نظریہ پاکستان کا دفاع، اتحاد امت اور مسئلہ کشمیر کا حل ہمارا مشن ہے

(عابد محمود عزام, Lahore)
مسلم لیگ کے صدر سیف اﷲ خالد سے عابد محمود عزام کی خصوصی گفتگو

سیف اﷲ خالد حال ہی وجود میں آنے والی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ ملی مسلم لیگ نے اپنے قیام کے ساتھ ہی نہ صرف ملک کے اہم سیاسی مرکز حلقہ این اے 120میں یعقوب شیخ کی حمایت کا اعلان کر کے انتخابی سیاست شروع کردی ہے، بلکہ 2018ء کے الیکشن میں ملک بھر سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ملی مسلم لیگ بننے کے بعد سے سیف اﷲ خالد سیاسی میدان میں کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اﷲ خالد سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر پہنچے تو مختلف شہروں کا دورہ کرکے ابھی پہنچے ہی تھے، جبکہ وہاں پہلے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ایک وفد ملی مسلم لیگ میں شمولیت کے لیے موجود تھا۔ دو نشستوں میں سیف اﷲ خالد سے ملی مسلم لیگ کے قیام، اس کے منشور و اہداف، ملی مسلم لیگ کے رہنماؤں کے جمہوریت کے بارے میں موجودہ اور سابقہ نظریات میں تضاد، ملی مسلم لیگ کے سیاست میں آنے کی وجہ سے سیاست میں پہلے سے موجود مذہبی سیاسی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہونے کے خدشات، ملی مسلم لیگ کو درپردہ اسٹیبلشمنٹ کے تعاون، حلقہ این اے 120میں ملی مسلم لیگ کی سیاسی صورتحال، ملی مسلم لیگ کے قیام سے بھارت کے پروپیگنڈے سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو کی، جو نذر قارئین ہے۔

انٹرویو: عابد محمود عزام
روزنامہ اسلام:ملی مسلم لیگ کا صدر آپ کو بنایا گیا ہے۔ کیا اس سے پہلے آپ کا کوئی سیاسی تجربہ ہے؟ آپ کا سیاسی بیک گراؤنڈ کیا ہے؟
سیف اﷲ خالد:ہم ایک مدت سے مختلف ایشوز پر سیاست کر رہے ہیں۔ پہلے ہم نے دفاع پاکستان کونسل بنائی۔ اس میں نیٹو کی سپلائی کو روکنا، انڈیا کو موسٹ فیورٹ ملک قرار دینے کی مخالفت کرنا، انڈیا کو واہگہ کے راستے وسطی ایشیاء اور طور خم تک رسائی دینے اور دیگر ایشوز پر ہم نے سیاست کی ہے۔ مختلف جماعتوں کا اتحاد قائم کر کے ہم نے پورے ملک میں بڑے بڑے جلسے کیے ہیں۔ جلسے کرنے میں آرگنائزر کی ذمہ داری جماعت نے مجھے سونپی ہوئی تھی۔ اس دوران بہت سارے تجربات ہوئے کہ کس طرح جماعتوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ کس طرح ایشوز کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہ سمجھیں کہ تین دہائیاں میری سیاسی تربیت ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں جماعت نے ملی مسلم لیگ کی صدارت کی ذمہ داری مجھے سونپی ہے۔
روزنامہ اسلام: ملی مسلم لیگ کس منشور اور مشن کے ساتھ سیاست کے میدان میں اتری ہے؟ آپ کا کہنا ہے کہ ملی مسلم لیگ پاکستان کو حقیقی اسلامی اور فلاحی ملک بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں رہتے ہوئے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے گا؟
