شہزاد راٹھور کی ایک تحریر کا جواب

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)

آج آپ نے ایک اطلاع پر مبنی فیس بک کی ایک پوسٹ کے حوالے سے مجھے موضوع بنا دیا۔آپ سے ٹیلی فون پر اسی حوالے سے بات بھی ہوئی۔.کوشش کرتا ہوں کہ آپ کی طرف سے اس حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دوں تاکہ آپ اور قارئین بھی معاملے اور صورتحال کو دیکھ سکیں۔سب سے پہلی بات کہ مجھے اس اطلاع پہ یقین تو ہے لیکن فیس بک پوسٹ پہ دی گئی یہ اطلاع میری طرف سے دعوے کے طور پر پیش نہیں کی گئی(جیسا کہ آپ نے اس کو میرا دعوی قرار دیا ہے) بلکہ ایک اطلاع کے طور پر شیئر کی گئی ہے۔اس اطلاع کی پوسٹ میں اطلاع ہی دی گئی ہے،اس میں میرا کوئی کمنٹ شامل نہیں ہے۔

اس معاملے کو علاقائیت کا رنگ دینے کی کوشش کے تناظر میں یہ بات بیان کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آزاد کشمیر میں انڈیا کے معاون دوسرے اضلاع میں بھی ہونا عین ممکن ہے تاہم مجھ تک جو اطلاع پہنچی اس کے مطابق بیان کردہ دو اضلاع سے متعلق ہندوستان نے خصوصی کوشش سے اپنا نیٹ ورک بنایا ہے جو انڈیا کے لئے کام کر رہا ہے۔میں1979ء سے ذاتی طور پر تحریک آزادی کا گواہ ہوں اور بہت سی ایسی باتوں کا گواہ بھی ہوں جو احاطہ تحریر میںلانا مناسب نہیں ہوتا ۔بارڈر ایریا ،خاص طور پر کنٹرول لائین کے بالکل ساتھ رہنے والوں کے معاملات ذرا مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں ۔نیلم ویلی میں کئی افراد اسی نوعیت کے معاملات میں زیر حراست ہیں۔

آپ کا یہ لکھنا مبنی بر انصاف نہیں کہ '' اس پوسٹ پر بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ فیس بک کو ہی میدان جنگ بنا کر موصوف کی اس متنازعہ پوسٹ پر تبصرے کر رہے ہیں ''۔اس پوسٹ سے متعلق دلائل سے بات کرنے کے بجائے بد تہذیبی،بد اخلاقی اور جھوٹے الزامات پر مبنی کمنٹس کرنے والوں کا تعلق ایک ہی مکتبہ فکر سے ہے،نہ جانے یہ اہم بات کیوں آپ کی نظروں سے اوجھل رہی؟جن افراد نے اس اطلاع کی تائید کی،ان کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول نہیں ہو سکی۔
میں نے کسی جماعت یا کسی شخص کا نام نہیں لیا،پھر بھی اس کو غیرت کا معاملہ بنانے کی کوشش کرنے والے ایک ہی مکتبہ فکر کے ہیں۔کسی بھی جگہ ہر کوئی بکا ہوا نہیں ہوتا، بیرون ملک رہنے کے لئے سیاسی پناہ لینے، پیسے نہ ہونے پر خود کو بدترین دشمن کے ہاتھوں بیچ دینے والے افراد چند ہی ہوتے ہیں، اس معاملے کو علاقائی مسئلہ قرار دینے کی شش نہیں کی جانی چاہئے۔لندن میں کسی چور کے پکڑے جانے پر سارے لندن کو چور قرار نہیں دیا جا سکتا۔مقبوضہ کشمیر میں نسل در نسل آزادی کی جدوجہد کرنے والے بھی ہیں اور ہندوستان کی وفاداری کرنے والے بھی۔کسی کمزوری کو چھپانے کے لئے اس بات کو علاقائیت کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش قطعی غیر مناسب اور زیادتی کی بات ہے معاملے کوعلاقائی رنگ دینے کی کوشش بچگانہ عمل ہے۔

