غلام سوچ ،کیسی آزادی؟

(Sami Ullah Malik, )

مشرق وسطیٰ عجیب خطہ رہا ہے۔ یہاں راتوں رات سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہاں دوستی دائمی ہے نہ دشمنی۔ مشرق وسطیٰ میں غداری کی کوئی حد ہے نہ دھوکا دینےاور نہ ہی نفرت کرنے کی۔ خطے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ریاستیں فرمائش اور حکم کے تحت کام کرتی ہیں۔ کبھی پڑوس میں محاذ بنتا ہے تو کبھی گھر آنگن میں۔ اور کبھی اپنے ہی باشندے محاذ کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کردیا جاتا ہے اور انہیں یہ یقین بھی دلا دیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اسلام کیلئےاور اس کے حق میں ہے۔ تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی دولت سے بھرپور سیاسی قوت حاصل کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس کھیل کے کھیلنے والوں کی نظر میں خطے کا وقار کوئی مفہوم نہیں رکھتا۔ وہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ وسائل اگر برباد ہوتے ہوں تو ہوں۔ اس خطے کے لوگ عجیب ذہنیت کے حامل ہیں کہ اپنی بربادی کا سامان کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔

اس سے زیادہ دکھ کی بات کیا ہوگی کہ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں بھی کہ جب ہر طرف شعور کا غلغلہ ہے، مشرق وسطیٰ میں سب کچھ امریکا اور برطانیہ کی مرضی اور حکم کے مطابق ہی ہو رہا ہے۔ ہر معاملے میں اتھارٹی اب بھی مغربی قوتیں ہیں۔ خطے کے لوگ محض غلام ہوکر رہ گئے ہیں۔ حکمرانوں کے نام پر مغربی طاقتوں نے منتظمین متعین کر رکھے ہیں، جو اپنے آقاؤں کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ آزادی دکھائی دیتی ہے مگر ہے کہاں؟ جہاں سوچ ہی غلام ہو وہاں کیسی آزادی؟ یہ خطہ اب بھی حملوں کی آماجگاہ ہے۔ مختلف حوالوں سے قائم شناخت کی بنیاد پر اس خطے کی ریاستوں اور عوام کو ایک دوسرے کے مقابل لایا جارہا ہے۔ عراق، لیبیا، شام، یمن … سب ایک ایک کرکے منقسم ہوتے جارہے ہیں۔ ریاستیں مختلف بنیادوں پر تقسیم ہوتی جارہی ہیں۔ سرد جنگ کے بعد سے یہی اسکرپٹ کام کر رہا ہے۔ ریاستوں پر حملے کیے اور کرائے جارہے ہیں، خانہ جنگی کا بازار گرم کیا جا رہا ہے اور ریاستوں کو دہشت گرد تنظیموں کے چنگل میں پھنسا دیا گیا ہے۔

خرابیاں تواترسے پیدا کی جارہی ہیں۔ یہ بہت سوں کامقدرہوئی ہیں اورمزیدبہت سوں کامقدرہوں گی۔ ترکی،سعودی عرب،پاکستان،انڈونیشیا، شمالی افریقا … سبھی ایجنڈے پرہیں۔ جوپوری تیاری اورمنصوبہ بندی کے ساتھ بہت کچھ کرنے کے عزم پرعمل پیراہیں اوردنیابھرمیں معاملات خراب کررہے ہیں، اُن کی فہرست میں ہم بہت اوپرہیں۔اب سوال یہ بھی نہیں رہاکہ کون امریکاکادوست ہے اورکون دوست نہیں ہے۔ایجنڈاسب کیلئےہے۔امریکاکے دشمن ہی نہیں، دوست بھی ہاررہے ہیں۔ امریکااوراس کے ہم خیال مغربی ممالک پورے مشرق وسطٰی کوتنکوں کی طرح بکھیر دینا چاہتے ہیں۔ یہ عمل بہت تیزی سے جاری ہے۔ وہ دن زیادہ دور نہیں لگتا جب یہ پورا خطہ شہری ریاستوں میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔

