دیباچہ ’حکیم محمد سعید شہید کے خطوط بنام وفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری ‘مؤلف سید محمد اصغر کاظمی

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اَہلِ علم اور مَشاھِیر کے خطوط کی وَقعَت ا ور افادیت مسلمہ ہے۔تاریخِ انسانی شاہد ہے کہ خط، مراسلت یا مکتوب رسانی حضرت انسان کے مابین باہمی تعلق کا ذریعہ رہا ہے۔فاصلو ں پر رہتے ہوئے خط ہی وہ واحد سہارا تھا جو دو دلوں کے درمیان دوری کو کم کرنے کا ذریعہ تھا۔ وقت اور ترقی کے ساتھ ساتھ خط نے بھی اپنی ہیئت یعنی شکل صور ت بدلی، جب تحریر ایجاد نہیں ہوئی تھی اس وقت یہی خط یا مکتوب اپنی اولین صورت’ تصویری خط ‘ طویل فاصلے پر رہنے والوں کے درمیان خیالات کے باہم تبادلے کا ذریعہ تھا۔تصویر کشی فن تحریر یا خطاطی کا سنگِ میل اور خطاطی و مصوری کا سرچشمہ تصو ر کی جاتی ہے۔ تحریر کی ایجاد کے بعد خط نے اپنے ہئیت بدلی اور یہ صورت آج تک رائج ہے لیکن اب اس نے ایک نئی صورت اختیار کرلی ہے وہ ہے انٹر نیٹ پر ای میل، موبائل پر ایس ایم ایس۔ لیکن اس کی اہمیت اور افادیت میں آج تک کمی نہیں آئی۔

مکتوبات نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کے خطوط، حجاج بن یوسف کا خط، حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ کے خطوط، شیخ شرف الحق احمد یحییٰ مینری رحمت اﷲ علیہ کے مکتوبات اور اسی طرح دیگر علمائے دین کے خطوط تاریخ میں زندہ و جاوید ہیں۔ ادب میں بھی خطوط کا اعلیٰ مقام ہے۔عبد الرحمٰن چغتائی نے غالبؔ کی مکتوب نگاری کو غالبؔ کی شاعری سے کہیں اعلیٰ درجہ کی تخلیق قرار دیا
ہے۔بقول غالب ؂
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کوئی پیغامِ زبانی اور ہے

خطوط نگاری میں مولانا آزادکا مقام بھی بلند ہے ۔ ’’غبارِ خا طر‘‘ ان کے مکتوبات کا مجموعہ ہے۔ علامہ اقبال کے خطوط کا اپنا ایک مقام ہے، ڈپٹی نذیر احمد کے خطوط ادبی تاریخ میں اہم ہیں۔ زمانے نے کروٹ لی ،نئی ایجادات یعنی کمپوٹر، انٹر نیٹ، موبائل اور ابلاغ عامہ نے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا، خطوط لکھنے اور بھیجنے کا رواج دم توڑ تا جارہا ہے۔ شاعروں اور ادیبوں کے مابین مکتوبات کا جو تبادلہ ہوا کرتا تھا ان میں بڑی حد تک کمی آگئی ہے۔ادیبوں ، شاعروں ، دانشوروں کے خطوط ہماری ادبی تاریخ میں بلند مقام رکھتے ہیں۔راغب ؔ مرادبادی کے بقول ؂
دل دادہ کتابوں کے ہیں جو صاحبِ ذوق
پڑھتے ہیں خطوط ‘ اہل دانش کے بشوق

