جنگِ ستمبر میں بھارتی فوج کی دُرگت

(Huzaifa Ashraf, Lahore)

درحقیقت 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ عزت ووقار کے ساتھ زندہ رہنے کی قومی خواہش کی غمازی کرتا ہے۔ہماری مسلح افواج کو دنیا کی دوسری افواج سے اس لئے بھی برتری اور فوقیت حاصل رہی ہے کہ اس نے انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات اور سازشوں کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔اس میں عسکری مہارت اور تربیت کے ساتھ جذبہ جہاد اور قوت ایمانی کا ہتھیار سب سے موثر اور کارگر رہا ہے۔اﷲ پاک نے ہمارے عسکری جوانوں اور افسروں کو قوت ایمانی کی جس دولت سے نواز رکھا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم سے دس گنا بڑی طاقت کا حامل دشمن بھی ہر وقت ہم سے لرزاں اور خوفزدہ رہتا ہے۔6ستمبر 1965 ہماری عسکری تاریخ کاانتہائی اہم ترین دن ہے۔یہ ہمیں جنگ ستمبر کے ان دنوں کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور قومی وقار کا دفاع کیا تھا اس دن بہادر پاکستانی شہریوں نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کیا اور یہ جنگ پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی وہ مشترکہ جدوجہد تھی جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ کا کام کرتی رہے گی۔اس تاریخی دن کے ساتھ ایسی انمٹ یادیں اور نقوش وابستہ ہو چکے ہیں جنہیں زمانہ بھلا نہ پائے گا۔یہ دن جہاں ہماری پاکستانی قوم کے لئے بڑی آزمائش کا دن تھا وہاں پر پاکستان کی نڈراور بہادر مسلح افواج کے لئے بھی انتہائی کڑا وقت تھا ۔اس روز پوری قوم اور فوج کے افسروں ،جوانوں نے باہم مل کر سچے جذبے کے ساتھ بزدل اور مکارو عیار دشمن کے ناپاک اور گھناؤ نے عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا۔ان فرزندان پاکستان کی بے مثال اور لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہمیں تاریخ میں ایک باوقار مقام حاصل ہے ۔اُس روز اس تاریخی جنگ میں سازوسامان اور عددی دونوں لحاظ سے اپنے سے دس گنا بڑی طاقت کو ذلت آمیز پسپائی اور شکست پر مجبور کر کے پوری دنیا میں اس کا گھمنڈ اور تکبر خاک میں ملا دیا۔ہماری مسلح افواج نے جرات اور ہمت سے کام لیتے ہوئے او جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خطرات کا منہ پھیر کر رکھ دیا۔ آج کے دن کی یاد مناتے ہوئے ہمیں اس تاریخی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری قوم اور دشمن سے کہیں کم تعداد میں ہمارے شیر دل جوانوں اور دلیر مجاہدوں نے جن میں غازی اور شہید دونوں شامل ہیں جو کارنامے سرانجام دیئے وہ ان کی جرات،قربانی ،عزم اور کے جذبے کے عکاس ہی نہیں ہماری جنگی تاریخ کا ایک زریں باب بھی ہیں ہم ہر سال اس تاریخی دن کی یاد کیوں مناتے ہیں ؟اس لیئے تاکہ قومی یکجہتی کے اس زبردست مظاہرے اور جرات و عظمتوں کے درخشندہ کارناموں کی یاد تازہ کی جائے۔اگرچہ ان حالات میں مشکلات کا سامنا تھا تاہم 6ستمبر کا دن ہماری قومی اور عسکری تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوا۔ہماری بہادر بری،بحری اور فضائی افواج کی پشت پر پوری قوم یک جان ہو کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی دنیا نے ہماری قوم کے نا قابل تسخیر جذبے اور مسلح افواج کی شاندار کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ہمارے شیر دل جوانوں اور شاہین صفت ہو ابازوں کے جذبہ جہاد ایمانی قوت کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔6ستمبر کی یاد مناتے ہوئے جب ہمارا ذہن اس تاریخی معرکہ کی ورق گردانی کرنے لگتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح ہمارے بزدل ،مکار اور عیار دشمن نے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں ہمارے وطن عزیز کی مقدس اور پاک سرحدوں کے تقدس کو روندتے ہوئے ہم پر حملہ کر دیا تھا۔بین الاقوامی سرحد کی اس طرح کھلم کھلا خلاف ورزی کا کسی طور تصور بھی نہیں کیا جا ساکتا تھا۔لیکن ہمیں جس عیار اور بزدل قوم سے پالا پڑا ہے اصولوں کی پامالی اس کی سرشت میں شامل ہے۔ہماری بیدار و زندہ قوم نے قومی یکجہتی کا بے مثال مظاہرہ کر کے دشمن کے ناپاک اور مذہوم عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔لاالہ الااﷲ محمد رسول اﷲ کا ورد کرتی ہوئی پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کی جارحیت اور کفر کے غرور کا سر کچل کر رکھ دیا۔6ستمبر کا تاریخی دن اپنے جلو میں اپنی جوانمٹ یادیں اور نقوش چھوڑ گیاان کو یاد کرکے ہماری دلیر مسلح افواج اور قوم کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔6ستمبر 1965 کو بھارت کے جنگی نا خداؤں کو شاید یہ لگا کہ پاکستان ایک تر نوالہ ہے 6ستمبر کو جو کچھ ہو ا اس نے بھارت کے حکمرا نوں کو ان کے خواب سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اسی شام تک لاہور پر قبضہ کرنے کی بجائے انہیں اپنی مسلط کردہ جنگ باقی مدت لاہور سے دوردور انہیں اپنی سر زمین پر لڑنی پڑی جس میں ان کے قدم ایک انچ آگے نہ بڑھ سکے۔لاہور داتاؒ کی نگری اور میاں میرؒ کا شہر ہے۔جس کو فتح کرنے کا مکروہ خواب ہندوستان نے دیکھا تھا اس شہر کی فضاؤں میں توپوں کی گھن گرج کی آوازیں بیچ شہر تک سنی جا رہی تھی لیکن ہر شخص خود حفاظتی تدابیر وں سے بے نیاز سرحد کی طرف جانے کے لئے بے چین تھا ۔نہ اس کو دفاع کے لئے خندقیں کھودنے کاخیال تھا نہ آسمان سے گولے گرنے کا خوف ۔وہ تو آسمان پر لڑتے ہوئے اپنے جہازوں دادِشجاعت دے رہے تھے۔اور کسی بھی طرح سرحدوں پر فوجی جوانوں کے ساتھ شریکِ جہاد ہونا چاہتے تھے 6ستمبر کو بھارتی فوج سات مقامات سے پاکستان پر حملہ آور ہوئی تھی۔سیالکوٹ واہگہ،برکی۔قصور،کھیم کرن اور سلیمان کی یہ سات محاذ درہ حاجی پیر،پیر صحابہ اور کشمیر میں دوسرے مقامات کے علاوہ تھے۔اس کا مقصد پاکستان کو گھیر لینا اور اس کی شہ رگ کو کاٹ دینا تھا ۔پاک فوج زندہ آباد پاکستان زندہ آباد۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huzaifa Ashraf

Read More Articles by Huzaifa Ashraf: 26 Articles with 18994 views »
صاحبزادہ حزیفہ اشرف کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے۔ حزیفہ اشرف14اکتوبر1999کو پیدا ہوئے۔حزیفہ اشرف کے والد قانون دان میاں محمد اشرف عاص.. View More
06 Sep, 2017 Views: 623

Comments

آپ کی رائے