شام میں معاملات کونمٹانے کے بعدقطرکی باری آنی تھی مگریہ توبہت پہلے ہی ہوگیا۔ ٹرمپ کے پہلے دورہ ٔسعودی عرب نے کام کردکھایا۔سعودی حکمرانوں سے ملاقاتوں میں خطے کے نئے محاذکاتعین ہوگیااوریوں قطرکوغدارقراردے کرالگ کردیاگیا۔ابھی قطرکامعاملہ شروع ہی ہواتھاکہ ایران کی پارلیمنٹ اور خمینی کے مزارپرحملے کرادیے گئے۔یہ حملے داعش کے ذریعے کرائے گئے ،جواب تک ایران اوراسرائیل پرحملوں سے مجتنب رہی ہے۔ان حملوں کابنیادی مقصدصرف یہ تھاکہ ایرانی قیادت اورعوام دونوں ہی کے جذبات بھڑکادیے جائیں اورقریب تھاکہ یہاں عربوں کے مابین ایک ایسی جنگ شروع کردی جائے جوبعدازاں مسلکی جنگ کی شکل اختیارکرلے لیکن بروقت معاملہ تھم گیا۔ ایسا کیوں؟سیدھی سی بات ہے کہ پوری تیاری کی گئی ہے۔ منصوبہ بندی میں بظاہر کوئی جھول نہیں۔ خفیہ معلومات کانظام بھی ڈٹ کرکام کررہاہے۔ایران کونشانہ بنایاگیاتاکہ ایرانی قیادت اورعوام کے جذبات سعودی عرب کے خلاف بھڑک اٹھیں۔ ذراسی توجہ سے معاملات کاجائزہ لینے پرعقدہ کھلاکہ ایران پرحملے داعش نے نہیں بلکہ اس قوت نے کیے ہیں جوداعش کوکنٹرول کررہی ہے اور یہ بات خطے کے ممالک بھی جان گئے ہیں۔

ادھرامریکی محکمہ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے حکم پرگزشتہ ماہ ایران پر مجوزہ میزائل معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کرنے اوردہشتگرد تنظیموں کی حمایت کرنے کاالزام لگاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں جبکہ ایران کا کہناہے کہ یہ پابندیاں ایٹمی معاہدے کےمنافی ہیں۔ایرانی صدرحسن روحانی دوسری بارصدارتی انتخابات جیتنے کےبعداپنی حلف برداری کی تقریب میں خطاب کرتےہوئےامریکی صدرٹرمپ کوخبردارکیاہے کہ اگرانہوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کیاتویہ اس کی سیاسی خودکشی ہوگی اورایران اس وقت تک معاہدے کی شرائط پرعمل کرتارہے گاجب تک دوسرے دستخط کنندگان بھی ایسا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے خبردارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں''عالمی سیاست میں نوواردوں''سے کچھ لینادینانہیں ہے،اور''پرانے لوگوں''پرزوردیاکہ وہ اس ایٹمی معاہدے کوایک مثال کے طورپردیکھیں کہ بین الاقوامی تعلقات کیسے نبھائے جاتے ہیں۔''وہ لوگ جو ایٹمی معاہدے کوپھاڑکرپھینکناچاہتے ہیں انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کوچیرپھاڑرہے ہیں۔''انہوں نے امریکاپرالزام لگایاکہ وہ ناقابلِ اعتماد ساتھی ہے اوریورپی رہنماؤں پرزوردیاکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کاساتھ نہ دیں۔ایران کے وزیرِخارجہ جواد ظریف نے کہاکہ یورپ کومعلوم ہوناچاہیے کہ ٹرمپ ایٹمی معاہدہ ختم کرکے ایران کونقصان پہنچاناچاہتے ہیں۔ مقامی میڈیاکے مطابق ایران کے رہبرِاعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیرعلی اکبرولایتی نے یورپ سے کہاکہ وہ''ایران کے بارے میں زیادہ خودمختارانہ پالیسی اپنائے''۔