سیف اﷲ خالد: ہم نے چند اہداف طے کیے ہیں۔ ہمارا پہلا ہدف نظریہ پاکستان کو پاکستان میں رائج کرنا، دوسرا ہدف پاکستان میں موجود مستحقین اور محروم طبقے تک وسائل کو پہنچانا، امراء سے عطیات لے کر غربا، یتامی، مساکین، سیلاب زدگان، مصیبت زدگان اور دیگر مستحقین تک پہنچانا ہے۔ یہ ہماری سیاست کا بہت بڑا ہدف ہے۔ تیسرا ہدف اتحاد امت اور چوتھا ہدف کشمیر کا مسئلہ کہ اسے یو این اے کی قرار دادوں کی روشنی میں عالمی شعور اجاگر کرنا اور اس مسئلے کو حل کروانا ہے۔ یہ تو ہمارے چار اہداف ہوگئے، جن پر ملی مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا ہے۔ باقی جمہوریت کا معاملہ یہ ہے کہ ایک تو مغرب کی جمہوریت ہے، جس میں اﷲ تعالیٰ کی ذات کا نام تک نہیں۔ جو مادر پدر آزاد ایک نظام ہے، جبکہ ایک ہمارے ملک کا نظام ہے۔ قرار داد مقاصد اور تہتر کا آئین پڑھیں تو پتا چلے گا کہ پاکستان کا دستور ایک شاندار دستور ہے۔ تمام مسالک کے علمائے کرام نے سر جوڑ کر قرار داد مقاصد کا خاکہ تیار کیا۔ اگر اس پر صحیح معنوں میں عمل ہوجائے تو پاکستان ایک فلاحی اسلامی معاشرہ بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں ادھر ادھر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو ہمارا دستور اور قرار داد مقاصد ہیں، اس میں یہ طے ہے کہ کتاب و سنت کے برعکس کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ اس پر عمل درآمد ہم نے کروانا ہے۔ ان شاء اﷲ۔
روزنامہ اسلام: ملی مسلم لیگ کو جماعۃ الدعوہ کی ذیلی تنظیم سمجھا جارہا ہے، جبکہ جماعۃ الدعوۃ کے نزدیک جمہوریت کو کچھ عرصہ قبل تک غیر اسلامی اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا، وہی جمہوریت اب اسلامی اور فلاحی ریاست بنانے میں کس طرح معاون بن سکے گی؟
سیف اﷲ خالد: اس پر ہم نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جتنی کتابیں اور لٹریچر لکھا ہے یا ذہن سازی کی ہے۔ وہ اس جمہوریت کے حوالے سے کی ہے، جس جمہوریت کی تعریف یہ ہے: Government of the people, by the people, for the people (عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے) یہ تعریف پیش کرکے ہم نے کہا یہ غلط ہے۔ حکم کا اختیار صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اس موقف پر ہم کل بھی قائم تھے اور آج بھی قائم ہیں۔ دستور پاکستان میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ مملکت خداد ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس میں بالاتر قانون کتاب و سنت کا ہے۔ یہ مغرب کی جمہوریت نہیں ہے۔ ہم تو مغرب کی جمہوریت کو رد کرتے ہیں۔ پاکستان کے نظام اور دستور میں جہاں جمہوریت کا لفظ آیا ہے، وہ شورائیت کے مفہوم میں آیا ہے۔ شوریٰ کا حکم تو اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی دیا ہے۔ یہ مغرب کی آلودہ قسم کی جمہوریت نہیں ہے۔ مغرب کی جمہوریت کو تو ہم کل بھی رد کرتے تھے اور آج بھی رد کرتے ہیں۔
روزنامہ اسلام: وطن عزیز میں پہلے سے بہت سی مذہبی جماعتیں سیاست کے میدان میں تقریباً وہی منشور لے کر کام کر رہی ہیں، جو منشور ملی مسلم لیگ نے پیش کیا ہے تو پھر ایک نئی جماعت کی ضرور ت کیوں محسوس کی گئی؟
