14 اگست جشن آزادیٔ پاکستان

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )

14/ اگست کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور اہم ترین دن ہے جس میں ہمارا یہ وطن عزیز ملک پاکستان عدم سے وجود میں آیا ، اور مسلمانانِ ہند نے انگریزوں ، ہندوؤں اور سکھوں کے چنگل سے آزادی کا پروانہ حاصل کرکے ایک آزاد اور خود مختار مملک اسلامی کی بنیاد رکھی ۔ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ میں یہ عظیم دن مدتوں یاد رکھا جائے گا ۔

اِس دن پورا ملک ، کیا شہر کیا دیہات ، کیا مارکیٹیں کیا بازار ، کیا گلیاں کیا در و دیوار ٗ ہر چہار سو ’’ بقعہ نور‘‘ نظر آتے ۔ کم سن بچے اور بچیاں شادیانے بجاتے ہیں ، نغمے گاتے ہیں ، اپنی معصوم آواز میں گنگناتے ہیں۔ عورتیں گھروں میں خوشیاں مناتی ہیں ، رنگ برنگے کھانے تیار کرتی ہیں اور مختلف قسم کے ملبوسات میں ملبوس ہوتی ہیں ۔ نوجوان اپنی اُبھرتی جوانی میں مخمور وطن عزیز ملک پاکستان کی محبت میں سڑکوں ، محلوں اور پبلک مقامات پر شاداں و فرحان ٹہلتے اور چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں ، بڑے بوڑھے اور معمر ترین بزرگ حضرات قیام پاکستان سے متعلق اپنے چشم دید حالات واقعات اورمشاہدات و تاثرات سے رطب اللسان نظر آتے ہیں ۔ بلا شبہ آزادیٔ پاکستان کا یہ عظیم ترین دن نونہالانِ وطن اور باشندگانِ پاکستان کے لئے کسی بھی نعمت و دولت سے کم نہیں اور اس کے بارے میں بجا طور پر کہاجاسکتا ہے کہ یہ دن پاکستان کے مسلمانوں کی معراج کا عظیم ترین دن ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امر نہایت ہی اہم اور ضروری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نئی نسل کو قیام پاکستان کے حوالہ سے اِس کی الم ناک داستانوں ، جگر خراش واقعات اور جاں گداز حالات کے پس منظر میں اس کے وہ اہداف و مقاصد بھی مکمل طرح بیان کریں کہ جن کی بنیاد پر ہمارے اکابرین نے آگ و خون کے دریا عبور کرکے حصولِ پاکستان کی نعمت یقینی بنایا اور ہمیں ایک الگ خطہ ، ایک علیحدہ ملک اور ایک جدا گانہ مملکت کا نہایت ہی گراں قدر تحفہ پیش فرمایا ، تاکہ کہیں وہ اس کی پیش منظر رونقوں ، سجاوٹوں ،آسائشوں ، آرائشوں اور زیبائیوں میں گم ہوکر اِس کے پس منظر کی لہو رنگ تاریخ ساز داستان کا انکار کرکے اس کے ڈھانچے سے اس کی رُوح کوہی عنقاء نہ کردیں ۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی نو جوان نسل کو ہندوؤں ، سکھوں اور انگریزوں کی دسیوں مخالفتوں اور بیسیوں سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ، لاکھوں جانوں ، کروڑوں عصمتوں اور اربوں کی جائیداد کی قربانی دے کر بانیانِ پاکستان کے اِن تمام تر حالات و واقعات سے قطعاً نا آشنا رکھاہے ، جس کے نتیجہ میں وہ آج نہایت ہی معصومی سے یہ سوال کرتے ہے کہ انڈیا کو کیوں توڑا گیا اورپاکستان کیوں بنایا گیا ، کیا اچھا ہوتا اگر ہم اکٹھے رہتے ، یا دوبارہ اکٹھے کردیئے جاتے؟ لہٰذا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو قیام پاکستان کے اہداف و مقاصد اور اُس کی لہو رنگ الم ناک داستان سے خبر دار کریں۔