اب معروف عالمی تجزیہ نگار وں نے بھی بالآخرتسلیم کرلیاہے کہ ترکی میں دہشت گردی امریکانے فتح اللہ گولن تحریک کے ذریعے کرائی ہے۔اس معاملے میں کردستان ورکرز پارٹی سے بھی مدد لی گئی ہے۔ شام میں ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے ذریعے خرابیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ تھوڑا سا انتظار اور کیجیے اور پھر دیکھیے کہ جنہوں نے داعش جیسی تنظیموں کے ذریعے شام اور دیگر اسلامی ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے وہی اب عرب ایران جنگ کے نام پر درجنوں نئی انتہا پسند تنظیموں اور گروپوں کو میدان میں اتاریں گے۔
جو کچھ بھی اسلامی دنیا میں ہو رہا ہے اس کی پشت پر ایک ہی ہاتھ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اب عرب ایران جنگ کے نام پر مزیداورزیادہ وسیع البنیاد تباہی کا میدان تیار کیا گیا ہے۔ یہ جنگ جن جن لوگوں کے ذریعے لڑی جاسکتی ہے اُنہیں مختلف طریقوں سے اکسایا جارہا ہے۔ ایسا ماحول تیار کیا جارہا ہے جس میں کسی کیلئےغیر جانب دار اور لاتعلق رہنا ممکن نہ رہے۔ سب کو مجبور کیا جارہا ہے کہ کسی کو حق سمجھیں اور کسی کو باطل۔ یہ حق اورباطل کیاہونے چاہییں اس کا مدار بھی ماسٹر مائنڈ کی سوچ پر ہے۔ وہ جس چیز کو حق قرار دلوانا چاہتے ہیں اُسے حق قرار دلواکر دم لیتے ہیں۔ یہ کھیل اس قدر واضح ہے کہ سمجھ میں نہ آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔امریکا نے سعودی قیادت کو ایران کے خلاف جنگ کیلئےتیار کرلیا ہے اور اس مقصد کیلئےمصر کو بھی ساتھ لیا گیا ہے۔ قطر شاید جنگ کیلئےآمادہ نہ تھا اس لیے اسے الگ تھلگ کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تباہی کی بنیاد بہت عمدگی سے ڈالی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں ایران کو بڑھاوا دیا گیا۔ اُس کا ہاتھ تھام کر عراق، لیبیا، شام اور یمن میں خرابی پیدا کی گئی اور یہ تاثر پروان چڑھایا گیا کہ ایران پورے خطے کو ڈکار جانا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں شیعہ سنی اختلافات زیادہ نمایاں ہوکر ابھرے۔ خطے کی سنیوں نے ایران کے خلاف سوچنا شروع کیا۔ اور اب ایران پر حملے کراکے ایران اور دیگر ممالک کے شیعوں کے دلوں میں سنیوں کیلئےنفرت پیدا کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مغربی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں جس وسیع البنیاد فرقہ وارانہ جنگ کے خواب دیکھتی آئی ہے وہ اب برپا کرنے کی بھرپور تیاریاں کی جارہی ہیں۔یہ فرقہ وارانہ آگ پورے خطے کوتباہی سے دوچارکرے گی۔ کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی ایک ملک بھی غیرجانبدارنہ رہ سکےیعنی اسے یاتو سعودی عرب کاساتھ دیناہے یاپھرایران کا۔یہ سب کچھ اس قدر تباہ کن ہوگا کہ اس کاٹھیک ٹھیک اندازہ لگانابھی انتہائی دشوارہے۔اگر اس جنگ کوروکنے میں متعلقہ ممالک ناکام رہے تو پورا خطہ کم ازکم پچاس سال پیچھے چلاجائے گا۔

