران وادی کیلاش پہنچے تو انہوں نے کیلاش کے باشندوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر کہا کہ ان میں یونانی دیوتاؤں کا حسن جھلکتا ہے اور انہیں دیکھ کر سکندر اعظم کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ بعض مؤرخین انہیں ہندی آریائی نسل کا بھی بتاتے ہیں۔ ان کی زبان یونانی، فارسی اور سنسکرت الفاظ پر مشتمل ہے۔

کیلاش میں ہر سال تین میلے منعقد ہوتے ہیں، جن میں خواتین ڈھول کی تھاپ اور شہنائی یابانسری کی دھن پر ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے ایک دائرے کی صورت میں رقص کرتی ہیں۔ اس دوران نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں ہوجاتی ہیں۔ ان میلوں میں سے موسم بہار کے آغاز پر جو میلہ منایا جاتا ہے اسے ’’جوشی‘‘ یا ’’چلم چشت ‘‘کا میلہ کہتے ہیں جس کا آغاز 4اور 5مئی کو ہوتا ہے۔ اس میں کیلاشی دوشیزائیں پھول چنتی ہیں، جو ایک دوسرے کو تحفے میں دیے جاتے ہیں۔ اس تہوار پر ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے اور دودھ و پنیر تبرک کے طور پر بھیجتے ہیں۔ دوسرا تہوار یا میلے کا نام ’’اچل‘‘ ہے جو جولائی کے وسط میں جو اور گندم کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتا ہے، اس میں بھی رقص و سرود کی محافل ہوتی اورضیافتیں دی جاتی ہیں۔ تیسرا تہوار یا میلہ جو دسمبر کے آخر میں ’’نئے سال کی آمد‘‘ کی خوشی میں منایا جاتا ہے اسے کیلاش کا سب سے بڑا میلہ کہا جاتا ہے ۔ جو ایک ہفتے جاری رہتا ہے۔ کیلاشی عقائد کے مطابق رقص ان کی مذہبی رسومات میں شامل ہے، لہذا کیلاش کی تینوں وادیوں میں باقاعدہ رقص گاہیں موجود ہیں جہاں پابندی کے ساتھ رقص کے اجتماعات ہوتے ہیں۔ اگر کسی کی موت واقع ہوجائےتو یہ لوگ لاش کسی کھلی جگہ رکھ کر دائرے کی صورت میں گیت گاتے ہوئے رقص کرتے ہیں، پھر مردے کو لکڑی کے تابوت میں رکھ کر کھلے آسمان تلے رکھ دیتے ہیں۔ کیلاشیوں کی عبادت گاہ کو ملوش کہتے ہیں جہاں خواتین نہیں جا سکتیں، جبکہ بشالینی جہاں عورتیں ایام زچگی گزارتی ہیں وہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے اور اگر کوئی مرد غلطی سے اس مقام کی طرف چلا جائے تو اسے بطور سزا قربانی دینی پڑتی ہے۔ سورج اور چاند گرہن کو یہ دیوتاؤں کا عذاب سمجھتے ہیں جسے ٹالنے کے لیے یہ بکروں کی قربانی دیتے ہیں۔
کیلاش میں سیاحوں کی رہائش کے لئے بے شمار قدیم و جدید ہوٹل موجود ہیں۔ قدیم ہوٹل چوبی لکڑی کی عمارتوں میں بنائے گئے ہیں جب کہ جدید ہوٹل دور حاضر کی تمام سہولتوں سے آراستہ ہیں لیکن وادی کیلاش کا حسن صرف اس کی قدیم روایات میں ہی پنہاں ہے اور یہاں سیاحت کے لیے آنے والے لوگ کافرستان کے باسیوں کا روایتی حسن اور ان کی قدیم تہیذیب، طرز معاشرت اور بود و باش کا مشاہدہ کرنے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر طویل اور دشوار گزار سفر کرکے وادی کیلاش آتے ہیں ۔ جس دن کیلاش کے باسیوں نے خود کو جدید تہذیب اور بودو باش میں مد غم کیا، سیاحوں کی کیلاش سے دلچسپی ختم ہوجائے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafi Abbasi

Read More Articles by Rafi Abbasi: 109 Articles with 80762 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2017 Views: 952

Comments

آپ کی رائے