پیش نظرخطوط کا مجموعہ جسے سید محمد اصغرکاظمی نے مرتب کیاہے، وطنِ عزیز کا درد رکھنے والے، پاکستان سے محبت کرنے والے، تعلیم کے شعبے میں بے بہا خدمات انجام دینے والی شخصیت حکیم محمد سعید شہید کے خطوط علم و ادب کے معروف استاد، نثر نگار، تنقید نگار،دانش ور پروفیسر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے۔ ایک اہل علم کے خطوط دوسرے علم و دانش کے نام ،دانش و حکمت کا اعلیٰ نمونہ اور ادب میں حسین اضافہ ہے۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ مؤلف نے حکیم محمد سعید شہید کے خطوط ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے نام مرتب کر کے علم و ادب کے مواد میں قابل قدر اضافہ کیا ہے۔ اس نوع کے علمی کام اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہنے چاہیے، ان کی علمی ، ادبی اہمیت ہے ، خطوط کے ذریعہ کسی بھی اہل علم کے خیالات،نظریات سامنے آتے ہیں جو تحقیق کرنے والوں کے لیے تحقیق میں معاون ہوتے ہیں۔غالب ؔ کو بجا طور پر خطوط نگاری کا بابائے آدم کہا جاتا ہے ، غالب ؔ کے خطوط صنفِ ادب کا اولین سنگ میل شمار ہوتے ہیں۔ خطوط لکھنے کی ابتدا جس کا آغاز غالبؔ سے ہوا تھا وہ سرسیداحمد خان، الطاف حسین حالیؔ ،شبلی نعمانی، نزیر احمددہلوی، محمد حسین آزادؔ ، اکبرؔ الہٰ آبادی، ابو الکلام آزادؔ ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؔ ، مولوی ڈاکٹر عبد الحق(بابائے اردو)، سید سلیمان ندوی، غلام رسول مہر، رشید احمد صدیقی سے ہوتا ہوا مشفق خواجہ اور حکیم محمد سعید تک پہنچااور اب یہ سلسلہ برقی خطوط کی شکل اختیار کرتے ہوئے مختلف نوع کے خطوط و پیغامات کی صورت میں عام لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ غالبؔ کے خطوط مرتب کیے گئے، اقبالؔ کے خطوط مرتب ہوئے،جامعہ سرگودھا شعبہ اردو کے استادڈاکٹر خالد ندیم نے مکتوبات کے حوالے سے ’ مکاتیب مشفق خواجہ بنام ڈاکٹرسلیم اختر و ڈاکٹر طاہر تونسوی‘،’ اقبالیاتی مکاتیب‘،’ مکاتیب ابن فرید‘ مرتب مرتب کیں۔اس کے علاوہ’ خطوط اقبال‘ مرتبہ رفیع الدین ہاشمی،’ مکاتیب اقبال بنام خان نیاز الدین‘ عبداﷲ شاہ ہاشمی نے مرتب کی، پیش نظر مجموعے کے
مؤلف سید اصغر کاظمی نے ’خطوط احباب ’جہان حمد ‘ اور ارمغان حمد میں شائع شدہ خطوط پر مبنی انتخاب کے علاوہ مکتوبات کے کئی مجموعے مر تب ہو چکے ہیں۔

میری خوش بختی ہے کہ میری مکتوب نگار اور مکتوب الیہ یعنی محترم حکیم محمد سعید شہید اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری مرحوم سے شناسائی رہی، حکیم صاحب پرکئی مضامین لکھے ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری پربھی مضامین لکھے، دونوں سے علم و ادب اور پیار و محبت کا رشتہ تھا۔ حکیم سعید سے کتاب اور کتب خانوں کی ترقی اور فروغ ہمارے درمیان تعلق تھا۔ملک میں کتب خانوں کی ترقی و فروغ کے حوالے سے حکیم سعید ایک ادارے ’انجمن فروغ و ترقی کتب خانہ جات Socity for Promotion & Improvemnt of Libraries, SPILکے بانی صدر تھے اور راقم ا نجمن کا جوائنٹ سیکریٹر ، علاوہ ازیں مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ میرے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’’پاکستان میں لائبریری تحریک کے فروغ اور کتب خانوں کی تر قی میں شہید حکیم محمد سعید کا کردار‘‘ تھا ۔حکیم محمد سعید، کتاب اور کتب خانوں کے حوالہ سے پی ایچ ڈی کی سطح پر یہ اولین تحقیق ہے جس پرجامعہ ہمدرد سے 2009میں راقم کو پی ایچ ڈی کی سند عطا کی گئی۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے میری شناسائی اور عنایت کئی سالوں پر محیط رہی۔ میری دوکتابوں کی تعارفی تقریب میں ڈاکٹر صاحب نے بحیثیت مہمان خصو صی شرکت کی، ۲۰۱۲ء میں آپ نے میرے خاکوں کے مجموعے ’’جھولی میں ہیرے اور موتی‘ کا فلیپ تحریر فرمایا، حالانکہ آپ کی صحت ٹھیک نہیں تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی عنایت تھی کہ انہوں نے اپنی خرابی صحت کے باوجود میری ایک اور کتاب ’’یادوں کی مالا ‘‘ پر بھی اپنی رائے کا اظہار فرمایا ۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری اہل علم و دانش کے لیے ایک سرمایہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں جمیل الدین عالیؔ نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ ’اس قحط الرجال میں ان کا دم بڑا غنیمت تھا ۔ اسم بامسمیٰ تھے۔ یقیناًان لوگوں میں سے تھے جن کی عزت کرنے کو جی چاہتا ہے۔ وہ بڑی خوبیوں کے ملک تھے۔ بیک وقت کئی جہتوں میں مثالی کارنامے انجام دیئے ۔ ان کی یادوں کے چراغ روشن رکھنے کی ضرورت ہے‘۔ علامہ نیاز فتح پوری کے مشن کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ قیام پاکستان کے بعد ’نگارِ پاکستان‘ کی تدوین و اشاعت کا بار ڈاکٹر صاحب کے کاندھوں پر آن پڑاتھا جسے انہوں نے خوش اسلو بی کے ساتھ اپنی آخری سانسوں تک نبھایا ۔ ڈاکٹر صاحب نگاری پاکستان کے مدیرِ اعلیٰ جب کہ سیدا صغر کاظمی ڈاکٹر صاحب کے شریک سفر اور نگارِ پاکستان کے مدیر رہے ، یہ علمی و ادبی جریدہ بھی ڈاکٹر صاحب کی آخری سانسوں تک نکلتا رہا ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد اس کا صرف ایک شمارہ ہی منظر عام پر آیا اور پھر اب تک خاموش ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی تصانیف و تالیفات معیار و مقدار کے اعتبار سے بلندی کے اعلیٰ مقام پر ہیں۔ کاظمی صاحب نے ڈاکٹر فرمان فتح پوری کو مختلف انداز سے اپنا موضوع بنایا ۔متعدد کتابیں ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے مرتب کیں۔

کتاب اور کتب خانہ حکیم محمد سعید کی شناخت ہے جو تاابد آپ کو زندہ وجاوید رکھے گی، اپنی اس شناخت سے آپ کو بے حد عقیدت اور لگاؤ تھا جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ جب آپ نے شہر علم مدینتہ الحکمہ کے بارے میں اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ تیار کیا تو اس قطعہ اراضی پر کہ جس پر شہر علم بسایا گیا ہے سب سے پہلے پائے تکمیل کو پہنچنے والی عالی شان عمارت لائبریری کی تھی جو بیت الحکمہ کے نام سے معرض وجود میں آئی۔ اس لائبریری کو بجا طور پر دنیا کی ایک منفرد، مثالی اور ایشیاء کی بڑی لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ نے اس کتب خانے کا نام بیت الحکمہ رکھا۔گویا آپ کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل روح کا ادراک رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ شہر علم (مدینتہ الحکمہ) کی اصل روح (بیت الحکمہ) کی تخلیق کو اولیت دی گئی اوربیت الحکمہ کی تعمیر کے بعد دیگر تعلیمی اداروں جن میں اسکول، کالج،یونیورسٹی اور انسٹی ٹیوٹس شامل تھے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اخبارات کے تراشے محفوظ کرنا، حکیم صاحب کا محبوب رترین،مشغلہ تھا، لاکھو کی تعداد میں اخباری تراشہ جات آج بھی ان کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔

خطوط لکھنا حکیم صاحب کا خاص وصف تھا۔ ان کے تحریر کردہ خطوط پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں ہزاروں لوگوں کے پاس محفوظ ہوں گے۔ وہ تسلسل کے ساتھ، علمی، ادبی، سیاسی، معاشی ، معاشرتی، حکومتی، علمی و ادبی شخصیات اور اداروں کو خطوط لکھا کرتے تھے۔ ان کے خطوط کا اسلوب علمی، ادبی اور احترام و عقیدت کا رنگ لیے ہوئے ہے، ان میں ادبی و لسانی تکنیک نمایاں نظرآتی ہے۔ وہ متعدد انجمنوں ، اداروں سے وابستہ تھے، ادارہ ہمدرد کے حوالے سے ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع تھا۔حکیم محمد سعید نے خدمت خلق، وطن سے محبت اور اصلاح معاشرہ کے لیے مختلف طریقے اور پروگرام ترتیب دیے ان میں جاگو جگاؤ، پاکستان سے محبت کرو پاکستان کی تعمیر کرو، پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست کے بجائے 27رمضان المبارک کو منانے کی تحریک، کتب خانوں کے قیام اور فروغ کی تحریک، آواز اخلاق، ڈاکٹروں، حکیموں اور سائنس دانوں میں سہ فریقی اتحاد، علما اور علم کا احترام، صحت مند قوم، خودی، دن میں دو وقت کھانا، اردو زبان کی ترویج و ترقی، اسلامی تعلیمات کا فروغ، جہاں دوست، جوانان امروز کے علاوہ شام ہمدرد جو بعد میں ہمدرد مجلس شوریٰ کہلائی کے علاوہ بزم ہمدرد نونہال شامل ہے۔ شام ہمدرد کا آغاز 1961ء میں کیا گیا۔ اس کے ذریعے پاکستانی دانشوروں، ادیبوں، شعراء، حکماء اور سائنس دانوں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، صحافیوں غرض ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو ایک ایسا فقید المثال پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جس کے ذریعے وہ اپنا نقطہ نظر عوام الناس تک پہنچا سکتے تھے۔ 1955ء میں حکیم محمد سعید نے فقید المثال تحریک شام ہمدرد کو ’ہمدرد مجلس شوریٰ‘ کا مرتبہ ومقام دینا طے کیا۔ شورائیہ ہمدرد کے بنیادی مقاصد کی وضاحت آپ نے ان الفاظ میں کی’شورائیہ ہمدرد پاکستان میں ارباب اقتدار کی فکر و عدل کو صراط مستقیم دینے کا فریضہ انجام دے گی ۔شام ہمدرد کے مقررین اور صدور کی تعداد تقریباً ایک ہزار کے قریب رہی۔ شوریٰ ہمدرد حکیم محمد سعید شہید کی علمی، طبی سماجی، ثقافتی اور تعلیمی خدمات کا ایک عظیم الشان مرکز ہے کہ جو علم کا چراغ جلائے ہوئے ہے اور فکر و عمل کی راہیں نہ صرف کھولتا ہے بلکہ ان راہوں کو کشادہ ہی کرتا جارہا ہے۔آپ بچوں سے بے انتہا محبت کرنے لگے تھے ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں ’’جب میں نے اپنی محبت کو اس قدر بڑھا لیا کہ مجھے پاکستان کا ہر بچہ اور دنیا کا ہر بچہ اپنا لگا تو پھر مجھے بزم ہمدرد نونہال شروع کرنے کا خیال آیا میں جس طرح اپنی اولاد کی بھلائی کی سوچتا ہوں اسی طرح میں ہر بچے کی بھلائی کی سوچتا ہوں۔ یہ اس سوچ کے نتیجہ میں بڑوں کی شام ہمدرد کی طرز پر بچوں کی شام ہمدرد کا تصور سامنے آیا۔ آپ نے ’بزم ہمدرد نونہال‘ (نونہال اسمبلی) کی ابتدا کی۔آپ بچوں کے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے۔ بچوں سے محبت اس قدر بڑھی کہ آپ نے بچوں کے لیے باقاعدہ اور مسلسل لکھنا شروع کر دیا اور اس قدر لکھا کہ نو نہال ادب کے تمام مصنفین کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 1992ء میں لکھی گئیں بارہ ’سچی کہانیاں‘ بچوں کے ادب میں ایک انمول اضافہ ہے ۔ بچوں کے لیے جتنی تعداد میں سفرنامے لکھے شاید ہی کسی اور نے بچوں کو اتنی اہمیت دی ہو۔ اس کے علاوہ بچوں کی صحت، غذاؤں، ، حفظان صحت اور اخلاق پر بے شمار مضامین اور کتب تحریر کیں ۔

