الحاق پاکستان۔۔۔ اہل کشمیر کا غیر متزلزل عہد

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

نوازشریف کی نااہلی پر وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ فاروق حید ر کا ردعمل غیر منطقی اور جذباتی تھا۔ جس کے جواب میں عمران خان اور اس کے حواریوں نے فاروق حیدر سے زیادہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر شائستہ زبان استعمال کی۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نہ راجہ فاروق حیدر کشمیر ہے اور نہ عمران خان پاکستان ہے۔ یہ دونوں غیر شائستہ سیاسی کلچر میں پروآن چڑھے ہوئے سیاستدان ہیں۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو پاکستان کی اندرونی سیاست میں حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔پاکستان ہماری امنگوں کا مرکز اور محور ہے۔ ہمیں پاکستان سے غرض ہے پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی راہنماوں سے نہیں۔اس طرح پاکستان کے سیاست دانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ کشمیری عوام کو چھوٹے بھائیوں کی طرح دیکھیں اور ان کے اندرونی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی الٹ پلٹ جاری رہتی ہے۔ اقتدار کے پچاری سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہتے ہیں۔ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، ریاست جموں وکشمیر کے شہری اور وزیراعظم کے طور پر راجہ فاروق حیدر کو وہ کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا، جو انہوں نے پریس کانفرنس میں کہہ دیا۔

نوازشریف کی نااہلی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ پاکستان سے محبت کا تقاضا ہے کہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔ خود نواز لیگ نے جیسے تیسے سب کچھ تسلیم کیا اور کسی طرح کی مزاحمت کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے کونسی قوت کار فرما ہے، نواز شریف سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ تسلیم کیا اور وزارت اعظمی کی قربانی دے دی۔ ایسے میں راجہ فاروق حیدر کو بھی عدالت اعظمی کے فیصلے کی بناء پر نوازشریف کی نااہلی پر اس قدر برہم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے جذباتی پن نے اہل کشمیر کو شرمسار کیا ہے۔ پاکستان سے الحاق کو نوازشریف سے جوڑنا ، کہاں کی عقل مندی ہے؟

عمران خان جموں و کشمیر پر پاکستان کے مسلمہ موقف کے حامی بھی نہیں، انہیں کشمیر کی حساسیت کا اندازہ ہی نہیں اور نہ انہیں کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت کا اندازہ ہے۔ اگر وہ کچھ جانتے ہوتے تو قائداعظم کے فرمان " کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" کے الرغم تقسیم کشمیر کی بات نہ کرتے۔ وہ بیچارہ تو سیاسی فہم و فراست کے اعتبار سے کورا ہے۔ راجہ فاروق حیدر کو عمران خان کے کشمیر بارے موقف پر بات کرنا چاہیے تھی، اس موقع پر تو راجہ صاحب جذباتی نہیں ہوئے لیکن نوازشریف کی نااہلی پر آپے سے باہر ہوگئے۔

عمران خان پاکستان کے ترجمان نہیں اور نہ وزیراعظم ہیں، اس لیے ہمیں عمران خان کے غیر شائستہ بیانات کو پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے میں رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے۔ اگر کبھی عمران خان گمراہ بھی ہوگئے تو ہم انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کریں گے اور پاکستان کو مضبوط اور مستحکم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

عمران خان تو بڑکیں مارتے ہیں، جبکہ پاکستان کے ہر شہر اور ہر گاوں سے نوجوانوں نے اپنا گرم خون دے کر تحریک آزادی کشمیر کی آبیاری کی ہوئی ہے۔ ہمارا رشتہ نظریے اور فکر کے ساتھ ساتھ خون کا رشتہ بھی ہے۔ قربانیوں کی لازوال داستان اور سرخ خون کے مضبوط پیوند میں باندھے ہوئے ہیں۔ ہم قائداعظم ?، چوہدری رحمت علی? اور علامہ اقبال? کے پاکستان کے وارث ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے اور ہم
پاکستان کے ہیں۔ ہمارے اس رشتے کو کسی کی بڑھ کمزور نہیں کرسکتی۔ ہمارے وزیراعظم بھی پکے اور سچے پاکستانی ہیں، بس بغض عمران نے انہیں عدم توازن سے دوچار کردیا۔ تاہم عمران کے بعض حواری معاملے کو مزید خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہیں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

سچی بات تو یہی ہے کہ پہلا پتھر راجہ فاروق حیدر نے پھیکنا اور پھر اس سے اٹھنے والے چھینٹے سمیٹے نہیں جا رہے۔کشمیر ایک حساس خطہ ہے، بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیر ی ستر سالوں سے الحاق پاکستان کی بنیاد پر جدوجہد کررہے ہیں۔ یہ جدوجہد محض زبانی جمع خرچ نہیں لاکھوں نوجوانوں کی شہادتیں، عصمتوں کی قربانیاں اور ستر سال سے مسلسل عدم تحفظ اور مالی بربادی سے دوچار کشمیر ی پاکستان کے بارے میں بہت حساس ہیں۔ آج کشمیر میں شہید ہونے والے ہر کشمیر کو پاکستان کے پرچم میں کفن دیا جاتا ہے۔ اس لیے کشمیر کے حوالے پاکستان کے سیاستدانوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ریاست جموں وکشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام الحاق پاکستان پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ یہ سالوں پہلے خوب سوچ سمجھ کر ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کردیا تھا۔ اس لیے الحاق کو کسی امر سے مشروط نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی غلط پالیسیوں سے کشمیری کتنی بار مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر سے کسی نے شکوہ تک زبان پر نہیں لایا۔ افراد سے اختلاف ہو سکتا ہے، نظرئیے اور فکر سے نہیں۔ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم تھا اور قائم ہے اور کشمیری اسی رشتے کی بنا پر پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گئے۔ کوئی گماشتہ ہمارے اس تعلق کو غیر متزلزل نہیں کرسکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atta ur Rahman Chohan

Read More Articles by Atta ur Rahman Chohan: 125 Articles with 64877 views »
عام شہری ہوں، لکھنے پڑھنے کا شوق ہے۔ روزنامہ جموں کشمیر مظفرآباد۔۔ اسلام آباد میں مستقل کالم لکھتا ہوں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل .. View More
03 Aug, 2017 Views: 371

Comments

آپ کی رائے