NA120:میدان سج گیا……دنگل کل ہوگا

(عابد محمود عزام, Lahore)

کل 17ستمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 120میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں گہما گہمی عروج پر ہے۔ پاناما کیس میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والا یہ حلقہ ملکی سیاست کا محور و مرکز اور ملک بھر میں عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ، تحریک لبیک یارسول اﷲ سمیت 42 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ سرفہرست چند ہی ہیں، جو بھرپور طریقے سے کمپین چلارہے ہیں اور جن کے ووٹرز میں بھرپور جوش و خروش پایا جارہا ہے۔ ان دنوں لاہور سیاسی بینروں اور سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں سے پوری طرح ڈھکا ہوا ہے۔ لاہور کی ہر گلی، چوک چوراہے پر بینر لٹکے نظر آرہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ریلیاں، جلسے جلوس بھی زوروں پر ہیں۔ ایک ایک دن میں کئی کئی جماعتوں کے جلسے ہورہے ہیں، جن سے شہریوں کو انتہائی زیادہ پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ سیاسی جلسوں اور جلوسوں کی وجہ سے پندرہ منٹ کا سفر طے کرنے کے لیے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور یہ ہمارے انتخابات کا المیہ ہے کہ الیکشن کے دنوں میں پورے ملک کا نظام زندگی معطل ہوکر رہ جاتا ہے، جس میں بہتری لانے کی بہرحال ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 220 عمارتوں میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 120 عمارتوں میں مردانہ، 98 میں خواتین اور 19عمارتیں ایسی ہیں جن میں قائم پولنگ اسٹیشنوں میں مردو خواتین ووٹ ڈال سکیں گے۔

