اب کہاں جا کر ڈھونڈیں ایسے دیوانے کو ہم

(Rashid Ashraf, Karachi)
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2439 Print Article Print
About the Author: Rashid Ashraf

Read More Articles by Rashid Ashraf: 107 Articles with 125169 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

بہت شکریہ جناب شاہد احمد صاحب
خیر اندیش
راشد
By: Rashid Ashraf, Karachi on Nov, 25 2011
Reply Reply
0 Like
you r very hardworking person
informative article
By: shahid ahmed, Khanewal on Nov, 24 2011
Reply Reply
0 Like
بہت شکریہ جناب احسن صاحب
By: Rashid Ashraf, Karachi on Nov, 14 2011
Reply Reply
0 Like
بھائی راشِد پورا مضمون پڑھ کر کافی معلومات ہوئیں۔ ہم سب ہی کی دعائیں ٓآپ کے ساتھ ھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
By: Ahsan Ali, LONDON on Nov, 13 2011
Reply Reply
0 Like
ابن صفی کی جاسوسی دنیا کے چار ناولز (ڈاکٹر ڈریڈ سیریز) کا انگریزی ترجمہ دہلی سے شائع ہوگیا ہے - مذکورہ 4 کتابیں کچھ ہی عرصے میں کراچی میں دستیاب ہوں گی۔ تقریب 22 اپریل 2011 کو دہلی میں منعقد ہوئی تھی جس میں شرکت کے لیے احمد صفی صاحب تشریف لے گئے تھے، سافٹ لنکس حاضر ہیں:

bbc.co.uk/urdu/india/2011/04/110422_ibnesafi_novel_english_sz.shtml
washingtonbanglaradio.com/content/42446911-now-get-ready-safis-jasoosi-duniya-series-english
roznamasahara.com/epapermain.aspx?queryed=9

سائیکو مینشن کا دوسرا حصہ زیر طبع ہے، احقر اسی کتاب کے سلسلے میں مصنف کے ساتھ رضا کارانہ طور پر مصروف ہے!
By: Rashid Ashraf, Karachi on Jun, 07 2011
Reply Reply
0 Like
جناب عطاء صاحب! زہے نصیب جناب کہ آپ کا پیغام آیا
بہت شکریہ بہت نوازش
زبیری صاحب کے کالم سے واقف ہوں، ایسے کئی لوگ ہیں جو ابن صفی صاحب پر کسی بھی مواد کی اشاعت کی صورت میں فوری اطلاع دیتے ہیں اور ہم اس لکھی گئی تحریر کو وادی اردو پر اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیتے ہیں
آپ کی کرم فرمائی کا شکریہ
جناب اے حمید کے بارے میں کل ہی مضمون شائع ہوا ہے جسے آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں:
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=12711
خیر اندیش
By: Rashid Ashraf, Karachi on Apr, 09 2011
Reply Reply
0 Like
راشد بھائی السلام علیکم ، سائیکو منشن کے حوالے سے ایکسپریس اخبار میں رفیع الزماں زبیری کا کالم چھپا ہے، آج آپ کا مضموں پڑھ کر دل خوش ہوگیا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔۔ بھائی آپ لوگ بڑی محنت سے لکھتے ہیں ہم اخبار میں کام کرنے والوں کو ایسی محنت نہیں کرنا آتی۔
By: Ata Muhammed Tabussumt, Karachi on Mar, 27 2011
Reply Reply
0 Like
جناب احسن علی عباسی صاحب!
آپ کا بیحد شکرگزار ہوں- خوب حوصلہ افزائی ہوئی
By: Rashid Ashraf, Karachi on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
رایشد بھائی کوئی دِن نہیں جاتا جو آپ کی کِتابِ زندگی کا ایک نیا ورق نہ کُھلتا ہو۔ یہ عُمر اور یہ پُختگی۔اﷲ آپکی عمر دراز کرے،آمین۔ مضمون کا شکریہ۔
By: Ahsan Ali Abbasi, London on Jan, 29 2011
Reply Reply
0 Like
راشد یقیناً آپ نے اپنے مضمون سے کافی انصاف کیا۔ کچھ نام اسلام آباد کے مرکزی شھر خموشاں کے رھ گئے ھیں۔ گیٹ نمبر دو سے داخل ھوں تو سب سے پہلی قبر حضرت جوش ملیح آبادی کی نظر آتی ھے۔ کچھ ھی دور شھاب صاحب بھی آسودہ خاک ھیں۔ لیکن ایک اور مشھور ادبی شخصیت جو متنازعہ بن گئی احمد فراز سے کچھ فاصلہ پر مفکر اسلام کے نام سے خاک نشین ھیں اور یہ ھیں جناب مولانا کوثر نیازی۔ اگر مضمون کا کبھی حصہ دوئم نکالیں تو انکے کتبوں کا منظر نامہ منگوالیجیئے گا۔ ایک کتبہ البتہ ایسا بھی دیکھا جو ماں سے بچھڑے ھر بیٹے کو رلا دیتا ھے۔ ممتاز مفتی صاحب کی قبر کے تقریباً سامنے کتبے کے پیچھے لکہا تہا۔ رابعہ ھاؤس۔ امی جان آپ نے تو کہا تھا کہ دونوں ماں بیٹا ساتھ رہیں گے مگر آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط آپکا بیٹا۔

