ٹرمپ غنی ملاقات بلی تھیلے سے باہر

(Raja Majid Javed Bhatti, )

گزشتہ دنوں واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان صدر اشرف غنی نے ملاقات کی جس میں افغانستان میں نایاب معدنیات کو نکالنے کے لئے امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ حالانکہ ملک میں صنعتی کان کنی کے راستے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل ہیں۔ افغانستان سے انتہائی قیمتی معدنات نکالنے کے سلسلے امریکہ افغانستان مذاکرات کا سلسلہ کافی عرصہ سے چل رہا ہے۔ افغانستان کی معدنیات کی تذویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے نئی افغان پالیسی پر بھی غور و غوض کیا گیا۔ افغانستان میں امریکہ کی طرف سے 16سال کے دوران کئی بلین ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود کوئی نمایاں کامیابی نہ ملنے کے تناظر میں اب خسارے کی سرمایہ کاری کے توڑ کے طور پر افغانستان کی معدنیات پر قبضے اور رسائی کا امریکی منصوبہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ٹرمپ غنی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مختلف ترغیبات امریکی کمپنیوں کو قومی سلامتی سے متعلق انتہائی حساس معدنیات اور مواد کو ترقی دینے میں معاون ثابت ہونگی۔ اس کے نتیجے میں افغانستان میں معیشت بھی ترقی کریگی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق افغانستان میں ایک ٹریلین امریکی ڈالر مالیت کی نایاب معدنیات بشمول سونا، جیم سٹون، لیتھینیم موجود ہیں لیکن ٹرانسپورٹ اور صنعتی ڈھانچے کی کمی کے ساتھ ساتھ ملک میں جاری پُرتشدد تحریک جس کے نتیجے میں آدھے افغانستان پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اس لئے ان معدنیات کو نکالنا اقتصادی اعتبار سے سودمند نہیں۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے نتیجے میں افغانستان سے نکلنے والی بعض نایاب معدنیات کی قدر و قیمت بڑھ گئی ہے۔ تاہم چین کی طرف سے ایسی نایاب معدنیات کو نکالنے میں برتری سامنے آ رہی ہے۔ واشنگٹن کی طرف سے بیجنگ کے ایسے خام مواد تک رسائی جو کہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں اہمیت کا حامل ہے باعث تشویش ہے۔ دوسری طرف یہ بھی واضح نہیں ہے کہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں کس طرح ایک موزوں ترقیاتی منصوبہ مستقبل میں قابل عمل ہوسکے گا۔ معدنیات کو نکالنا ایک مشکل اور مہنگا عمل ہے۔ خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ نایاب معدنیات کا بڑا ذخیرہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں ہے جو کہ طالبان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ جس کی وجہ سے معدنیات نکالنے والے کسی اور جگہ آسان مواقع دیکھیں گے۔ مائیک ہارویل سڈنی میں ایک تحقیقی فرم ہارونڈ کے تجزیہ کار کے مطابق کہ افغانستان میں اس وقت نایاب معدنیات کو نکالنا کسی بھی سطح پر کوئی سینس نہیں رکھتا جب تک یہ سب کچھ حکومتی فنڈ سے نیشنل بلڈنگ پراجیکٹ کے طور پر نہ ہو۔ یہ سادہ کاروبار نہیں اور اس مقصد کے لئے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی بھی بہت قیمتی ہے۔ 2010ء میں نایاب معدنیات کے بوم کے دوران شمالی امریکہ میں بہت سارے منصوبوں کا مطالعہ کیا گیا جن کے لئے ابھی تک فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔ اس لئے افغانستان میں منصوبہ شروع کرنے سے قبل شمالی امریکہ میں کسی ایک منصوبے کے لئے فنڈز کی فراہمی ضروری ہے۔
 
بہرحال اب بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے اور یہ بات واضح ہو گئی ہے جس کی طرف پہلے بھی بہت سارے تجزیہ نگار اشارہ کررہے تھے کہ افغانستان میں امریکہ کی آمد کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ وہاں کی نایاب معدنی دولت پر قبضہ کرنا ہے۔ افغانستان سونے کی کان ہے شاطر امریکیوں کیلئے تباہ حال ملک نہیں سونے کی کان ہے جس پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے جواز ڈھونڈ لیا گیا مکمل فتح اور دہشت گردی کے خاتمے تک امریکی فوجیں افغانستان میں پرچھائیوں کا تعاقب کرتی رہیں گی کیونکہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ مال غنیمت کا حقدار فاتح ہوتا ہیلیکن وہ جوش جنوں میں بھول رہے ہیں کہ جب لاکھوں امریکی فوجی 16 برس میں کچھ نہ حاصل کرسکے اب چند ہزار امریکی سپاہی کیا کر لیں گے۔ نئی حکمت عملی کی آڑ میں کرائے کے سپاہیوں کے ذریعے معدنیات سے مالامال علاقوں کو محفوظ جزیرے بنا کر مغربی کمپنیوں کے ذریعے افغانستان میں دفن معدنی خزانے سے کھربوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں۔ سابق امریکی صدور اس سراب کے پیچھے بگ ٹٹ بھاگتے ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔افغان صدر اشرف غنی نے ٹرمپ کو اس پرکشش جال میں پھنسایا ہے تاکہ ان کے اقتدار میں ہرممکن توسیع ہوسکے یہ افغان صدر ہیں جنہوں نے افغان معدنی دولت کے استعمال کو اقتصادی ترقی کے امکان کے طور پر پیش کیا تھا۔ ٹرمپ اس چکر میں آگئے اور قائل ہوگئے کہ نفع کمانے کی آرزو ہی ایک ایسی معقول وجہ ہوسکتی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج لامتناہی مدت کیلئے رکھی جائے۔ آرزو کی یہ بیل منڈھے چڑھانے کی جستجو میں وائٹ ہاس ایک ماہر ارضیات (Geologist) کو خصوصی نمائندہ ظاہر کرکے افغانستان بھجوا رہا ہے جو معدنیات کے شعبہ کے افغان حکام سے ملاقات کرے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Majid Javed Bhatti

Read More Articles by Raja Majid Javed Bhatti: 57 Articles with 25514 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2017 Views: 389

Comments

آپ کی رائے