یہ بتانا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں راولاکوٹ اور کوٹلی کے لوگوں کا کردار تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے اور ان خطوںکے لوگوں کی اس حوالے سے جدوجہد اور قربانیوں کی ایک تاریخ ہے۔عزیز و اقرباء کے علاوہ کوٹلی میں میری رشتہ داری ہے اور راولاکوٹ میں بھی میرے عزیز و اقارب کی فہرست طویل ہے۔کئی بار ایسا ہو تا ہے کہ کوئی بات معلوم بہت سوں کو ہوتی ہے لیکن وہی بات شائع ہونے پر انہی لوگوں میں موضوع بحث بن جاتی ہے۔میں نے جو اطلاع شیئر کی ہے اس کے مطابق مزکورہ دونوں علاقوں میں انڈیا کی معاونت سے قائم کردہ نیٹ ورک ان کے لئے کام بھی کر رہا ہے۔ ایسے افراد کی تعداد چند ایک ہی ہے۔ آپ کو شاید صرف اپنی ہی ضلع کے امور کا ہی خیال ہے،جبکہ ہمیں آزاد کشمیر اور بیرون ملک مقیم ریاستی باشندوں کے حقوق و امور کا بھی اسی طرح احساس ہے جس طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام و امور کا۔کوئی خود مختار کشمیر کا حامی ہے تو یہ اس کی رائے اور اس کا سیاسی حق ہے لیکن کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم کی صورتحال میں بھارت کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے کی وکالت یقینی طور پر آپ سے نہیں ہو سکے گی۔

یہ بات درست ہے کہ میر پور،کوٹلی،راولاکوٹ ،مظفر آباد اور آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں سے بیرون ملک روزگارجانے والوں کی واضح اکثریت قانونی ذرائع سے ہی وہاں گئے اور وہ کئی نسلوں سے وہاں آباد ہیں۔میل ملاپ،مہمان نوازی اور کشمیر کاز کے حوالے سے یورپی و دیگر ممالک میں آباد/مقیم، آزاد کشمیر کے لوگوں نے ہی کشمیر کی پہچان اور عزت دی ہے اور اس حوالے سے اپنا نام بھی کمایا ہے۔بالخصوص برطانیہ میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد عوامی نمائندوں کے طور پر بھی منتخب ہو رہے ہیں۔بیرون ملک مقیم ریاست کے ان باشندوں میں عوامی حقوق اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بیداری پائی جاتی ہے اور وہ ہر سطح پر اپنا کردار سرگرم طور پر ادا کر رہے ہیں۔ایک مخصوص مکتبہ فکر کے لوگ اصل بات پر پردہ ڈالنے کے لئے راولاکوٹ اور کوٹلی سے تعلق رکھنے والوں کو بھڑکانے کو کوشش کر رہے ہیں۔میں تو یہ بھی کہوں گا کہ برطانیہ میں کشمیریوں کی عزت آزاد کشمیر کے لوگوں نے رکھی ہے،مہمان نوازی اور کشمیر کاز کے لئے کام کرنے میں انہی کا نام ہے۔