سیف اﷲ خالد: تمام جماعتیں اپنے اپنے دائرے اور اپنے اپنے طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ ہم کسی کا رد نہیں کرتے۔ ہر ایک کے اپنے اہداف اور مقاصد ہیں، لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ملک میں مسلسل نظریہ پاکستان کو ہمارے نصاب سے نکالا جارہا ہے۔ ہمارے نظام سے بھی نکالا جارہا ہے۔ کشمیر کا نام تو مذہبی جماعتیں کچھ نہ کچھ لیتی ہیں، لیکن عملی طور پر کسی جماعت کے ایجنڈے میں کشمیر موجود ہی نہیں ہے۔ مذہبی جماعتیں تو موجود ہیں، لیکن مذہبی اور سیاسی فرقہ پرستی بھی موجود ہے۔ ہم نے اس سارے منظر نامے میں یہ طے کیا کہ ہمیں ایک ماڈل کا کردار ادا کرنا چاہیے اور خود نکل کر بتانا چاہیے کہ صاف ستھری سیاست کیا ہوتی ہے۔
روزنامہ اسلام: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملی مسلم لیگ پاکستانی عوام کو اس حد تک متاثر کرسکے گی کہ وہ جماعت کے نمائندوں کو ووٹ کی طاقت سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچادیں؟ آپ کس نعرے کو بنیاد بنا کر عوام سے ووٹ لیں گے اور عوام دیگر جماعتوں کو چھوڑ کر آپ کی جماعت کو ووٹ کس بنیاد پر دیں گے؟
سیف اﷲ خالد: آج کا معاشرہ پڑھا لکھا معاشرہ ہے۔ لوگ حق کو سمجھتے ہیں۔ لوگ کھوٹے اور کھرے میں تمیز کرنا جانتے ہیں۔ حق اور سچ میں، دن اور رات میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ جب ہم اپنا منشور، اپنا ایجنڈا اور اپنا سابقہ کردار لے کر عوام کے پاس جائیں گے اور ان سے ووٹ مانگیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ عوام ہمیں ووٹ دیں گے۔ ملک میں تقریباً ساٹھ فیصد ایسے لوگ ہیں جن کا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سب سے اپیل کررہے ہیں، جماعتوں میں توڑ پھوڑ پیدا کرنا ہمارا مقصد نہیں۔ ہم معاشرے کے ان طبقوں کو سب سے پہلے اپروچ کر رہے ہیں، جو کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کے ساتھ اٹیچ نہیں ہیں۔ اگر وہی لوگ ہمارے ساتھ جڑ جائیں گے تو یہ کروڑوں کی تعداد ہوجائے گی اور ہمارا مقصد پورا ہوجائے گا۔
روزنامہ اسلام: اب سے پہلے کئی مذہبی جماعتیں سیاست میں تقریباً ناکام ٹھہری ہیں تو ایک اور مذہبی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کس طرح کامیابی حاصل کرسکے گی؟ آپ کی جماعت کے پاس ایسا کیا فارمولہ ہے جو ملی مسلم لیگ کو کامیاب کرواسکتا ہے؟
سیف اﷲ خالد: جو مذہبی جماعتیں ناکام ہوئی ہیں، لوگوں نے انہیں ایسے ہی رد نہیں کردیا۔ اگر مذہبی جماعتیں غور کریں تو قول و فعل کا تضاد بہت بڑی وجہ ہے۔ اگر یہی کام ہم کریں گے کہ دعویٰ کچھ اور کریں اور کردار کچھ اور ہو تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے، لیکن ہمارا اب تک کا تین دہائیوں کا کردار یہ ہے کہ ہم دعوے کم کرتے ہیں اور کام زیادہ کرتے ہیں۔ ہم نے خدمت انسانیت کا کام کیا ہے۔ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے ہر موقع پر انسانیت کی خدمت کی ہے۔ کوئی سانحہ ہوجائے، کوئی حادثہ ہوجائے، سب سے پہلے ہم پہنچتے ہیں۔ سرکاری اداروں سے بھی پہلے ہم پہنچے ہیں۔ یہ بات ہم خود نہیں کہتے، بلکہ عوام کہتے ہیں۔ یہ ہمارا کردار بول رہا ہے۔ اگر مذہبی جماعتیں بھی اپنا کردار اسی طرح پیش کریں تو مذہبی اور نظریے کی بنیاد پر حاصل ہونے والے پاکستان میں سب سے بڑی قوت مذہبی جماعتوں کی ہوگی۔