حلقہ این اے 120 سے نامزد امیدواروں میں سے بعض گھر گھر جاکر ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوں تو اس حلقے سے 42امیدوار ہیں اور مسلم لیگ کو شکست دینا آسان نہیں، لیکن حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اصل مقابلہ مسلم لیگ کی امیدوار بیگم کلثوم نواز اورپاکستان تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد میں ہی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم ن لیگ کی جانب سے انتخاب میں کامیابی کے لیے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ جہاں ڈاکٹر یاسمین راشد گھر گھر جا رہی ہیں، وہیں مریم نواز بھی گلی گلی اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے کارکنان حلقے میں کارنر میٹنگز منعقد کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے بلدیاتی نمائندوں کو بھی متحرک کررکھا ہے، جو منظم انداز میں اپنے محلوں اور گلی کوچوں میں اپنے اپنے امیدوار کی کنونسنگ میں مصروف ہیں۔ لاہور کا یہ حلقہ ن لیگ کا قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ 1985 سے اب تک اس حلقے سے مسلم لیگ ن کا امیدوار ہی کامیاب ہوتا رہا ہے۔ 2013 کے الیکشن میں میاں نواز شریف یہاں سے کامیاب ہوئے اور وزیراعظم بنے۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں اس حلقے سے بیگم کلثوم نواز کے انتخاب لڑنے سے یہاں خوب گہما گہمی نظرآرہی ہے۔ اس الیکشن میں سب سے مضبوط امیدوار بیگم کلثوم نواز ہی ہیں۔ اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلانے والی مریم نواز این اے 120 میں شامل حلقہ پی پی 140 میں زیادہ زور لگا رہی ہیں جس کی وجہ 2013 کے عام انتخابات میں میاں نواز شریف کو ملنے والے 10 ہزار ووٹوں کی برتری ہے۔ اس الیکشن میں میاں صاحب کی کل برتری 40 ہزار ووٹ کے قریب تھی، جب کہ پی پی 139 میں ن لیگ کی برتری 30 ہزار ووٹوں کے قریب تھی۔ مریم نواز کو اس حلقے میں ایسے علاقوں میں بھی محنت زیادہ کرنے کی ضرورت ہے، جہاں الیکشن 2013 میں مسلم لیگ کو بہت کم ووٹ پڑے تھے۔ 2013کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو شام نگر اور کرشن نگر کے تین پولنگ اسٹیشنز میں 10سے بھی کم ووٹوں سے کامیابی ملی تھی۔ ابدالی روڈ، لیک روڈ، ہائی وے، سنت نگر، ساندہ روڈ اور نیپئر روڈ کے علاقوں میں پانچ پولنگ اسٹیشنز میں مسلم لیگ کو 20ووٹوں سے بھی کم سے کامیابی ملی تھی، جبکہ 16پولنگ اسٹیشنز پر 50ووٹوں سے بھی کم سے کامیابی ملی تھی، جبکہ پاک گرائمر فاؤنڈیشن سکول کھوکھر ٹاؤن وہ واحد پولنگ اسٹیشن تھا، جہاں سے مسلم لیگ کے سربراہ کو ایک ووٹ بھی نہیں ملا تھا۔ 17پولنگ اسٹیشن ایسے تھے، جہاں پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد نے مسلم لیگ کے امیدوار میاں محمد نواز شریف کو شکست دی تھی۔ سابق نااہل وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز بھی انتخابی مہم چلارہی ہیں جوکہ ہرروز حلقے کی کسی ناکسی گلی کوچے میں انتخابی مہم کرتی دکھائی دیتی ہیں،جو اپنے والد کی نااہلی کو بنیاد بناتے ہوئے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد دوسرے نمبر پر مضبوط امیدوار ہیں، جنہوں نے 2013 میں میاں نواز شریف کا زبردست مقابلہ کیا تھا اور اس حلقے سے نواز شریف کے مقابلے میں وسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ لینے والی واحد امیدوار ہیں۔ اس بار بھی وہ اس حلقے سے ایک مضبوط امیدوار ہیں، جو گھر گھر جاکر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سابق ڈپٹی میئر طارق ثناء باجوہ اور سابق ایم پی اے آجاسم شریف بھی ڈاکٹر یاسمین کی حمایت کر تے ہیں۔ یہ دونوں رہنما اس حلقے میں اچھا اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد گھر گھر جاکر لوگوں کو بتارہی ہیں کہ اس حلقے کا بہت برا حال ہے، لہٰذا اگر صاف پانی پینا چاہتے ہیں تو یاسمین راشد کو ووٹ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جیتنے کے بعد یہاں کبھی قدم بھی نہیں رکھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا حلقہ ہونے کے باجود اس حلقے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لوگوں کو پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ یہاں کے رہاشیوں کا شکوہ بھی یہی ہے کہ جس طرح لاہور کے مختلف مراعات یافتہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں ہوئیں اس طرح این اے 120 پر توجہ نہیں کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ عموماً ضمنی الیکشن میں وہی جماعت برتری حاصل کرتی ہے، جس کے پاس وہ نشست پہلے سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جس صوبے میں ضمنی انتخابات ہوتے ہیں، وہاں کی صوبائی حکومت بھی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے، لیکن ان تمام محرکات کے علاوہ انتخابی داؤ پیچ اور حکمت عملی انتخابی سائنس میں قلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں حالات اور انتخابی مہم دیکھ کر کسی اَپ سیٹ کی توقع نہیں کی جاسکتی، لیکن عمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما پرامید ہیں کہ اس بار شکست نواز لیگ کے حصے میں آئے گی۔ درحقیقت لاہور کا یہ حلقہ 1985 سے نواز شریف کا گڑھ ہے اور 2013 کے انتخابات میں بھی اس حلقے سے نواز شریف نے تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو 40 ہزار ووٹوں کی برتری سے شکست دی تھی۔ انتخابی مہم کے علاوہ اس حلقے میں بھی انتخابی داؤ پیچ نتائج پر گہرے اثر انداز ہوتے ہیں جن سے نواز لیگ تو بخوبی واقف ہے، لیکن تحریک انصاف ابھی تک اْن داؤ پیچوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ الیکشن کے دن سے ایک دن پہلے ووٹرز کے گھروں پر ووٹ کی تفصیلات جیسے پولنگ سٹیشن کا نام، شمارتی بلاک کوڈ اور سلسلہ نمبرز والی پرچیاں پہنچانے والی سیاسی جماعت کو قدرے برتری حاصل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ماضی کو دیکھا جائے تو ووٹنگ والے دن جب کسی پولنگ اسٹیشن پر حریف کا دباؤ زیادہ لگے تو تجربہ کار جیالے لائنوں میں لگ کر لڑائیاں کرتے ہیں، تاکہ ووٹنگ کا عمل رْک جائے یا پھر آہستہ ہوجائے۔ الیکشن والے دن ووٹرز کو گھروں سے نکالنا اور اپنی گاڑیوں میں بیٹھا کر پولنگ سٹیشن لانا لے جانا بھی ووٹرز پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