1680ء میں برصغیر میں انگریز نے اپنا ناپاک قدم رکھا اور 1857ء میں برصغیر سے مسلمانوں کی حکومت کا بالکلیہ خاتمہ کردیا،اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانا شروع کردیے ، لاکھوں مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے شہید کیا گیا ، اُن کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں، اُن کو اپنا غلام بنالیا گیا ، نتیجتاً مسلمانوں کا کاروبار تباہ ہوگیا ، عیش و عشرت لُٹ گئی ، غربت و افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے، جلتی پر تیل کا کام دینے کے لئے انگریزوں نے ملک میں انگریزی تعلیم لازمی قرار دے دی ، اسکولوں سے عربی اور فارسی کو نکال دیا اور ساتھ ہی جمعہ کی نماز کے لئے چھٹی دینے سے انکار کردیا ، جواباً مسلمانوں نے بھی انگریز کی بود و باش ، رہن سہن اور اُن کی تعلیم و تربیت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کردیا اور اس طرح مسلمانوں کو انگریز سرکار کی نوکری سے بھی اپنے ہاتھ دھونے پڑے ، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان تعلیم و تربیت ، معاشرت و معیشت اور سیاست و حکومت کے لحاظ سے مکمل طرح رُو بہ زوال ہوگئے ۔

لیکن دوسری طرف مکار ہندوانگریز وں کی خایہ برداری ا و ر اُن کی چاپ لوسی کرکے راجہ موہن رائے جیسے ہم درد اور مخلص رہنما ء کی بدولت انگریزی تعلیم حاصل کرنے لگے ، اُن کی وضع قطع ، بود و باش ، ہیئت و کیفیت ، حرکات و سکنات غرضیکہ زندگی گزارنے کے تمام طور طریقے انگریز آقاؤں کے سانچوں میں ڈھالنے لگے ، تاآں کہ وہ انگریزوں کے نورِ نظر اور اُن کے اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئے ، اور اس کے صلہ میں انگریز آقاء نے اپنی تمام تر عنایتیں اور مہربانیاں ان پر نچھاور کردیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ کٹھ پتلی حزب اختلاف اور ہندو مفاد پرست جماعت کی تشکیل کے لئے انگریز قانون دان ہیوم نے ’’آل انڈیا نیشنل کانگریس‘‘ کی بنیاد رکھ دی، جو بظاہر تو ’’ہندو مسلم‘‘ دونوں کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی تھی ، مگر اصل میں درِ پردہ وہ صرف ہندو مت کی نمائندہ جماعت تھی، جو خود کو انگریز کا بیٹا اور اُس کا نورِ نظر مانتی تھی اور انگریز کے بعد ہندوستان میں ہندو راج قائم کرکے مسلمانانِ ہند کو اپنے زیر تسلط رکھ کر اُنہیں اپنا غلام بنانا چاہتی تھی ۔

جنگ آزادی 1857ء کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ اس کے دس سال بعد 1867ء میں ہندوؤں نے ایک اور فساد کا بیج بودیا اور لسانی تحریک شروع کردی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ ادو زبان کی جگہ ہندی زبان کو سرکاری و عدالتی زبان کے طور پر رائج کیا جائے اور عربی رسم الخط کی جگہ دیونا گری رسم الخط کو اپنایا جائے ۔ کئی مسلمان رہنماؤں نے ہندوؤں کو سمجھانے کی کوشش کی اور اُن پر واضح کیا کہ اردو زبان انڈو اسلامک آرٹ کا ایک لازمی جزو بن گئی ہے ، کوئی لاکھ بار چاہے تو بھی جنوبی ایشیاء کے ثقافتی ورثہ سے اس انمول ہیرے کو نکال باہر نہیں کرسکتا ، مگر ان دلائل کا ہندوؤں پر کچھ بھی اثر نہ ہوا ، یہاں تک کہ علی گڑھ مکتبہ فکر کے بانی سرسید احمد خان نے بھی اپنی تمام تر مصالحتی کوشش کیں ، لیکن وہ بھی بری طرح ناکام رہے ، یہاں تک کہ اردو اور ہندی کے درمیان اس قضیے کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات کی صورت میں رُونما ہوا ۔