خدمت ہمارا پہلا تجربہ ہے۔ خدمت کو ہم نے دین سمجھ کر کیا ہے اور اب سیاست کو بھی دین سمجھ کر کریں گے۔ ہم لوٹ مار، یا کرسی و اقتدار کی سیاست نہیں کریں گے۔ دین سمجھ کر سیاست کرنے لگے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے سیاست کی ہے اور خلفائے راشدین نے سیاست کی ہے۔ ہمارے لیے نمونہ وہ لوگ ہیں۔ ہم لوگ سیاست کو مفادات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ دین کی بنیاد پر کریں گے۔
روزنامہ اسلام: کیا مذہبی سیاسی جماعتیں عوامی توقعات پر پورا اترتی ہیں؟ آپ کے خیال میں پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی سیاسی ناکامی کی کیا وجوہات ہیں؟
سیف اﷲ خالد: اس کا جواب تو مذہبی جماعتیں ہی دے سکتی ہیں۔ ہم نے تو اپنا کام پورا کرنا ہے۔ ہم نے تو اپنا کردار صاف ستھرا رکھنا ہے اور کسی کے بارے میں ہم نے طعن زنی نہیں کرنی۔
روزنامہ اسلام: کیا ملی مسلم لیگ سیاست میں حصہ لینے والی سیکولر و مذہبی تمام جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر یقین رکھتی ہے یا صرف مذہبی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرناچاہے گی؟
سیف اﷲ خالد: نظریہ پاکستان، اتحاد امت، مسئلہ کشمیر اور دفاع پاکستان، یہ ہمارے خاص خاص ایجنڈے ہیں، ان پر جو بھی ہمارے ساتھ جڑنا چاہے گا، ہم اس کو ویلکم کہیں گے، لیکن ایجنڈے کی بنیاد پر یہ کام کریں گے۔
روزنامہ اسلام: بعض حلقوں کا خیال کس حد تک درست ہے کہ ملی مسلم لیگ بننے سے سیکولر جماعتوں کو تو کوئی نقصان نہیں ہوگا، الٹا مذہبی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہوگا، جو مجموعی طور پر مذہبی جماعتوں کا نقصان ہے؟
سیف اﷲ خالد: کس کا ووٹ تقسیم ہوگا کس کا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ہم کسی کے مقابلے کے لیے میدان میں نہیں اترے۔ مذہبی جماعتیں تو پہلے سے ہی اپنی بنیاد پر قائم نہیں ہیں۔ ہم نے ان کا ووٹ کیا تقسیم کرنا ہے۔ ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی صورتحال تقریباً ایک سی ہے۔ ان کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہے اور ویسے بھی جس طرح دیگر مذہبی جماعتیں کام کر رہی ہیں، ہم بھی اسی طرح اپنی حیثیت سے سیاست میں آئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ اس سے مذہبی جماعتوں کا ووٹ تقسیم ہوگا۔ اس قسم کی باتیں کچھ مایوس ذہن کے لوگ اڑاتے ہیں۔ جن کا مقصد ہی مایوسی پھیلانا ہوتا ہے۔ جب اس میدان میں نہ آئیں تو کہتے ہیں کہ آپ لوگوں کو اس میدان میں آکر کام کرنا چاہیے اور اگر اب آگئے ہیں تو پھر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہوگا۔
روزنامہ اسلام: سیاست میں درپردہ فوج کا کردار ہر دور میں ایک حقیقت رہا ہے۔ آپ فوج کے سیاسی کردار کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ملی مسلم لیگ کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کاہاتھ ہے، شاید اسی لیے بہت سے لوگ ملی مسلم لیگ کو ملٹری مسلم لیگ بھی کہہ رہے ہیں۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
