بڑا معجزہ۔۔۔اجتماعی شکر گزاری کی ضرورت ہے؟؟ قسط نمبر 1

(Shafqat Ullah, )

اﷲ نے بہت فضل فرمایا ہمیں ایک آزاد ملک عطا فرمایا ۔یہ پاکستان بہت بڑی نعمت ہے لیکن بیشتر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اب جو کچھ میں لکھنے والا ہوں وہ میرے مشاہدات اور ان سے اخذ کئے ہوئے نتائج پر مبنی ہے۔بات ذرا طویل ہے لیکن میں ضرور کہوں گا۔ ایک تو بنیادی غلطی ہے جو ہم انفرادی طور پر کرتے ہیں اور وہ بہت عام ہے ہمیں کچھ ملے تو ہم دینے والے ہاتھ کو دیکھتے ہیں اﷲ کو ہم دیکھ نہیں سکتے ، اس لئے سوچتے بھی نہیں ۔سوچیں تو تب جب وہ ہماری روح میں اترا ہو۔تو ہم ظاہری طور پر دینے والے کا احسان مانتے ہیں ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ دینے والا ہاتھ بھی اﷲ کا بنایا ہوا ہے اورجو چیز دی گئی وہ بھی اﷲ کی ہے ۔اور اﷲ کا حکم نہ ہوتا تو وہ دینے والا ہاتھ بھی ہماری طرف نہ بڑھتا ،ہم پر مہربان نہ ہوتا ۔یہی غلطی ہم اجتماعی طور پر کرتے ہیں ۔ستر برس گزر چکے پاکستان بنے ہوئے لیکن میں اب تک یہی سنتا ہوں کہ پاکستان محمد علی جناحؒ نے بنایا۔کوئی کہنا تو دور یہ سوچتا بھی نہیں کہ یہ اﷲ کی عطا ہوئی بے مثال نعمت ہے اس کی خوبصورتی دیکھو اس کے وسائل دیکھو ،اور زمین میں چھپے خزانوں کا تو ہمیں علم ہی نہیں یہ رویہ ایک طرف سے اﷲ سے دور کرتا ہے اور دوسری طرف اجتماعی نا قدری کو فروغ دیتا ہے ۔اور یاد رکھو اجتماعی نا قدری بد بختی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ ابھی چوبیس برس ہی گزرے تھے کے ملک دو لخت ہوگیا اور وہیں سے بد بختی کا آغاز تھا ۔لوگ تو کچھ بھی نہیں سمجھتے لیکن میں نے اﷲ کے فضل سے سب سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔پاکستان کا قیام معجزہ ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن پاکستان کا قائم رہنا اس سے بھی بڑا معجزہ ہے میں جانتا ہوں کہ تقسیم ہند کے دوران صرف پاکستان کی تشکیل کے معاملے میں ہی نہیں ،بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان دولت اور وسائل کی تقسیم میں بھی حد درجے نا انصافی کے ذریعے سازش کی گئی مقصد صرف پاکستان کو ناکام بنانا تھا وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان انگریزوں اور بھارتی حکمرانوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں دوبارہ شامل کر لواور یقین کرو کہ جو ظاہری حالات ہیں ان میں ایسا نہ ہونا بہت بڑا معجزہ ہے ۔اور ہمارا ایمان ہے کہ معجزے صرف اﷲ کی طرف سے ہوتے ہیں اور اﷲ کا شکر کہ ایسا نہیں ہوا۔ہو جاتا تو مسلمانوں کے مقدر میں ہندوؤں کی غلامی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔کسی حد تک سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کی معاشی اور اقتصادی صورتحال کیسی ابتر تھی ہمیں ہمارے حق سے بہت کم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا پھر وہ وعدے بھی پورے نہ ہوئے ۔اس میں بھی ڈنڈی ماری گئی مقصد بس پاکستان کو نا کام بنانا تھا اور یہاں جو سیاسی صورتحال تھی اور اب بھی ہے وہ ان کیلئے خوش آئند تھی بھی اور ہے بھی ۔لیکن اﷲ کے فضل سے ساٹھ کی دہائی شروع ہوتے ہی پاکستان ہندوستان سے زیادہ خوشحال ہو گیا پاکستانی روپے کی قیمت ہندوستانی روپے سے بڑھ گئی افراط یہاں تھی اشیاء یہاں سستی تھیں روزگار یہاں بہت تھا اور یہ سب کچھ صرف ایک مستحکم حکومت کی وجہ سے تھا جو قیام پاکستان کے بعد پہلی دفعہ پاکستان کو نصیب ہوئی تھی ۔ایک بات میں یہاں یاد دلاتا چلوں کہ اکھنڈ بھارت ہندوؤں کا خواب ہے جس سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوئے لیکن پاکستان ان شا ء اﷲ ،اﷲ کے فضل سے قائم رہے گا لیکن ہندو اپنے اس خواب کی تعبیر کیلئے سازشیں کرتے رہیں گے ۔یہا ں تک کہ تعبیر ان شا ء اﷲ ۔۔! انہیں اکھنڈ پاکستان کی صورت میں ملے گی۔پاکستان معاشی طور پر بھارت سے زیادہ مستحکم ہوا تو ان کی نیندیں اڑ گئیں ۔انہوں نے جنگ چھیڑ کر معیشت کو تباہ کرنا چاہالیکن اس میں بھی ناکام رہے میں پینسٹھ کی جنگ کی بات کر رہا ہوں جب اﷲ نے مسلمانوں کی غیبی امداد فرمائی اور ہمارا رتبہ دنیا بھر میں بلند کیا ۔پھر انہوں نے ڈپلومیٹک محاذ پر کام شروع کیا ہماری کوتاہیوں اور تقسیم ہند کی پیدا کی گئی جغرافیائی کمزوری اور مشرقی پاکستان کے احساس محرومی کو ہوا دی گئی افسوس ناک بات یہ کہ ہمارے بعض سیاست دان بھی ان کے ایجنٹ بن گئے جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا۔ حمود الرحمٰن کمیشن نے اپنا کام تو مکمل کر لیا لیکن آج تک وہ رپورٹ عوام کے سامنے نہیں لائی گئی اور لوگ برسوں دھوکہ کھاتے رہے ہیں ۔پاکستان کو جو خوشحالی نصیب ہوئی وہ اﷲ کا فضل تھا لیکن دنیاوی اور ظاہری اسباب بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ تو اس خوش حالی میں ایک مستحکم حکومت اور ملک و قوم سے محبت کرنے والی مخلص اور ایماندار بیورو کریسی کا اہم کردار تھا لیکن اس وقت دونوں سے چھٹکارا پایا گیا ۔لوگوں میں عجب قسم کی ہوا چلائی جاتی ہے کہ جمہوریت کی ہی اہمیت ہے لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا ! کیونکہ یہ لوگوں کو بیوقوف بنانے والی چیز میرے خیال میں مسلمانوں کیلئے ہے ہی نہیں ، نہ عوام الناس کیلئے اور نہ ہی لیڈروں کیلئے ۔ لوگ سوچتے ہیں کہ جہاں جمہوریت نہیں ہو گی وہاں آمریت ہو گی یا بادشاہت لیکن میں یہ کہوں گا کہ جس بادشاہ میں خوف خدا ہو ،اس میں برائی کیا ہے۔۔؟؟ جاری ہے۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88335 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
26 Sep, 2017 Views: 223

Comments

آپ کی رائے