سرسید احمد خان اردو ہندی کے اس جھگڑے سے پہلے ہندو مسلم اتحاد کے بڑے علم بردار تھے اور متحدہ قومیت کے حامی تھے ، لیکن اس جھگڑے کے باعث انہیں بھی اپنے سیاسی نظریات یکسر تبدیل کرنا پڑے ، اور وہ ہندو مسلم اتحاد کے مخالف ہوگئے اور ہندوستان میں متحدہ قومیت کے بجائے مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کے عظیم پیامبر بن کر اُبھرے۔

علی گڑھ مکتبہ فکر کے قائدین نے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کواُس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اُن کا استدلال تھا کہ ’’ دو قومی نظریہ‘‘ ہی کی بنیاد پر مسلمانِ ہند اپنے دائمی حلیفوں کی دائمی غلامی اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔ چنانچہ اس نظریہ کے حامی رہنماؤں نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے نام سے مسلمانانِ ہند کے لئے ایک الگ نمائندہ سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا۔

1906ء سے لے کر 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست کا مرکز ’’دو قومی نظریہ‘‘ ہی رہا ہے ، اس دوران آل انڈیا کانگریس ، ہندو مہا سبھا ، دیگر ہندو تنظیموں اور ہندو رہنماؤں نے اپنی تمام تر کوششیں ، حربے ، اور چالیں کرکے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ کسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین کو ’’دو قومی نظریہ‘‘ سے برگشتہ کرسکیں اور اس نظریہ کو غلط مفروضہ کے طور پر پیش کرسکیں ،لیکن وہ اپنی اس سعیٔ پیہم بری طرح ناکام رہے اور اُنہیں منہ کی کھانی پڑی ۔

1920ء میں ہندوؤں کے مشہور لیڈر سوامی ستیہ دیو نے کہا کہ : ’’قرآنِ مجید کی تعلیم اقوام عالم سے نابود کردی جائے اور اُس کی جگہ ’’ راشٹر دھرم‘‘ کی تعلیم مسلمانوں کو دی جائے ۔چنانچہ 1925ء کے ملک گیر ہندو مسلم فسادات کے بعد ہندو مسلم اتحاد کے لئے ستیہ دیو ہری پراجک نے جو شرائط پیش کیں وہ اس طرح سے تھیں:
1- قرآنِ مجید کو اسلامی کتاب نہ سمجھا جائے ۔
2- حضرت محمد ؐ کو اﷲ تعالیٰ کا رسول نہ مانا جائے۔
3- عرب وغیرہ کا خیال دل سے نکال دیا جائے ۔
4- سعدی و رومی کی تصانیف کے بجائے ’’تلسی کبیر داس‘‘ کی تصانیف کو زیر مطالعہ رکھا جائے۔
5- اسلامی تہواروں پر تعطیلات کے بجائے ہندو تہوار اور تعطیلات منائی جائیں ۔
6- تمام عبادات عربی زبان کے بجائے ہندی زبان میں کی جائیں وغیرہ وغیرہ۔
1925ء میں ہندوؤں کی متعصب مذہبی تنظیم ’’ہندو سنگھٹن‘‘ کے پروفیسر ہردیال نے اخبارات میں یہ پیغام چھپوایا کہ : ’’ہندو اور مسلمان‘‘ ہندوستان میں صرف اِسی صورت میں آپس میں مل جل کر رہ سکتے ہیں کہ حکومت ہندو ؤں کی ہو اور مسلمان اُس کی رعایا ہوں ۔ ہندو سنگھٹن کو صرف دو کام کرنے ہیں :’’ ایک ہندو سوراجیہ (یعنی آزادی) اور دوسرا شدھی (یعنی مسلمانوں کو ہندو بنانا ) جب تک سارا ہندوستان مسلمانوں کے وجود سے پاک نہیں ہوگا ، ہم کبھی چین سے نہیں سوسکیں گے ۔‘‘