سیف اﷲ خالد: ہر ایک کا اپنا تجزیہ ہوتا ہے، اپنی سوچ ہوتی ہے۔ ہمارا تو شروع سے یہ نظریہ رہا ہے کہ ہماری فوج ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے۔ فوج نے ہمیشہ اپنا فرض اچھی طرح نبھایا ہے۔ ہم فوج کی قربانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ حکومت کے اپنے معاملات ہوتے ہیں، فوج کے اپنے معاملات ہیں۔ ہر ادارے کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ جس کی جو ذمہ داری ہے، اس کو وہی ادا کرنی چاہیے۔ فوج کے سیاست میں آنے سے فوج کی ساکھ کسی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ہمارے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے اور نہ ہم اس بنیاد پر اس میدان میں آئے ہیں۔ ہمارا ایک ماضی ہے، ہم نے اپنی حیثیت سے تیس سال ملک میں کام کیا ہے۔ انسانیت کی خدمت کی ہے۔ یہ سب اپنی حیثیت میں تھا۔ اس وقت بھی ہمارے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی اور آج بھی ہمارے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے۔
روزنامہ اسلام: حلقہ این اے 120کے ضمنی الیکشن میں ملی مسلم لیگ نے نہ صرف پاکستان مسلم لیگ کی مخالفت کی ہے، بلکہ قاری یعقوب شیخ کی حمایت کر کے پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ حلقہ این اے 120پاکستان مسلم لیگ کا گڑھ ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں اس حلقے سے ملی مسلم لیگ ، پاکستان مسلم لیگ کو ٹف ٹائم دے سکے گی؟
سیف اﷲ خالد: ہمارا مقصد کسی کو ٹف ٹائم دینا نہیں ہے۔ نہ ہم کسی کے مقابلے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ ہم اپنا ایک الگ منشور اور مقصد لے کر میدان میں اترے ہیں۔ ہم نظریہ پاکستان کے دفاع کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ جو بھی ہمارے موقف کی تائید کرے گا، وہ ہمارے ساتھ چلے گا۔ہم نے وہ کام کرنا ہے جو دستور ہمیں اجازت دے گا۔
روزنامہ اسلام: ملی مسلم لیگ کے قیام کے بعد بھارتی میڈیا پر جماعۃ الدعوہ کو لے کر بہت شور مچایا گیا ہے۔ آپ کے سمجھتے ہیں کہ بھارت کو ملی مسلم لیگ سے ایسا کیا خوف ہے کہ انہوں نے شور مچانا شروع کردیا ہے؟
سیف اﷲ خالد: انڈیا ہمیشہ سے اسی طرح چلاتا رہتا ہے۔ انڈیا میں ٹائر بھی پنکچر ہوجاتا ہے تو وہ شور مچادیتے ہیں کہ جماعۃ الدعوۃ نے کردیا ہے۔ بھارت میں دہشتگرد تنظیموں نے الیکشن میں حصہ لیا ہے، لیکن ہم نے تو کبھی شور نہیں مچایا۔ ہم نے تو نہیں کہا کہ بی جے پی آر ایس ایس کی تنظیم ہے اور مودی آر ایس ایس کا دہشتگرد ہے، لہٰذا اسے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ہم نے کبھی شور نہیں مچایا، کیونکہ بھارت ان کا ملک ہے، وہ جس کو مرضی وہاں کھڑا کریں۔ اسی طرح ہمارے ملک میں سیاست کرنا ہمارا حق ہے۔ بھارت کو بھی نہیں بولنا چاہیے۔ بھارت شور مچاتا رہتا ہے، لیکن ہم ایسی فضول باتوں پر کان نہیں دھرتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427556 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2017 Views: 320

Comments

آپ کی رائے