بھارتی دراندازی اور بھارت چین تنازعہ

(Tanveer Awan, Islamabad)

مقبوضہ کشمیر کے بعد بھارت نے چین اور بھوٹان کے درمیان متنازعہ علاقہ ڈوکلام میں بھی دراندازی کرکے خطہ کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے،جب کہ بھارت نے رواں سال جون میں اپنی فوجیں اس وقت چینی علاقے میں داخل کیں جب چین، بھارت اور بھوٹان کی سرحدوں کو آپس میں ملانے والے اپنے علاقے میں ایک سڑک تعمیر کر رہا تھا یادرہے کہ یہ علاقہ بھارتی ریاست سکم سے ملتا ہے،چین کی طرف سے جاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جون 2017 کو چین ڈوکلام علاقے میں سڑک بنا رہا تھا کہ 18 جون کو 270 سے زیادہ انڈین فوجی ہتھیاروں سمیت دو بلڈوزر لے کر سکم سیکٹر سے ڈوکلام کے نزدیک سرحد پار پہنچےجب کہ انڈین فوجی سڑک بنانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مقصد سے چینی علاقے میں 100 میٹر اندر تک گھس آئے، اس وقت ان فوجیوں کی تعداد 400 کے قریب تھی۔‘

دستاویز میں دعوی کیا گیا ہے کہ 'انڈین فوجیوں نے وہاں تین خیمے گاڑ دیے اور چین کی سرحد میں 180 میٹر اندر تک گھس گئیں ،یاد رہے کہ چین نے تبت کو 1959میں اپنی مملکت میں شامل کرکے ڈوکلام جو تبت کا حصہ ہے،اپنے زیر تسلط لے لیا تھاجب کہ چین کے شائع ہونے والے تمام نقشوں میں ڈوکلام چین کا حصہ دیکھایا جاتا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ تنازعہ کا پس منظر دیکھا جائے ہے کہ ڈوکلام کے علا قے میں سکم(بھارت)، چین اور بھوٹان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں جب کہ بھوٹان اور چین کی سرحد 470 کلو میٹر طویل ہےاور اس میں چین کا دعویٰ ہے کہ 269 مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلی ڈوکلام سطح مرتفع اس کا علاقہ ہے،جس کو بھوٹان ایک عرصہ سے رد کرتا چلا آرہا ہے ،1988 میں چین اور بھوٹان کے درمیاں اس حوالے سے معاہدات پر دستخط بھی کئے گے تھے،اسی طرح دوسری جانب چین اور بھارت کے مابین بھی ایک گھمبیر سرحدی تنازع موجود ہے،اس حوالے سے بھارتی دعویٰ ہے کہ چین میں شامل علاقہ آکسائی چن ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے جب کہ چین بھارت کے زبردستی ریاست اروناچل پردیش پر قبضہ کے حوالے سے شاکی ہے یہ ریاست تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے چین کا حصہ ہے یاد رہے کہ 1962 میں اس سرحدی تنازع کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین جنگ بھی ہوچکی ہے۔اگر بنظر غائر سارے معاملے کو دیکھا جائے توبھوٹان اور چین کے تنازعہ کے درمیاں انڈیا کی دراندازی کسی صورت درست نہیں ،چونکہ بھارت پہلے ہی 70 سا ل سےوادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ، کشمیری عوام پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے اور ان کے حق خود ارادیت کو دبانے کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ،اگر اسی متنازعہ فیہ علاقہ میں پاکستان ،چین کو دراندازی کی دعوت دے دیتا ہےاور چینی افواج کے وادی کشمیر میں اترنے کے بعد خطے کے حالات کس سمت جائیں گے اس کا ادراک ہر ذی شعور بخوبی کرسکتا ہے،اس لیےبھارت نے جہاں بھوٹان ،چین تنازعہ کا حصہ بن کر سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے وہیں بھارتی وزارت برائے خارجہ امور کے بیان " بھارت بھوٹان کی درخواست پر اس کی مدد کیلئے دوکلام میں سکم بارڈر پر مداخلت کررہا ہے،"کے رد عمل میں " چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی برادری کی بہت زیادہ توجہ حاصل ہورہی ہے جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں ،مقبوضہ کشمیر میں بھارت اپنی جارحیت بند کرے ورنہ سخت اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان کی حمایت میں چین فوج مقبوضہ کشمیر میں اتار سکتاہے اور اس سلسلے میں بھارت تیار رہے" مودی سرکار کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔

اب وقت آن پہنچا ہے کہ بھارت کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر خطے میں جاری جارحیت کو ختم کرنا ہوگا ورنہ حالات بڑی تیزی سے مکافات عمل کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141079 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
11 Aug, 2017 Views: 403

Comments

آپ کی رائے