1927ء میں ہندوؤں کے انتہائی معتبر رہنما ’’پنڈت بال گنگا دھر تلک‘‘ نے اپنے مرنے سے پہلے مہاتما گاندھی کو پیغام بھجوایا کہ : ’’ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا کہ جس طرح بھی ہوسکے ہندوستان کی سب جائیدادیں ہندوؤں کے قبضہ میں آجائیں ، پھر صرف حکومت حاصل کرنے کا ایک مسئلہ باقی رہ جائے گا ، جس کا حل بالکل آسان ہوگا۔ ‘‘

1929ء میں راشٹریا سیوک سنگھ کے سربراہ گوالکر نے کہا کہ : ’’تمام بدیشی (یعنی غیر ہندو) اقوام کو ہندو تہذیب اور ہندو زبان اختیار کرنی پڑے گی ، اُن کے ذہنوں میں ہندو نسل اور تمدن کی حمد و ثناء اور تعظیم و تکریم کے سوا کوئی اور خیال جنم نہیں لینا چایئے ! اُنہیں اپنی انفرادیت ختم کرکے ہندو نسل میں گم ہونا پڑے گا ۔‘‘

الغرض اس قسم کے حالات و واقعات سے تنگ آکر مسلمانانِ ہند نے اپنی تمام تر سوچیں اِس نقطہ پر مرکوز کرنا شروع کردیں کہ اگر مسلمانوں نے عزت و آبرو کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور اپنے دین و مذہب اور تہذیب و روایات کو بچانا ہے تو پھر اُنہیں برصغیر ( ہندوستان) میں ایک الگ خطہ ، ایک الگ ملک اور ایک الگ مملکت درکار ہوگی، جہاں رہ کر وہ اپنے دین و مذہب اور تہذیب و روایت کے عین مطابق اپنی زندگی ہندو چیرہ دستیوں سے محفوظ و مامون گزار سکیں اور ہندوؤں کے ستم اور مظالم سے بچ کرسکھ کا سانس لے سکیں ۔

اس قسم کی سوچ کا سب سے پہلے اظہار 1928ء میں مولانا اشرف علی تھانویؒ نے کیا ، پھر 1930ء میں علامہ ڈاکٹر اقبال اور مولانا محمد علی جوہر نے کیا ، پھر 1933ء میں چوہدری رحمت نے کیا اور پھر آہستہ آہستہ یہ مسلمانانِ ہند کی اجتماعی سوچ بن گئی۔

1930ء میں مصور پاکستان علامہ اقبال نے الٰہ آباد کے مقام پر ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے اکیسویں سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کی خوب کھل کر وضاحت کی ، بلکہ مسلمانانِ ہند کے لئے ہندوستان میں ایک الگ مملکت کے قیام کی پیشین گوئی بھی کردی ۔

دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے دوران علامہ اقبال نے قائد اعظم سے کئی ایک ملاقاتیں کیں ، جن کا بنیادی مقصد ’’دو قومی نظریہ‘‘ کی بنیاد پر مسلمانانِ ہند کے حقوق کے تحفظ کے لئے کوئی مؤثر حل تلاش کرنا تھا ۔ چنانچہ 1936ء سے لے کر 1938ء تک دوسالوں میں علامہ اقبال نے قائد اعظم کے طرف جو خطوط لکھے اُن میں بھی دو قومی نظریئے کا عکس صاف اور نمایاں طور پر واضح نظر آتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح خود ’’دو قومی نظریہ‘‘ کے سب سے بڑے حامی تھے ، انہوں نے اِس نظریہ کی بنیاد پر نہ صرف ’’آل انڈیا کانگریس ‘‘ کے تاحیات صدر بننے کی گراں قدر پیش کش کو ٹھکرایا بلکہ مسلم نیشنلسٹ رہنماؤں کی بھی خوب کھل کر مخالفت کی ، لیکن ’’دو قومی نظریہ‘‘ کی صداقت پر کوئی حرف نہیں آنے دیا۔