خطے کے عوام کے جذبات بھڑکانے اور انہیں فرقہ وارانہ سوچ اپنانے پر اکسانے کیلئےدہشت گردی کرائی جائے گی۔ سعودی عرب اور ایران میں بہت سے مقامات کونشانہ بنایا جاسکتا ہے تاکہ عوام کے جذبات بھڑکیں ۔یہ معاملہ سمجھنے کاہے۔مغربی قوتیں کھل کراپنا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں۔ اس کیلئےوہ عوام کو بھی بروئے کار لانا چاہتی ہیں۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنیں یا نہ بنیں۔

ٹرمپ نے بہت تیزی سے مشرق وسطیٰ کونئی جنگ کی طرف دھکیلنےکی بھرپور کوششیں شروع کردی ہیں۔ خطے کے تمام ممالک کو مجبورکیاجارہاہے کہ وہ کسی ایک کیمپ کاحصہ ضروربنیں۔ٹرائیکا(امریکااسرائیل اوربھارت)کی طرف سے پاکستان پرسب سے زیادہ دباؤڈالنے کاپلان انتہائی خوفناک اوربے رحمی سے تیارکیاگیاہےکیونکہ پاکستان نہ صر ف پہلااورواحداسلامی ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اورمیزائل ٹیکنالوجی میں اس کی زبردست ترقی اور قوت نے ٹرائیکاکی نیندکوحرام کردیاہے بلکہ دنیامیں معاشی اورصنعتی انقلاب کے کامیاب چشمے (سی پیک)بھی پاکستان سے پھوٹنے جارہے ہیں۔ نیزپاکستان کی اسلحہ سازی میں نہ صرف خودکفالت بلکہ عالمی منڈی میں پاکستانی اسلحے کی روز افزوں مانگ سے بھی دشمنوں کے سینے پرسانپ لوٹ رہے ہیں۔ادھر افغانستان کے تورابورا کے غاروں میں داعش کے جنگجوؤں کوپہنچانے کی امریکا کی ساری کاروائی کی سازش بھی طشت ازبام ہوچکی ہے جس کے بروقت جواب میں پاکستان کے عسکری اداروں نے'' خیبرفور'' کاکامیاب آپریشن کرکے راجگال اورگردونواح کاساراعلاقہ دہشتگردوں سے نہ صرف خالی کروالیاہے بلکہ اس دشوارگزارپہاڑی علاقوں پراپنے ٹھکانوں کومضبوط اورآئندہ کیلئے داعش کی ہرقسم کی مداخلت کوتقریباًناممکن بنادیاہے جس سے ٹرائیکاسٹپٹاگیاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں پانامافیصلے کے بعدموجودہ سول حکومت کی اکھاڑ پچھاڑ کے بعدممکنہ انتشارکے منصوبے پرہم کس حکمت سے قابوپاتے ہیں۔

دوسری طرف خطے کی مسلم قیادتیں اگرنوشتۂ دیوار نہیں پڑھیں گی تو معاملات مزید خرابی کی طرف جائیں گے۔ اگر کوئی وسیع البنیاد جنگ چھڑی تو مقدس مقامات پربھی خرابی پیداہوگی۔اگرمکہ مکرمہ پرلشکرکشی ہوئی توٹینک ایران کے ہوں گے یاپھر امریکاکے،میزائل برسے تووہ امریکاکے ہوں گے یاپھر ایران کے، ایسی صورت میں کس حد تک تباہی ہوسکتی ہے، معاملات کتنے بگڑ سکتے ہیں اس کا کسی کو بخوبی اندازہ نہیں۔ اس حوالے سے سوچنے اور محتاط طرزفکروعمل اختیارکرنے کی ضرورت ہے۔خطے کے ہرملک کی قیادت کو بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ کو کچھ بھی نام دے لیجیے، وہ ہوگی تو خطے کی تباہی کیلئے اور اس تباہی کے بعدخطے کوبحال کرنے میں ایک زمانہ لگ جائے گا۔شنیدہے کہ اس حج کے موقع پرپوری دانشمندی کے ساتھ دشمن کی سازشوں کوناکام بنانے کیلئے مصالحت کاسفرفوری شروع کرنے کاآغازہوگیاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 233583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2017 Views: 392

Comments

آپ کی رائے