اس حلقے میں تیسرے نمبر پر متحرک اور مضبوط امیدوار محمد شیخ یعقوب نظر آرہے ہیں۔ محمد یعقوب شیخ انرجی سیور کے انتخابی نشان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور حلقہ میں ان کی انتخابی کیمپئین دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح بہت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت حلقہ این اے 120میں سب سے زیادہ متحرک کارکن ملی مسلم لیگ کے ہی ہیں، جو بے لوث جماعتی بنیاد پر یہ کمپین چلارہے ہیں۔ اس حلقے میں ملی مسلم لیگ کا ووٹ بینک بھی کافی زیادہ ہے۔ یہ جماعت حلقے میں چالیس سے زیادہ انتخابی دفاتر قائم کرچکی ہے۔ اگرچہ یہ جماعت پہلی بار الیکشن میں اتری ہے، لیکن اس کے باوجود یہ جماعت جس انداز میں بھرپور طریقے سے کمپین چلارہی ہے، اس کو دیکھ کر یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس حلقے میں ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار تیسرے نمبر پر رہیں گے۔ یہ جماعت مسئلہ کشمیر، نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان اور خدمت انسانیت کے عنوان سے کمپین چلارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان کے بھارت سے ذاتی تعلقات ہیں، جن کی وجہ سے ملک کو کئی معاملات میں نقصان بھی پہنچا ہے۔ را ایجنٹ کلبھوشن ہویا بھارتی بزنس مین جنڈیال ، ان کے معاملے میں میاں نواز شریف کی بھارت نوازی صاف دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ اس جماعت نے اس حلقے میں میاں نوازشریف کے ترقیاتی کاموں کو بھی بنیاد بنایا ہے۔ این اے 120کے مختلف علاقوں میں ہونے والے محمد یعقوب شیخ کے جلسوں اور کارنر میٹنگز میں لوگوں کا رش دیکھنے میں آ رہا، جبکہ ڈور ٹو ڈور مہم کے دوران بھی مقامی لوگوں کی جانب سے بھرپور استقبال کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے محمد یعقوب شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ محمد یعقوب شیخ حلقہ این اے 120میں انتخابی مہم کے دوران حافظ محمد سعید جو کہ پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہیں،ان کی تصاویر استعمال والے اشتہارات اور بینرز نہیں لگاسکتے جس کے بعد این اے 120کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے ایسے اشتہارات، بینرز اور ہورڈنگز اتارنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا، لیکن قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120سے امیدوار محمد یعقوب شیخ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران پروفیسر حافظ محمد سعید کی تصویر استعمال کرنے سے روکے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصویر اشتہارات اور بینرز پر لگائی جاسکتی ہے تو محسن کشمیر حافظ محمد سعید کی تصویر ان کے بینرز اور اشتہارات پر کیوں نہیں لگائی جاسکتی ؟ جن کے متعلق اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں کہ ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہے۔ اس حلقے میں پہلی بار سامنے والے ملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب اور تحریک لبیک یا رسول اﷲ کے امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی بہت اہم ہیں۔ یہ دونوں امیدوار اس حلقے سے جیت تو نہیں سکتے، البتہ مجموعی طور پر نون لیگ کے پندرہ سے اٹھارہ ہزار ووٹ ضرور توڑیں گے۔ یہ وہ ووٹ ہیں جو ہمیشہ نو ن لیگ کو ملے۔ تحریک لبیک یا رسول اﷲ کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مسلم لیگ اور میاں نواز شریف کے خلاف اپنی جماعت کی طرف سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اب ان کی جماعت ممتاز قادری اور ملک میں اسلامی نظام مصطفی کی بنیاد پر ہی عوام سے ووٹ مانگ رہی ہے۔ علامہ خادم حسین رضوی کا اس حلقے میں اچھا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ گزشتہ دنوں جب مسلم لیگ کی طرف سے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کی حمایت کا اعلان بھی کردیا گیا تو انہوں نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینے والوں کی حمایت کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے ہم بھرپور انداز میں الیکشن لڑیں گے، جبکہ اس جماعت کی جانب سے بھی الیکشن کی کمپین بھرپور طریقے سے چلائی جارہی ہے۔اس حلقے میں جماعت اسلامی کے ضیاء الدین انصاری ایڈوکیٹ، پاکستان پیپلزپارٹی کے فیصل میر، پاکستان پیپلزپارٹی ورکرز کی امیدوار ساجدہ میر بھی کافی زیادہ متحرک ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہاں کچھ خاص ووٹ بینک نہیں ہے۔ اسی لیے الیکشن میں ان کے لیے کچھ خاص کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 425840 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2017 Views: 442

Comments

آپ کی رائے