بھارت میں مسلمانوں پر تشدد

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 بھارت میں متعصب و انتہاء پسند ہندؤوں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر مختلف بے بنیاد الزامات لگا کر بہیمانہ تشدد اور قتل و غارت گری کا سلسلہ روزبروز بڑھتاہی جارہاہے۔ حال ہی میں جاری امریکی حکومت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں گا ئے کے تحفظ کے گروپوں کے ہاتھوں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں پہلی مرتبہ جاری بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی سرکاری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثر واقعات میں انتہاء پسند ہندو دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں بھارتی حکام ناکام رہے ہیں، جس پر سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی بی جے پی حکومت میں مذہبی اقلیتوں میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے احساس پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مذید کہا ہے کہ ہندو قوم پرست گروپس کی غیرہندو افراد پر تشدد، مذہبی محرکات پر مبنی ہلاکتیں ، حملے ، فسادات، امتیازی سلوک ، غنڈہ گردی اور مذہبی آزادی چھیننے کے کئی واقعات پیش آرہے ہیں۔ گائے تحفظ گروپس کے ہجوم کے ہاتھوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف کے تشدد کے واقعات، ہلاکتوں ، ، حملوں اور دھمکانے کے واقعات میں 2016 ء سے مذید اضافہ ہوا ہے۔‘‘

پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں انتہاء پسند ہندؤوں کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو سیاسی ، مذہبی، سماجی ، ثقافتی اور معاشرتی مسائل اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ اور اب امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی حالیہ رپورٹ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تمام مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے نام نہاد دعویدار کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کے سامنے عیاں کردیا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ دنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں عالمی طاقتیں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے واقعات سے آگاہی کے باوجود پراسرار طور پر خاموش ہیں ، اور بھارت میں انتہاء پسند ہندوؤں کی جارحیت رکوانے کے لئے عالمی سطح پر لب کشائی نہیں کی جارہی۔ان حالات میں نوبت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور مسلم اکثریتی علاقوں میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد ہے اور اس پابندی کو جواز بنا کر اور بے بنیاد الزامات لگا کر مسلمانوں کو تشدد کرکے قتل کیا جارہا ہے، جبکہ اس وقت بھارت میں ایک متشدد، تنگ نظر ، انتہا پسند ہندو تنظیم کی حکومت ہے جو کہ خطے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی حریف بنی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بین الاقوامی قوتیں جنگ لڑرہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ انتہاء پسندی اور مذہبی شدت پسندی عالمی امن کے لئے زبردست چیلنج اور بہت بڑا خطرہ ہے ، لیکن دوسری جانب بھارت جو سوا ارب سے زائد آبادی کا حامل ہے اور ایک ایٹمی ملک ہے عملاً ایک انتہاء پسند متعصب اور شدت پسند تنظیم کے تسلط میں جاچکا ہے جس پر کسی جانب سے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی جارہی۔ بھارتی ظلم وزیادتی پر استعماری طاقتوں کی پر اسرار خاموشی اور دوہرے معیار کی وجہ سے دنیا میں فساد ، انتشار اور بدامنی تیز ی کے فروغ پارہاہے ، اور عالمی امن کو لاحق خطرات کی شرح تیزی سے بلند ہورہی ہے۔ دنیا کا امن و سکون اور چین و اطمنان اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سوچ اور رویے میں تبدیلی اور دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کی طرح مسلمانوں کے انسانی حقوق کا ہر سطح پر خیال رکھا جائے۔ بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ رویے سے صرف وہاں بسنے والے مقامی اقلیتوں کے حقو ق ہی پامال نہیں ہورہے بلکہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک میں بھی بھارت کی بلاجواز دراندازی اور مداخلت جاری ہے جس سے ان ممالک میں امن ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے ۔پاکستان کے خلاف بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کی روش باہمی کشاکش کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے جو کسی طور دونوں ملکوں کے کروڑوں باشندوں کے بہتر مستقبل اور پر امن ماحول کے لئے سازگار نہیں ۔ بھارت اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہے اور اس کے لئے کسی بھی لحاظ سے تر نوالہ ثابت نہیں ہوسکے گا ، تاہم اندرونی اور بیرونی طور پر مملکت خداداد کے خلاف متواتر سازشیں اور ریشہ دوانیا ں کرکے اسے اس حد تک کمزورضرور کیا جاسکتا ہے کہ وقت آنے پر پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے نقص امن کا شکار قراردے کر اس کی ایٹمی طاقت اور اقتصادی ترقی پر پابندیوں کا مطالبہ کرسکے۔لیکن پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کو بھارت کی مکروہ چالوں سے مکمل آگاہی حاصل ہے اور پاکستانی فوج اور اس کے سپہ سالار جنرل قمر جاویدباجوہ بھارت کی چال بازیوں کا تدارک کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں، اور بخوبی جانتے ہیں کہ وطن عزیز کے استحکام و بقاء کے لئے دشمن کی چالوں کو ناکام بنانا از حد ضروری ہے۔ امریکہ اور عالمی امن کے علمبرداروں کو چاہئے کہ وہ دوہرا معیار ترک کرکے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بے جا پابندیوں ، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کا نوٹس لیں۔ اور بھارت میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے پر پابندی سے استثنیٰ دلوائیں تاکہ کوئی انتہاء پسند کسی قوم اور مذہب کے ساتھ امتیازی سلوک رواء نہ رکھ سکے اور دنیا بھر میں پائیدار امن کا یقینی قیام عمل میں آسکے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 795 Articles with 348753 views »
Journalist and Columnist.. View More
22 Aug, 2017 Views: 224

Comments

آپ کی رائے