بالآخر 23/ مارچ 1940ء کو مسلمانوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے آزادی کا باضابطہ مطالبہ کیا ۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 22/ مارچ 1940ء کی رات کو لاہور میں منعقد ہوا ، جس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ : ’’مسلمان ہر اعتبار سے ایک قوم ہیں ، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اُنہیں غلطی سے ایک اقلیت سمجھا جاتا ہے ……‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ : ’’حقیقت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ، دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے ، دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے ، اِن میں باہم شادیاں نہیں ہوسکتیں ، در اصل یہ دوالگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیاد متضاد تصورات پر قائم ہے۔‘‘یہی وہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ تھا کہ جس کی بنیادپر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک آزاد و خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی۔

دوسری جنگ عظیم (یکم ستمبر 1938ء تا 2ستمبر1945ء ) کے بعد اگرچہ تاجِ برطانیہ اپنے زیر تسلط علاقوں سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تھا اور اُس وقت کی ملکہ برطانیہ کی یہ خواہش تھی کہ حسب روایت پر ہندوستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھا جائے، لیکن صورت حال کچھ اس طرف جاچکی تھی کہ اب یہ قبضہ مزید برقرار رکھنا کسی بھی طرح ممکن نہ تھا ۔ چنانچہ جب انگریزوں نے دیکھا کہ ہندوستان پر اب مزید تسلط دُشوار ہوگیا ہے، تو اِن حالات میں فروری 1947ء میں ملکہ برطانیہ نے سرلارڈ ماؤنٹ بیٹن کو واسرائے ہند بناکر دہلی بھیجا اور اُسے یہ ہدف دیاکہ برصغیر (ہندوستان) سے قابض انگریزوں کا انخلاء اِس طرح سے عمل میں لایا جائے کہ ہندوستان کو تقسیم کرتے ہوئے 1948ء تک یہ تسلط ختم کردیا جائے ، لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن یہود نے اہل ہند ہنود کے ساتھ مل کر ایک گھناؤنی سازش کے تحت مؤرخہ 14/ اگست1947ء کو برصغیر کو اچانک تقسیم کرنے کا اس طرح فیصلہ کیا کہ پہلے 14/ اگست کو ہندوستان آزاد ہوگا اور پھر اس کے اگلے دن یعنی 15/ اگست کو پاکستان آزاد ہوگا ، لیکن توہم پرست ہندوؤں نے 14/ اگست کو منحوس تصور کرتے ہوئے اس دن کو پاکستان کی آزادی کے دن اور 15/ اگست کو ہندوستان کی آزادی کے دن کا منصوبہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دیا ۔

مؤرخہ 3/ جون 1947ء کو یہ تو سب کو معلوم تھا کہ امسال اگست کا مہینہ رمضان المبارک میں آئے گا، لیکن یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ 13 اور 14/ اگست کی درمیانی شب کو رمضان المبارک کی ستائیسویں شب ہوگی ۔ چنانچہ 13اور 14 / اگست کی درمیانی (یعنی ستائیس رمضان المبارک کی ) شب کو پہلے ریڈیو ڈھاکہ سے اور اُس کے ایک گھنٹہ بعد ریڈیو لاہور سے یہ اعلان نشر ہوا کہ ’’یہ ریڈیو پاکستان ہے۔‘‘اور اس طرح 14/ اگست 1947ء بمطابق 27/ رمضان المبارک کو ہمارا یہ پیارا وطن عزیز ملک پاکستان عدم سے وجود میں آیا۔

