آرمی چیف کا مخاطب سرینگر اور خاموش مجاہد۔۔۔۔۔۔۔!

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarbad)
آرمی چآرمی چیف کا مخاطب سرینگر اور خاموش مجاہد۔۔۔۔۔۔۔!یف کا مخاطب سرینگر اور خاموش مجاہد۔۔۔۔۔۔۔!

آزاد جموں وکشمیر گلگت بلتستان میں بھی پورے ملک کی طرح 6ستمبر یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے بھرپور تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں جوش وجذبہ اور وطن کیلئے قربان ہو جانے کے عہد عزم کیا گیا تاہم یہاں جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ مرکزی تقریب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب بہت پسند کیا گیا ہے جو مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے بھی راحت جدوجہد ہے جو سبز ہلالی پرچموں میں لپیٹ کر اپنے پیاروں کو دفن کرتے ہیں اور بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی کیلئے ستر سال سے اپنے پیاروں کی قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں جب آرمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منزل سے ہمکنار کرنے کے عزم کے ساتھ پیغام دے رہے تھے دشمنوں کی گولیاں ختم ہوجائیں گی مگر ہماری چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی تو پاکستان سے عشق محبت بھی سرشار مقبوضہ کشمیر کے نوجوان اپنے عمل سے اسی عزم عہد کی منہ بولتی تصویر نظر آتے ہیں جو ہر روز نہتے گھروں سے نکلتے ہیں اور چوک چوراہوں پر جمع ہو کر ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے اپنی آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہیں تو قابض افواج نہ صرف پیلٹ گنوں سے ان کی آنکھوں کی بینائی چھینتی ہے جسموں کو چھلنی کرتی ہے بلکہ گولیاں چلا کر مار دیتی ہے مگر اس قوم کے سینے حاضر ہوتے ہیں جس کے لئے آرمی چیف نے تمام عہد عزم کی ساری طاقت کی ساتھ شفاف الفاظ میں کہا ہمیں کشمیریوں کی جدوجہد کی تائید وحمایت سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں جن کی پاکستان حمایت جاری رکھے گا اور بھارت کو کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینا ہی ہو گا ۔یہ خطاب اور اس سے قبل کشمیریوں کی جدوجہد قربانیوں سے لبریز جذبہ حریت کو ایک نغمے کی صورت میں بیان کرنا شرکاء کا بھرپور انداز میں داد پیش کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار یقیناًملت پاکستان کی دلوں کی ترجمانی تھی ۔جن کی تائید وحمایت کشمیریوں کیلئے دلوں کی دھڑکن اور زندگی کی سانوں جیسی اہمیت وافادیت رکھتی ہے اور ملت پاکستان کی افواج کے سپہ سالار کا فولاد سے زیادہ طاقت ور عزم کے ساتھ کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے طاقت وجنون کا آب آزادی ہوتا ہے جو فلسطینیوں کو میسر ہے نہ شامیوں سمیت دنیا کے دیگر خطوں کے مسلم مظلوموں کو حاصل ہے باوجود اس کے یہ ملک پاکستان اپنی خداوند کریم کی طرف سے جغرافیائی حدود کی ناقابل بیان اہمیت وافادیت ایٹمی طاقت اور مضبوط فورس سے بڑھ کر ستر سال میں مسلسل آزمائشوں بحرانوں بیرونی سازشوں کے باوجود ایک درد دل رکھنے والی قوم کو عالمی علاقائی دشمن اژدھاؤں کی طرف سے چین سے نہیں رہنے دیا جاتا مگر سب طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ ملت پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ عالمی علاقائی تاریخ حالات واقعات کی حقیقتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ساری دنیا میں مذہب یا دوستی دشمنی کی باتیں لیکر سب مکروفریب کی کہانیاں ہوتی ہیں جن سے سچے جذبوں درد دل رکھنے والے فرد افراد ہوں یا قومیں ان کو دھوکہ دیکر ان کے اخلاص ،قربانیوں کا موقع پرستی کے تحت فائدہ ہی اٹھایاجاتا ہے امریکہ کی دھمکیاں ہوں یا برکس کانفرنس کا اعلامیہ ہو جدہ کے حکمرانوں کی ٹرمپ کی میزبانی ہو یہ سب دنیاوی حقیقتوں کی آئینہ کی طرح توثیق وتائید ہیں جس کا مطلب ہے ساری دنیا میں ملک پاکستان کا مفاد ملت پاکستان اور ملت پاکستان کا مستقبل ملک پاکستان کے ساتھ ہے ۔ کشمیری عوام کا حوصلہ ملک پاکستان ہی ہے پاکستان کی قیادتوں،پالیسی سازوں ،قوم بالخصوص نوجوانوں کو اب اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر خود کو مضبوط ومستحکم بناتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا جس کا اظہار آرمی چیف نے کر دیا ہے ایک جمہوری آئینی قانونی بالادستی احترام والا پاکستان ہی سب کی منزل ہے یقیناًیہ منزل ہی کشمیریوں کی آزادی کی تقدیر ہے تاہم جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں جس طرح دفاع وطن کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے قومی ہیروز اکابرین کے علاوہ ،شہداء ،غازیوں کے وارثوں کو بلایا گیا اس طرح باقی ملک کے تمام ریجن میں منعقدہ تقریبات میں 1947سے لیکر اب تک کے بغیر وردی فوج یعنی پاکستان کے لئے اپنے فن ہنر کو حاضر خدمت کرنے والے بے شمار خاموش مجاہدوں کے وارثوں کو بھی یاد کرنا چاہیے ۔ان کے دُکھ درد پوچھ کر ان کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے جو خوداری اور ملک وملت سے عشق کے ہاتھوں کبھی بھی اپنی قربانیوں وخدمات کا ایک بھی لفظ زبان پر نہیں لاتے ان کو ڈھونڈا جائے تو ضرور جذبہ پاکستانیت کو فولاد جیسی طاقت بخشنے والی ایثار کی کہانی اور سرد نہ ہونے والا جذبہ ملے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 70760 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Sep, 2017 Views: 352

Comments

آپ کی رائے