گرچہ کہ میری والدہ کراچی میں مدفون ھیں لیکن کتبہ پڑھ کر یوں لگا کہ شائد اس قبر کا راستہ اسلام آباد سے سیدھا کراچی جاتا ھے۔ خدا سب ماؤں اور باپوں کو جو آسودہ خاک ھوچکے انکی مغفرت فرمائے۔ آمین۔
By: Razi Uddin, Islamabad on Jan, 28 2011
Reply Reply
0 Like
احسن صاحب
بہت شکریہ پسندیدگی کا
ممنون ہوں
By: Rashid Ashraf, Karachi on Jan, 06 2011
Reply Reply
0 Like
انتہائی معلوماتی مضمون۔۔۔ بھائی راشد اس کے لئے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
By: Ahsan Ali Abbasi, London on Jan, 05 2011
Reply Reply
0 Like
سہیل احمد صاحب جناب والا، میں آپ کی دعا پر آمین کہتا ہوں
خوش رہیئے، سلامت رہیئے
By: Rashid Ashraf, Karachi on Dec, 14 2010
Reply Reply
0 Like
بہت محنت کی ہے آپ نے۔ ماشاالله۔ الله ان سب کی مغفرت کرے۔ اس طرح بہت سوں کو موت یاد آ گئی ہے۔
By: sohail ahmed , lahore on Dec, 13 2010
Reply Reply
0 Like
فاروق رانا صاحب اور فرخ شیر صاحب کی ستائش کا شکر گزار ہوں
By: Rashid Ashraf, Karachi on Dec, 02 2010
Reply Reply
0 Like
excellent work keep it up
By: farooq rana, lahore on Dec, 01 2010
Reply Reply
0 Like
بھائی راشد! گھر بیٹھے کیا کیا نہ معلومات مشاہیر کے بارے میں ملی، کون کہاں دفن ہے، کس کے کتبے پر کیا تحریر ہے وغیرہ۔ ان میں سے بیشتر کے بارے میں تو ہمیں علم ہی نہیں تھا اللہ تعالیٰ آپ کو اس غیر معمولی محنت کا اجر دے
By: Farrukh Sher, Karachi on Nov, 25 2010
Reply Reply
0 Like
لائق صد احترام جناب محمد حنیف صاحب اور محمد طہیر قندیل صاحب کا ازحد شکریہ
By: Rashid Ashraf, Karachi on Nov, 16 2010
Reply Reply
0 Like
جناب منیر احمد صاحب، جناب مجید اختر صاحب اور جناب حماد رحمان صاحب کا ازحد شکر گزار ہوں کہ ان احباب کے دل سے کہے گئے تبصرے حوصلہ افزائی کا سبب بنے ۔۔۔ منیر احمد صاحب نے تو اس ناچیز کی یوں تعریف کی ہے کہ شرمندگی بھی محسوس ہورہی ہے کہ "من آنم کہ دانم" - اللہ تعالیٰ خوش رکھے۔ مجید اختر صاحب کے خوبصورت شعر کا خصوصی شکریہ کہ یہ ہمارے لیے ایک اعزاز ہے