بیرون ملک مقیم آزاد کشمیر کے ان باشندوں کو آزاد کشمیر سے متعلق کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔چند سال پہلے تک بیرون ملک مقیم باشندوں نے آزاد کشمیر کے اپنے اپنے علاقوں میں مختلف حوالوں سے سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن ان کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اتنا ستایا گیا کہ وہ اب آزاد کشمیر میں اپنا پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہیں۔آزاد کشمیر حکومت ان کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کر کے کسی افسر کو متعین بھی کر دیتی ہے لیکن بیرون ملک مقیم باشندوں کے لئے یہ خصوصی ڈیسک ڈاکخانے کا کام کرنے سے بھی قاصرہے۔آزاد کشمیر کے سرکاری اور حکومتی عہدیدار بیرون ملک دوروں کے موقع پر اس حوالے سے وعدے تو بہت کرتے ہیں لیکن ایسا کوئی بھی عملی قدم نظر نہیں آ تا جس سے بیرون ملک باشندوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے خاتمے کی راہ اپنائی جا سکے۔ہمارے '' انقلابی'' نظر آنے کی کوشش کرنے والے صحافی دوست مقامی اور بیرون ملک سطح پر، علاقائی بنیادوںپر غیرت جگانے میں تو گہری دلچسپی رکھتے ہیں لیکن کبھی اس بات کا احساس نہیں کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم ہمارے رشتہ دار،عزیز و اقارب خوشی غمی کے موقع پر بھی اپنے آبائی علاقوں میں آنے سے ڈرنے لگے ہیں۔آزاد کشمیر میں بحیثیت مجموعی بیرون ملک رہنے والوں کو ایسی گائے سمجھا جاتا ہے جو ان کو دودھ،مکھن اور گھی فراہم کرتی جائے اور معمولی ضرورت پر انہیں ذبح کرنا بھی عین مناسب ہو۔
بیرون ملک مقیم متنازعہ ریاست کے باشندوں کے مسائل و مشکلات کے اقدامات کرتے ہوئے انہیں یہاں باعزت اور محفوظ ماحول مہیا کرنا ان پر احسان نہیں بلکہ ان کا ہم پر احسان ہے کہ وہ بیرون ملک کی مصروف ترین زندگی میں بھی اپنے وطن اور اس کے مسائل کے لئے فکرمند رہتے ہیں، ہر ماہ بڑی تعداد میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں،کشمیر کاز،آزاد کشمیر کے امور کے لئے اپنا وقت دیتے ہیں،پیسہ دیتے ہیں ،وہاں جانے والوں کی شاندار مہمان نوازی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو تین عشروں سے آزاد کشمیر سے سیاسی پناہ کا طریقہ بھی بیرون ملک جانے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ان کی اکثریت بھی وہاں قیام کا قانونی جواز حاصل کر کے معاش کی مشقت میں مصروف ہوئے تاہم چند افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے بالواسطہ بھارتی معاون بننے کے راستے کا انتخاب کیا۔اس کی وجو ہات اور عوامل مختلف نوعیت کے اور ایک الگ موضوع ہیں۔سیاسی پناہ کے لئے کوئی موقف اختیار کرنا معاشی مجبوری کے طور پر قابل قبول ہو سکتی ہے، ، لیکن ہندوستان کا معاون بننا،اچھی بات نہیں ہے۔سیاسی پناہ کے لئے کوئی موقف اختیار کرنا معاشی مجبوری کے طور پر قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن کشمیریوں پر بھیانک مظالم ڈھانے والے ہندوستان کا معاون بننے پر کس طرح خاموش رہا جا سکتا ہے۔میرا کام حالات و واقعات ،صورتحال کو بیان کرنا ہے،افراد کو نامزد کرنا نہیں،خاص طور پر اس طرح کے حساس ترین معاملے میں۔

بھٹو جب وزیر اعظم بن کر پہلی بار برطانیہ گئے تو وہاں بڑی تعداد میں ایسے پاکستانی تھے جو سیاسی پناہ کے متلاشی تھے اور اس کی بنیادی وجہ روزگار تھی۔برطانوی پریس نے بھٹو سے پوچھا کہ ان پاکستانیوں کو واپس پاکستان جانے میں جان کا خطرہ ہے؟ بھٹو نے سرکاری موقف اپنا نے کے بجائے ان پاکستانیوں کے روزگار کا خیال کرتے ہوئے جواب دیا کہ '' ہاں ہمارا معاشرہ انتقامی معاشرہ ہے'' ،بھٹو کے اس بیان پر سب کو سیاسی پناہ مل گئی۔یوں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے کی معاشی مجبوریوںکے پیش نظر بیرون ملک سیاسی پناہ کے لئے کوئی بھی موقف اپنایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف بھارت کا معاون بننا کتنا درست اقدام ہو سکتا ہے،اس کا فیصلہ آپ اور قارئین خود کریں۔