لیکن اس ملک کے عدم سے وجود میں آنے کی داستان بہت ہی جگر خراش اور جاں گداز ہے ۔ چنانچہ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان بنانے کے جرم میں ہندوؤں نے انتہائی وحشیانہ طریقہ سے دس لاکھ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا یا ، عورتوں اور بچوں کو گھروں کے اندر بند کرکے زندہ جلادیا گیا ، حاملہ عورتوں کو نیزوں سے چھیدکر اُنکے حمل گرادیئے گئے ،مسلمان عورتوں کو برہنہ کرکے اُن کے جلوس نکالے گئے ، نوجوان لڑکیوں سے زبردستی بدکاری کی گئی ، اُنہیں اُن کے رشتہ داروں کے سامنے موت کے گھاٹ اُتارا گیا، ہزاروں نوجوان عورتوں نے کنوؤں میں چھلانگیں لگاکر خود کشی کرلی ، کئی مسلمان عورتیں ہندوؤں اور سکھوں کے ہتھے چڑھ گئیں اور وہ تمام زندگی اُن کی لونڈیاں بن کر اُن کی خدمت کرتی رہیں اور بے نکاحی اُن کے بچے جنتی رہیں ، ایسے سینکڑوں کنویں بعد ازاں دریافت ہوئے جو مسلمان عورتوں کی نعشوں سے اٹے پڑے تھے ، مشرقی پنجاب کے اکثر و بیشتر مقامات پر مسلمان عورتوں کو اکٹھا کرکے برہنہ سڑکوں اور گلیوں سے جلوس کی شکل میں گزارا گیا اور پھر اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بعض کو کنوؤں میں اور بعض کو آگ کے الاؤ میں پھینکا گیا۔

ریاست ہائے پٹیالہ ، کپور تھلہ ، فرید کوٹ ، جنڈ اور نابھ میں آٹھ لاکھ تینتیس ہزار مسلمانوں میں سے تقریباً ستر اسی فی صد لوگوں کو بالکل ہی نیست و نابود کردیا گیا ، صرف پٹیالہ کے علاقہ میں اڑھائی لاکھ مسلمانوں کا نام و نشان مٹادیا گیا ، اور کپور تھلہ کے علاقہ میں تو شاید ہی کوئی مسلمان زندہ بچا ہو؟۔

15/ ستمبر 1947 کو اردیسہ سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے ایک لاکھ کے قافلہ میں سے صرف چار ہزار مسلمان زندہ بچ کر پاکستان پہنچ سکے ۔ ایک عینی شاہد کے مطابق 4سے 14/ ستمبر 1947ء تک نئی دہلی میں پچیس ہزار مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، نعشوں کو ٹرکوں میں بھر بھر کر وسط شہر میں لایا گیا اور پھر اُن پر پٹرول ڈال کر اُن کو جلا کر خاکستر کردیا گیا ۔

امرت سر کے ہال بازار میں برہنہ مسلمان لڑکیوں کا پورے شہر میں جلوس نکالا گیا ، پھر خیر الدین کی جامع مسجد میں آگ کے الاؤ سے بھڑکتے حوض کے پاس اُنہیں لے جایا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ: ’’ یہ ہے پاکستان کا راستہ !‘‘ چنانچہ پاکستان کی اِن زندہ دل اور غیور بیٹیوں نے اپنی عفت و عصمت کو بچانے کے لئے ایک دم سے اُس میں چھلانگیں لگادیں اور جاکر بھسم ہوگئیں۔

یہ تھی ایک ہلکی سی داستان اُن بانیانِ پاکستان کی کہ جو پاکستان کو اپنے خوابوں کی منزل اور خیالوں کا دیس سمجھ کر لٹے پٹے قافلوں ، اُجڑے بکھرے گھروں ،اور اپنے عزیز و اقارب کی لازوال و بے مثال قربانیوں کی صورت میں گرتے پڑتے کسی طرح یہاں پہنچ تو گئے تھے، لیکن ایک ٹھیٹھ اسلامی حکومت کا نقشہ انہیں یہاں دکھائی نہ دیا اور آج ستر سال کی تقریباً ایک پون صدی گزرجانے کے بعد بھی اُن کی دوسری اور پھر تیسری نسل کو بھی یہاں وہ اسلامی حکومت کا نقشہ دکھائی نہ دیا، بلکہ اربابِ اقتدار کے اُتار چڑھاؤ اور آئے دن حکومتوں کے نت نئے انقلابات نے اُن کی اِن لازوال و بے مثال قربانیوں اوراُن کے اِن نیک اور سچے خواب و خیالات کی حیثیت ایک لذیذ خواب سے زیادہ نہ چھوڑی ؂
بلبل ہمہ تن خون شد، وگل شد ہمہ تن چاک
اے وائے بہارے اگر ایں است بہارے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 7 Articles with 3026 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2017 Views: 195

Comments

آپ کی رائے