عقیل عباس جعفری صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت ہیں اور اس خاکسار پر ان کی کرم فرمائی و رہنمائی قدم قدم پر میسر رہی

حماد رحمان صاحب! آپ نے مصطفیٰ زیدی کے بارے میں درست فرمایا۔ دراصل ہوا یوں کہ ان کی موت کا سبب آج تک صیغہ راز ہی میں رہا، دنیا یہ نہ جان پائی کہ وہ قتل تھا یا خودکشی، لیکن جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ عدالت نے اسے خودکشی قرار دیا تھا -- شاید اس بنا پر ان کا تذکرہ شامل ہونے سے رہ گیا لیکن بہرحال ہونا چاہیے تھا، یاد دہانی کے لیے شکریہ

بر سبیل تذکرہ، عقیل عباس جعفری صاحب کی معرکتہ الارا کتاب پاکستان کرونیکل میں شہناز گل کی تصویر موجود ہے جو ہم نے پہلے بار دیکھی۔ اسی طرح مذکورہ کتاب میں تارا مسیح کی تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے، وہ شخص جس کے ہاتھوں بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی ۔۔۔
By: راشد اشرف, Karachi on Nov, 16 2010
Reply Reply
0 Like
مت سمجھو سھل اتنا پھرتا ھے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ھیں
By: Mohammad Hanif, Kuwait on Nov, 16 2010
Reply Reply
0 Like
راشد صاحب ! بہت خوشی ہوتی ہے کہ آپ تحقیق کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ اللہ صلہ دے
By: M. Zaheer Quindeel, Rawalpindi on Nov, 16 2010
Reply Reply
1 Like
مجھے پروفیسر اسلم کی کتاب "سفر نامہ ہند " کچھ سال قبل پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا . آج آپکا یہ پر مغز مضمون پڑھ کر بہت سی معلومات ذہن میں تازہ ہو گئیں . آپ نے بھی واقعی بہت محنت کی ہے . جس کے لیے آپ تعریف کے مستحق ہیں . مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی کی پر اسرار موت کا تذکرہ چھوٹ گیا .

وہ جب کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر تھے اسی وقت جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کا بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر کی گولیوں سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکار ہو گئے اور اس کا سبب بنی ایک قتالہ عالم شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان کی لاش دس اکتوبر 1970ء کو کراچی کے ان کے دوست کے بنگلے سے ملی تھی۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ بھی عدالت میں گیا تھا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے طویل ردوکد کے بعد فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:
شاعر نہ تھی مگر میرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
By: Hammad Rehman, Bracknell (UK) on Nov, 15 2010
Reply Reply
0 Like
راشد صاحب آپ نے ایک جہان۔ دیگر کی سیر کروا دی ۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کے درجات کو بلند فرمائے ۔ آپ اور ہمارے عقیل عباس جعفری سلامت و شاد باد رہیں ۔ اپنا ایک شعر آپکی نذر کرتا ہوں
سنو اے رفتگاں رہتا نہیں کچھ فاصلہ اتنا
بس اک دیوار باقی ہے، مری دیوار۔ جاں وہ بھی
By: majeed akhtar, Los Angeles. CA. USA on Nov, 15 2010
Reply Reply
0 Like
سمجھ میں نہیں آتا کہ کن الفاظ میں آپ کی تعریف کروں --پروفیسر محمد اسلم صاحب نے اپنے زمانے میں بہت بڑا کام کیا تھا لیکن لوگ بھلا چکے تھے یا انہیں علم ہی نہیں تھا کہ ایسا بھی بڑا کام ہو چکا ہے -آپ نے اس بڑے کام کو نہایت عرق ریزی سے کشید کیا --یہ آپ کا ہی کارنامہ ہے -مولانا کوثر نیازی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ " بیتے ہوئے واقعات اور بالخصوص وہ جنکا تعلق ممالک اور اقوام کی تقدیر سے ہوتا ہے ،تاریخ کی امانت ہوتے ہیں اور جو لوگ بطور کردار اس میں شریک رہے ہوں ان کا اولین فریضہ ہے کہ انہیں قرطاس و قلم کے حوالے کر دیں " آپ نے اتنی ہی عمر میں اتنا بڑا کام کرنے کی سعی کر کے اپنے فریضے کو بخوبی نبھایا ھے