تعلیم و تعلم کی اہمیت کو حکیم سعید نے اس حد تک سمجھا اور اشاعت تعلیم کے لیے اس قدر کام کیا کہ بچوں کے سرسید کہے جانے لگے ۔حصول علم ،تخلیق علم، فروغ علم اورتحفظِ علم کے حوالے سے حکیم محمد سعید کی خدمات ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔ پاکستان کی58 سالہ تاریخ میں ہمیں کوئی ایک مثال ایسی نہیں ملی کہ کسی فرد واحد نے علم کے حوالے سے اس قدر عظیم خدمات سر انجام دی ہوں۔ تصانیت کے حوالے سے آپ کی تخلیقات تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ تعلیم کے بارے میں آپ کی رائے یہ تھی کہ ’ تعلیم کے بغیر انسان مکمل نہیں ہوتا اور تربیت کے بغیر انسانیت میں نکھار پیدا نہیں ہوتا۔ تعلیم و تربیت کے بغیر آدمی ایسا ہے کہ جیسے بے روح، ایک جسد بے حیات۔ تعلیم کے بغیر ایک ملت زندگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتی اور تربیت کے بغیر ایک ملک عظمت حاصل نہیں کر سکتا‘ حکیم صاحب کا رابطہ مکتوبات کے ذریعہ ہی لوگوں سے رہتا تھا اورانہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں خطوط لکھے ہوں گے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری مرحوم کیونکہ ایک علمی وا دبی شخصیت کے مالک تھے انہیں خطوط کی اہمیت اور وقعت کا ادراک تھا چنانچہ انہوں نے ان خطوط کو حفاظت سے رکھا اور ان کایہ عمل اس کتاب کی صورت میں حقیقی روپ اختیار کرچکا ہے۔ دیگر احباب جنہوں نے فرمان صاحب کی پیروی میں حکیم سعید شہید یا دیگر علمی ادبی مشاہیر کے مکتوبات کو محفوظ رکھا ہے تو وہ بھی اصغر کاظمی یا ان جیسے علمی و ادبی کام کرنے والوں سے رابطہ کریں یا از خود انہیں طبا عتی صورت میں منظر عام پر لانے کی سعی کریں ،کہ یہ ایک بڑی علمی خدمت ہوگی۔

پیش نظر تصنیف میں شامل حکیم محمدسعید شہید کے خطوط مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان خطوط میں حکیم صاحب ڈاکٹر صاحب کو علمی و ادبی موضوعات پر لکھنے اورگفتگو کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں ، شکرگزاری کرتے ہوئے، مشورہ کرتے ہوئے، مشوروں پر احسان مند ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے حکیم صاحب کے خطوط کو حفاظت سے رکھا، ان کے تمام خطوط جمع کرتے رہے اور یہ بات اور بھی خوش آئند ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ان خطوط کو ایک ایسی علمی وادبی شخصیت کے سپرد کردیا جو خطوط کی اہمیت سے واقف، حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔مؤلف مکاتیبی ادب کی تدوین کے آداب سے کمہ حقہ‘ واقف ہیں ، عملاً انہیں برتنے کی استعداد رکھتے ہیں۔یہ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے تربیت یافتہ ہیں،انہوں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کو کام کرتے دیکھا ہے، ان کی سرپستی میں انہوں نے طویل عرصہ تک ادبی ، تصنیفی کام بھی کیا ہے۔ انہوں نے مکتوبات کو یکجا کرکے ایک بہت بڑا علمی کام انجام دیا ہے۔ حکیم محمد سعید شہیدکے خطوط کو زمانے کے ہاتھوں تلف ہونے سے محفوظ رکھا، سلیقے سے ، ہنر مندی کے ساتھ ان خطوط کو یکجا کرکے کتابی شکل میں پیش کردیاہے۔خطوط کا یہ مجموعہ حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری پر تحقیق کرنے اور مضامین تخلیق کرنے میں کسی بھی محقق کے لیے ایک بنیادی حوالہ اور ماخذ ہوگا۔ اس عمدہ کام پر سیدمحمد اصغر کاظمی مبارک باد کے مستحق ہیں۔افسوس مکتوب نگار اور مکتوب الیہ اب اس دنیا میں نہیں، انہوں نے ادبی دنیا کو جس علمی و ادبی خزانے سے مالا مال کیا وہ رہتی دنیا تک انہیں زندہ و تابندہ رکھے گا۔
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 751 Articles with 638326 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
09 Oct, 2017 Views: 669

Comments

آپ کی رائے