بقول آپ کے متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ نے حق دیا ہے کہ وہ پاکستان کی حمایت میں اپنی رائے کا اظہا کریں یا بھارت کے حق میں۔جب رائے شماری کا وقت آئے تو جہاں چاہیں اپنا ووٹ دیں، لیکن اس وقت جبکہ بھارت بالخصوص گزشتہ تیس سال سے کشمیریوں کے خلاف قتل و غارت گری اور بھیانک مظالم کی انتہا کئے ہوئے ہے،تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں بھارت کے خفیہ ایجنڈے کے لئے پیسے لے کر کام کرنے والوں کی حمایت کا کیا جواز ہے؟

آزاد کشمیر میں ہری سنگھ کے خاندانی اقتدار کے پجاری بھی موجود ہیں اور اب ہندوستان کے حق میں رائے کے اظہار کی آزادی کے داعی بھی۔کیا یہ طرز عمل مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند مظلوم لیکن دلیر عوام سے ہمدردی ہے ؟ یہ تو ان کشمیریوں کے مقابلے میں بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنے والی بات ہوگی۔کیا آپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی وہ تقریر بھول گئے ہیںکہ جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اپنے رابطوں اور بھارت کی طرف سے ان کی مدد کا اعلان کیا گیا تھا؟کیااس وقت آزاد کشمیر میں انڈین ایجنٹوں کی موجودگی کے اعلان پر علاقائی غیرت اس لئے نہیں جاگی کہ اس میں آزاد کشمیر کا نام لیا گیا تھا،آزاد کشمیر کے کسی ضلع کا نہیں؟

آپ کی لکھی اس بات کہ ''اس میں کہیں بھی بھارتی حکوت کا کردار نہیں رہا'' ، سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے آپ کی معلومات محدود ہیں۔اسی طرح کے بعض عناصر کی برطانیہ میں سرگرمیوں کے لئے بھارت کی طرف سے کثیر رقوم کی فراہمی کے واقعات کئی ایک ہیں۔اگر آپ کو بیرون ملک مقیم چند ایسے افراد کا علم نہیں ہے تو یہ آپ کی معلومات اور آپ کے یقین پر منحصر ہے۔میں نے ایک اطلاع دی ہے،کوئی ضروری نہیں ہے کہ آپ اس پر یقین کریں،آپ اپنے علم و یقین پر ہی بھروسہ کریں ۔اگر حصول علم کی راہیں مسدود نہیں تو وقت خود آپ کو حقائق سے آگا ہ کر دے گا بشرطیکہ آپ اب کی طرح اپنے علم کی بنیاد پر حقائق سے نظریں چرانے کو ہی مناسب نہ سمجھیں۔

میں تقریبا تیس سال سے لکھ رہا ہوں اور میری تحریریں میرے بیان کی سچائی کی خود گواہی ہیں۔کسی ایک تحریر سے کسی کے کردار کا تعین نہیں ہوتا۔میں ہر بات سچائی اور ذمہ داری سے کئے جانے کا قائل ہوں اور اسی وجہ سے میری رائے کو مستند حوالے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چند سال پہلے میں نے لکھا تھا کہ پاکستان کی کئی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آزاد کشمیر میں منفی رجحانات کو ہوا مل رہی ہے ،آج جب ایسے منفی رجحانات اپنا رنگ دکھانے کو ہیں تو آپ معاملات کو علمی انداز میں دیکھنے کے بجائے خود کو بلاجواز اضلاعی عصمت کے نگہبان کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 624 Articles with 328420 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
09 Oct, 2017 Views: 451

Comments

آپ کی رائے