جمیل الدین عالی ایک جگہ لکھتے ھیں کہ بیرون ملک سفر کے دوران انھوں نے اس ملک کے بچوں سے پوچھا کہ "بچو تمھارے یہاں کا سب سے بڑا آدمی کون ھے "
"لیکن کس میں ؟"بچوں نے یکبارگی سوال کیا --جمیل الدین عالی حیران رہ گئے کہ اپنے ملک میں کسی گاؤں میں یہ سوال کرتے تو وہ جھٹ سے پٹواری کا نام لے لیتا "
لیکن میں نے بچوں کو بتا دیا ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے آدمیوں میں آپ کا اور جناب عقیل احمد جعفری کا اور پروفیسر محمد اسلم کا نام بھی آتا ہے
MUNIR BIN BASHIR
(Munir Ahmad)
By: Munir Ahmad, Karachi on Nov, 15 2010
Reply Reply
0 Like
i second the openion of mr arif ul islam of abu dhabi. may god bless on you mr rashid
By: Matloob uz zaman , KSA on Nov, 15 2010
Reply Reply
0 Like
جناب عارف الاسلام صاحب اور محترم امین بھایانی صاحب
میں آپ کے تبصرے کا شکر گزار ہوں۔ عارف الاسلام صاحب! یہ حقیقت ہے کہ اس مضمون کو تحریر کرنے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ صرف ہوا، لاہور سے ایم آر شاہد صاحب کی کتب منگوائیں اور راولپنڈی سے ڈاکٹر منیر احمد سلیچ نے اپنی کتاب وفیات اہل قلم ارسال فرمائی۔ ادھر پروفیسر اسلم صاحب کی صاحبزادی تنویر انجم صاحبہ کا تعاون بے مثال رہا۔ ہمارے کرم فرما جناب عقیل عباس جعفری نے مذکورہ مضمون کو حرف بہ حرف نہ صرف پڑھا بلکہ اس میں کچھ ضروری اضافہ بھی کیا۔

غیر معمولی تعاون پر ان تمام احباب کا شکرگزار ہوں
ایم آر شاہد صاحب نے لاہور سے پروفیسر اسلم کی قبر کی تصویر بھی بذریعہ ڈاک روانہ کی تھی جو نہ معلوم وجوہات کی بنا پر موصول نہ ہوپائی ورنہ اس مضمون میں وہ ایک اہم اضافہ ہوتا

ہماری ویب کے نگران کار بھی خصوصی شکریے کے مستحق ہیں

اس مضمون میں جن مشاہیر ادب کا تذکرہ کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کے درجات بلند فرمائے
By: Rashid Ashraf, Karachi on Nov, 14 2010
Reply Reply
0 Like
راشد جی آ پ نے بھی کو ئی کم محنت نہیں کی۔ اللہ آپ کے شوق کو برقرار رکھے۔ اتنی اچھی معلوماتی تحریر کا بہت شکریہ۔
By: Nawaid-ur-Rahman Farooqi, Karachi on Nov, 14 2010
Reply Reply
0 Like
الہیٰ یہ کیسے لوگ ہیں جو دن رات کا آرام چھوڑ کر ہم جیسے آرام طلب لوگوں کیلیے معلومات کا خزانہ اکٹھا کر گئے الله تعالیٰ ان کی محنت قبول فرمائے اور نئے نسل کو اپنے مشاھیر کی ادبی کاوشوں کی قدردانی کا شعور عطا فرمائے
By: arif ul islam, Abu Dhabi on Nov, 13 2010
Reply Reply
0 Like
راشد صاجب اس غیر معمولی تحریر کیلیئے ہماری دلی مبارک باد قبول فرمایئں۔
By: Amin Sadruddin Bhayani, Atlanta, Ga, USA. on Nov, 12 2010
Reply Reply
0 Like
Language: