جذبہ 6ستمبر اور عظیم پاکستان

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad)
جذبہ 6ستمبر اور عظیم پاکستان

یوم دفاع پاکستان پورے ملک کی طرح آزادکشمیر جموں وکشمیر ‘گلگت بلتستا ن میں بھی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ۔6ستمبر 1965 ؁ء کی جنگ کی یاد میں ہر سال یہ دن اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا جاتا ہے وطن عزیز کے زرہ زرہ کی حفاظت کیلئے جانوں کے نذرانے دےئے ہوئے سب کچھ قربان کر دینگے مگر پاک سرزمین پر آنچ نہیں آنے دینگے ، 1965 ؁ء کی پاک بھارت جنگ کے حالات مناظر ، نتائج ثابت کرتے ہیں اس وقت تک قوم کے کے ہر فرد بچہ بوڑھا نوجوانوں مرد عورت میں وہ جذبہ پوری قوت ایمان کے ساتھ زندہ تابندہ تھاجو ان کو وجود پاکستان کے وقت ورثے میں ملا تھا اور یہ خالصتاً اللہ کی رضا کا ثمرہوتا ہے جو سچی لگن اخلاص ایثار قربانی کی نیت و عمل کے بغیر نہیں ملتا یہ سب کچھ تھا تو 1965 ؁ء کی جنگ میں بری ‘بحری ‘فضائی تینوں افواج کے افسران جوانوں نے رب کے شاہینوں اور شیروں کیطرح اپنے سب بہت بڑے دشمن اسکی فوج اور طیاروں ٹینکوں سے ٹکرا کر قابل فخر یادگار باب رقم کیے جس میں قربان ہو جانے والا ہر آفیسر جوان ناصرف سبز ہلالی پرچم کی آن بان شان بن کرامر ہو گیا ہے بلکہ دل کہتا ہے ہر تکبیر کی صدا بلند کرنے رسالت پر مرمٹ جانے کے عقیدے اور جذبہ حیدری سے سرشار ہونے والے رب کی رضا رسول ﷺ کی رحمت اور مولا علی کی محبت کے حقدار بن گئے اس سے زیادہ اعزاز و سعادت ساری دنیا کے اعزازات دولت عزت کچھ بھی نہیں ہو سکے مگر اس کی طاقت ایک قوم ہونے کا جذبہ تھا۔جو پاک افواج کی پشت بان بنا تھا جسکے بعد ایک قوم ہونے کا جذبہ سرد ہوا یہ انتشارکا شکار ہوا تو ملک دو ٹکڑے بھی ہو گیا اور آج تک آزمائشوں ،مسائل، مشکلات کے انباروں کا شکار چلا آرہا ہے ، مگر ان آزمائشوں مسائل مشکلات کے پہاڑوں کے باوجود یہ قوم کے صبر برداشت ، استقامت قربانیوں کا ہی شجرہے یہ ملک ایٹمی قوت بن گیا جب بھی کر کوئی طوفان آیا بطور قوم اسکے ہر فرد خصوصاً غریب متوسط، پسے طبقات کے افراد نے سب سے بڑھ کر ایثار قربانی کا مظاہرہ کیا جو اسکی عظمتوں کی معراج ہے تو اسکی فوج بھی عظیم تر ہی ہو گی ، جسکا سامنا ہمیشہ عالمی سامراجوں اور مکار عیار دشمنوں سے رہا ہے اور آج بھی ملک کے اندر دہشت گردی کی شکل باڈر پرس مد مقابل افواج کی شر انگیزی کا مقابلہ کررہی ہے ، یہیں اسکا فریضہ اور ذمہ داری ہے جو اسکا فخر اور نازو افتخار ہے ، زلزلہ ہو سیلاب ہو یا آج کراچی کے اندر پانی میں ڈوبی آبادیوں کو مسائل سے نکالنے کا ہر اول دستہ کا کردار پاک افواج ہی ہوتیں ہیں اس پر بھی دو طرح کی بحث چھڑی بالخصوص سوشل میڈیا کا یہ کمال ہے یہاں سب کی سوچ فکر رائے سامنے آجاتی ہے جس میں ایک رائے یہ ہے کہ ہر کام ہر مصیبت کی گھڑی میں پاک افواج ہی آخری اُمید اور کردار بنتی ہے جبکہ دوسری رائے یہ ہے دنیا کے سبھی ملکوں میں انکی افواج جب پانی سر سے گزر نے لگے تو آکر اپنا فریضہ نبھاتی ہیں اسمیں اسباب وسائل بجٹ سہولیات کو بھی زیر بحث لایا جاتا ہے ، مگر اس میں جائے بغیر حقیقت کا اعتراف کیا جائے تو یہ ہے اس ملک کو ایک متفقہ آئین ملا مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا لیڈر ملے تو گولی پھانسی اور دھماکے کی نذر ہو گئے 1665 ؁ء کی جنگ میں ناز کرنے کے قابل افواج غیرو ں کی جنگ میں الجھا کر اسکی عزت وقار توانائیوں کو داؤ پر لگایا جاتا رہا ۔ اور ہم پیدائش سے آج تک یہی سنتے آرہے ہیں کہ ہمارا ملک خطرے میں ہے سازشوں کا شکار ہے بہت بڑی آزمائشوں طوفانوں کا سامنا ہے آخر یہ کب ختم ہو نگے ۔ یہ تب ہی ختم ہونگے جب آپ سب ہی اپنے ملک کے سبھی قانون پارلیمنٹ سے لیکر تھانہ کچہری تک انگریز نے غلام قوم کیلئے دےئے تھے کو اکھاڑ پھینک کر آزاد قوموں کے قانون نافذ کرینگے جب قانون سے لیکر تعلیم، صحت ،پانی،گھر ، روزگارسمیت بنیادی سہولیات قوم کے ہر فرد کیلئے ایک جیسی ہوں گی جن کا سب کچھ پاکستان میں ہے وہ سب جنہوں نے اس پاکستان بنانے کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں ان سمیت دس کروڑلوگ اپنے گھر سے محروم ہیں مگر ان کا گھر پاکستان ہی ہے۔ ان پاکستانیوں کے اندر سے قیادت ابھرے اور ملک ملت سنبھالے وہ سب توقعات جو عالمی علاقائی اور خود ملک کے اندر مظلوم غریب انسانوں کو پاکستان سے تھیں وہ آج ترکی کی قیادت اور ملت پوری کررہی ہے کیوں کہ وہ زبانی نعروں ، دوعوں سمیت کہیں بھی اسلام اور قومی مفاد کا نام لیکر یا پھر جمہوریت کا نام نہادلبادہ اوڑھ کر منافقت کا شکار نہیں ہے۔بلکہ عملی بنیادوں پر کام کام اور کام کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ترک حکومت عوام نے اپنے آئین قانون اور نظام کو اسلام کا نام دینے کے بجائے عالمی دنیا کی طرح حقیقی معنوں میں جمہوری اور فلاحی نظام آئین اور قانون اختیا ر کر رکھے ہیں اور اپنے عمل سے اسلام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانیت کا قابل فخر ملک اور ملت بن چکے ہیں ۔پاکستان ہی سب آزمائشوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے باوقار عالمی قوت بن سکتا ہے جو ضرور بنے گا ،ان سب 1995کے شہداء جانبازوں کی قربانیوں اور قوم کے صبر و استقامت کے ثمرات ایک دن ضرور ملیں گے مگر شرط نام نہیں کام کی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 206 Articles with 72676 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2017 Views: 365

Comments

آپ کی رائے