سوپرپاور حکمرانوں کی نیندیں حرام ۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

عالمی سطح پر سوپر پاور ممالک کے حکمراں ان دنوں پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں۔ مسلمانوں کو دہشت گرد بتاکر دنیا بھر میں بدنام کرنے والے اسلام دشمن حکمرانوں کی نیندیں اڑگئیں ہیں اور یہ نیندیں مسلمانوں نے نہیں بلکہ اُس شخص نے اڑائی ہیں جس کا نام کم جونگ اُن ہے جو شمالی کوریا کا صدرہے۔میزائل اور نیوکلیر طاقت میں امریکہ کے مقابل کھڑے ہونے کا عزم رکھنے والا کم جونگ اُن ان دنوں عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور کیوں نہ ہو جس نے سخت معاشی پابندیوں کے باوجود کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے طاقتور ترین میزائل اور جوہری ہتھیاروں کی سمت رواں دواں ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کو ’ایسا درد پہنچائے گا جو اس سے پہلے کبھی نہ سہا ہوگا‘۔اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر ہان تائے سونگ نے امریکہ پر سیاسی، معاشی اور عسکری محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنے کا الزام عائدکیا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں انتہائی برے ، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد شمالی کوریانے جمعہ 15؍ ستمبر2017کو ایک اور میزائل فائر تجربہ کیا جو جاپان کی فضائی حدود میں سے گزرتا ہوا سمندر میں جاگرا۔ ــذرائع ابلاغ کے مطابق یہ میزائل فضا میں 770کلو میٹر کی بلندی پر گیا اور 3700 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے جاپان کے شمالی ترین جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے گزرتا ہوا سمندر میں جاگرا۔ اس میزائل کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ یہ میزائل بحر الکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ زمین سے طویل ترین فاصلے تک مارکرنے والا شمالی کورین میزائل ہے۔اس سے قبل شمالی کوریا نے 2؍ ستمبر2017 کو ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس کی طاقت ایک میگاٹن بتائی جارہی ہے۔ اس ہتھیار یعنی ہائیڈروجن بم کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ یہ اتنا چھوٹا ہے کہ باآسانی میزائل کے ذریعہ حملہ کیا جاسکتا ہے ۔ عالمی اداروں نے اس تجربے کے نتیجے میں جو مصنوعی زلزلہ ریکارڈ کیا اس کی شدت 6.3تھی۔شمالی کوریا کا کہنا ہیکہ وہ جاپان کا نام و نشان مٹادے گا اور امریکہ کو بھی اسی قسم کی دھمکی دی ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد جرمن وزیر خارجہ زیگمار گیبریل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ شمالی کوریا سے راست مذاکرات کریں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اگر واقعی شمالی کوریا میزائل اور نیوکلیر تجربات میں مزید پیشرفت کرتا ہے تو اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پہلی تقریر کو چیالنج کرنے کے مترادف ہوگا ۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں کہا تھا کہ امریکہ کا نام ہر چیز میں پہلا رہنا چاہیے لیکن شمالی کوریا کا موقف ہیکہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئے امریکہ کے ساتھ دفاعی توازن قائم کرنا چاہتا ہے جو امریکی صدر کے لئے سب سے بڑا چیالنج ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر عالمِ اسلام میں پھوٹ ڈال کر سعودی عرب ، عرب امارات، بحرین ، مصر کو قطر سے تعلقات توڑنے کا حکم دیا اور قطر پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہا ہے۔جبکہ قطر نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے ۔ قدرتی گیس کی نکاسی کے لئے قطر عالمی سطح پراہمیت کا حامل ہے جبکہ امریکہ بھی گیس کی نکاسی میں پیشرفت کرتے ہوئے سب سے آگے آنا چاہتا ہے جسے قطر سے خطرہ لاحق ہے یہی وجہ بتائی جارہی ہے کہ امریکہ ، قطر کو دہشت گردوں کا آلہ کار بتاکر اس کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے ۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد اسلامی ملک کویت نے سب سے پہلے شمالی کوریا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے علاوہ ازیں سفارت خانے کے درجے کو بھی کم کردیا گیا ہے۔ اب کویت میں شمالی کوریا کے سفیر کے بجائے ایک ناظم الامور اور تین سفارت کار متعین کئے جاسکیں گے۔ کویت نے شمالی کوریا کے ساتھ تجارتی روابط بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے شہریوں کو ویزے بھی جاری نہیں کئے جائیں گے جبکہ حکومت کویت نے کم و بیش ڈھائی ہزار شمالی کوریائی مزدوروں کے معاہدوں میں توسیع نہ کرنے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔ امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے یہ فیصلہ اپنے امریکی دورے کے دو ہفتے بعد کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ دیگر اسلامی ممالک اور ایران کی جانب سے شمالی کوریا کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

امیر قطر سعودی اتحاد سے براہ راست مذاکرات پر تیار
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی ان دنوں ترکی کے بعدیوروپی ممالک جرمن اور فرانس کا دورہ کرچکے ہیں وہ دیگر ممالک کا دورہ بھی کررہے ہیں اس طرح خلیجی بحران کے خاتمے اور اپنی پوزیشن کو عالمی سطح پر واضح کرنے کی خاطر قطر کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اپنے دورے برلن کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے بات چیت کی۔بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر اہم موضوع موجودہ خلیجی بحران رہا۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔جرمن چانسلر میرکل نے واضح طور پر کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ابھی تک اس بحران کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ برلن حکومت اس حوالے سے امریکہ اور کویت کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔جرمن حکومت زور دیتی ہے کہ تمام تر تنازعات کو پرامن طریقے سے مذاکرات اور سفارتی ذارئع سے حل کیا جائے اور قطر کے اس بحران پر بھی برلن کا یہی موقف ہے۔ اسی لیے قطری امیر نے برلن جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس تنازعے کے حل کی خاطر سعودی اتحاد کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر بھی تیار ہیں۔عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق امیر قطر کے دورہ جرمنی اور فرانس کے موقع پر بعض افراد نے انکے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے ۔

امن و آمان کیلئے کوشش ضروری۰۰ امام کعبہ
امن وسلامتی کے لئے اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانیت کی سلامتی کیلئے ایک دوسرے کے درمیان محبت و شفقت اور احترام کرنے کا درس دیا ہے۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کے ماحول کو دیکھتے ہوئے حرم مکی کے خطیب وامام شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے فرزندان اسلام سے کہا ہے کہ دہشت گردی، شدت پسندی ،قتل و غارت گری، فتنہ انگیزی اور ڈرانے دھمکانے کے طور طریقوں سے نجات کے لئے امن کا پیغام پوری دنیا میں پھیلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس ماحول سے بنی نوع انسان کو نجات دلانے کیلئے مسلمانان عالم کو وہی تاریخی کردار ادا کرنا ہو گا جو پیغمبر اسلام محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیر قیادت عصر اول کے مسلمانوں نے قتل و غارت گری سے دنیا بھر کو نجات دلانے کیلئے ادا کیا تھا۔شیخ السدیس نے کہا کہ امت مسلمہ امن و امان کی علمبردار امت ہے۔ بنی نوع انسان کو امن و امان کی اشد ضرورت ہے۔امام کعبہ نے کہا کہ سیرت طیبہ اور اسلامی فتوحات کے واقعات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ میٹھے بول اور حکیمانہ نصیحت کی بدولت دنیا بھر میں اسلام کا بول بالا ہوا۔امام حرم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ناحق اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ اسلام پر دہشت گردی ، شدت پسندی ، ستم ریزی اور تلوار کے ذریعے دعوت پھیلانے کا گھناؤنا الزام لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی امن اور سماجی سلامتی انصاف پھیلا کر ہو گی۔ جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہوگا ، حق داروں کو ان کا حق نہیں دیا جائیگا تب تک امن و امان کا دور دورہ نہیں ہوگا۔ امام حرم نے اقوام و ممالک سے اپیل کی کہ وہ رحمدلی ، رواداری اور الفت باہمی سے کام لیں۔ اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں۔کاش عالمِ اسلام اور مغربی و یوروپی ممالک کے حکمراں امام کعبہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے امن و سلامتی کے لئے پہل کریں۔

سعودی عرب میں حکومت کے خلاف مظاہرے ’گناہ‘
سعودی عرب میں سینئر علماء کمیٹی نے مظاہروں کی کال کو گناہ کا ارتکاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے عناصر کی جانب سے دی گئی ہے جن کا ملک و قوم سے کوئی تعلق نہیں۔ـذرائع ابلاغ کے مطابق کمیٹی نے ان لوگوں کے خلاف لکھا ہے جنہوں نے حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ ٹوئیٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں لکھا ہے کہ یہ رْسوائی کا شکار لوگ ہیں جب کہ ہمارے عوام یکجہتی اور وحدتِ کلام میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ٹوئیٹس میں مزید کہا گیا کہ مملکت سعودی عرب میں حکمرانی اسلامی شریعت کے مطابق ہے اور اس کے کام کرنے اور نظام کے اصول امر میں مقیّد ہیں کہ اسلامی شریعت کی کسی طور خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔کمیٹی کے مطابق مملکت سعودی عرب ایک مبارک ریاست ہے جس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ نے حق اور دین کو نصرت بخشی ہے۔ اس ملک کے دشمن درحقیقت حق اور توحید کے دشمن ہیں۔
***

خبر دار ۰۰۰ این آر آئی ظالم شوہر
اب ان ظالم شوہروں کیلئے خیر نہیں ہے جو بیویوں کو ستاتے ہیں ، جی ہاں! این آر آئیز اپنی من مانی کرتے ہیں، جی ہاں! این آر آئیز کو اب سنبھل جانے کا موقع دیا گیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے ماہ مئی میں ریٹائرڈ جج اروند کمار کی قیادت میں ایک نو رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے سفارشات پیش کردی ہیں، اگر ان سفارشات کو قبول کرلیا گیا اور ان پر عمل آوری کی گئی تو جانے کتنے این آر ائیز کو عبرتناک سزائیں ہونگی۔بیوی کی شکایت پر این آر آئیز کے پاسپورٹ ضبط کرلئے جائیں گے ، انہیں ہندوستان طلب کرکے مقدمہ چلایا جائے گا، اگر این آر آئیزہندوستان ہی میں ہو تو اسے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان سفارشات کے تحت این آر آئیزکیلئے میریج رجسٹریشن لازمی ہوگا۔سوشیل سیکوریٹی نمبر الاٹ ہوگا جس میں ان کی ملازمت کی تفصیلات ، مکمل ایڈریس رہے گا۔ گھریلوتشدد کو ملزمین کی حوالگی معاہدہ کے تحت لایا جائے گا۔ بیویوں پر مظالم ڈھاکر انہیں چھوڑدینے والے شوہروں کے خلاف وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ اور نیشنل کمیشن فار ویمنس مشترکہ طور پر کارروائی کریں گے۔ اکثر این آر آئیز ملک سے باہر رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیویوں پر ظلم ڈھاتے ہیں انہیں چھوڑدیتے ہیں اور قانون کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں ، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 259 Articles with 99651 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2017 Views: 388

Comments

آپ کی رائے