حلف نامہ کی بحالی خوش آئند لیکن ذمہ داروں کا محاسبہ ضروری ہے

(عابد محمود عزام, Lahore)

قومی اسمبلی نے جمعرات کے روز انتخابی اصلاحات بل 2017کو تیسری بار ترمیم کے ساتھ منظور کرتے ہوئے ختم نبوت سے متعلق وہ اصل حلف نامہ بحال کردیا ہے جس کے الفاظ میں تبدیلی پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی اور وفاقی وزیرقانون و انصاف زاہد حامد نے ترمیمی بل پیش کیا۔ قبل ازیں اسپیکر سرد ار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس ہوا، جس میں اتفاق رائے سے بل منظور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ ہمیں حلف نامہ کو چھیڑنا ہی نہیں چاہیے تھا، کاغذات نامزدگی میں جو حلف نامہ تھا اسے واپس اپنی حالت میں بحال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام رہنماؤں نے تعاون کیا، آرٹیکل سیون بی اور سیون سی کو بھی واپس اپنی حالت میں بحال کر دیا ہے۔ وزیر قانون کا یہ کہنا کہ ہمیں حلف نامہ کو چھیڑنا ہی نہیں چاہیے تھا‘ عیاں کرتا ہے کہ گویا اس حلف نامے کو جان بوجھ کر چھیڑا گیا اور یہ کوئی غلطی نہیں شعوری فعل تھا۔ تمام مسلمان عقیدہ ختم نبوت پرکامل یقین رکھتے ہیں، یہ ہمارے ایمان کی بنیاد اورآئین پاکستان کا حصہ بھی ہے۔ 1973ء کے آئین میں نبی کریم کو آخری نبی نہ ماننے والے کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔کوئی بھی عوامی نمایندہ جب کاغذات نامزدگی حاصل کرتا ہے تو ختم نبوت کے حلف نامے کو پرکرتا ہے اور جب منتخب پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے تو ہر مسلمان رکن عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے الفاظ حلف اٹھاتے ہوئے بھی ادا کرتا ہے۔ حال ہی میں معاملات اس وقت تشویشناک ہو گئے جب مسلم لیگ نون نے نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کی انتخابی اصلاحات میں ترمیم کے ساتھ ساتھ ملی جذبات سے وابستہ انتہائی حساس معاملے پر بھی خاموشی سے ترمیم کر دی۔ عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے ’’حلف‘‘ کے لفظ کو ’’اقرار‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا، اس کی وجہ سے ملک بھر میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس ترمیم پر تمام مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے ۔ اس معاملے میں سوشل میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے ہی اس حوالے سے شیخ رشید کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر تقریبا تمام مکاتب فکر اور تمام جماعتوں کے افراد نے حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جن کے ہوتے ہوئے یہ ترمیم کی گئی تھی۔ احتجاج سوشل میڈیا سے پورے ملک میں پھیل گیا۔ احتجاج اتنا پرزور تھا کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کی کال دی اور حکومت کو اپنی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لیے فوراً اس پر ایکشن لینا پڑا۔ اگر حکومت فوراً اس پر ایکشن نہ لیتی تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ دو دن میں ہی پورا ملک احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہوتا اور اتنی زبردست تحریک چلتی کہ عین ممکن تھا حکومت کا تختہ الٹ جاتا، کیونکہ ملک بھر کے تمام مسلمان شدید غصے میں تھے اور تقریبا تمام مذہبی جماعتیں اس معاملے میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کرچکی تھی۔ قانون سازی کی اس غلطی پر سوشل میڈیا پر تمام جماعتوں کے ارکان نے حکومت کو جس انداز میں متنبہ کیا، اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ ختم نبوت کے معاملے پر پوری قوم ایک ہے۔

واضح رہے کہ بعینہ یہی ترمیم قادیانی لابی نے 1978ء میں سیکرٹری الیکشن کمیشن اے زیڈ فاروقی کے ذریعے لانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت اے زیڈ فاروقی سیکرٹری الیکشن کمیشن تھے۔ اے زیڈ فاروقی نے یہ کام کر دکھایا کہ جہاں لکھا تھا ’’ میں حلفاً اقرار کرتا ہوں‘‘ اس کو بدل کر یوں کر دیا کہ ’’ میں اقرار صالح کرتا ہوں‘‘……اور باقی کی عبارت وہی رہنے دی۔اس کا خیال تھا کہ اس معمولی سے ہیر پھیر کی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی، لیکن اس وقت کے علماء نے قادیانیت کے خلاف پارلیمان میں ایک مثالی جدوجہد کی تھی اور وہ اس معاملے میں بہت حساس تھے۔تمام جماعتوں کے علماء نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کیا جائے گا۔گھیراؤ کی تاریخ بھی دے دی گئی۔ چنانچہ ضیاء الحق نے اس پر فوری ایکشن لیا، سیکرٹری اے زیڈ فاروقی کو عہدے سے ہاتھ دھونا پر گئے اور’ اقرار صالح ‘کی بجائے ’ حلف‘ کی عبارت دوبارہ سے قانون کا حصہ بنا دی گئی۔ اب پھر وہی کام ہوا ہے۔ "Solemnly swear" کا لفظ ختم کر کے اس کی جگہ محض "Declare" کا لفظ لکھ دیا گیا ہے۔یعنی جو بات حلفیہ کہی جا رہی تھی اب وہ حلفیہ نہیں رہی۔ اب محض ایک ا قرار کردیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کی زبان میں ایک لفظ سے بھی بہت زیادہ فرق پڑ جاتا ہے۔اس طرح یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ دی کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر2002 ایک اہم دستاویز ہے جو پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹو جاری کی تھی۔اس میں اہتمام سے بتایا گیا تھا کہ احمدیوں اور قادیانیوں کا سٹیٹس تبدیل نہیں ہو گا اور یہ وہی رہے گا جو اس سے پہلے انتخابی قوانین میں موجود ہے۔اسی طرح الیکٹورل رولز ایکٹ 1974 کے تحت یہ قانون موجود تھا کہ اگر کوئی ووٹر کسی امیدوار کے خلاف شکایت کرتا کہ یہ مسلمان نہیں تو اس پر کارروائی ہوتی تھی۔الیکشن کمشنر الیکٹورل رولز رولز (Electoral Rolls Rules) کی دفعہ 9 کے تحت ایک افسر کو ریوائزنگ اتھارٹی کے طور پر تعینات کرتا تھا جو اس معاملے کو دیکھتا تھا۔وہ متعلقہ امیدوار کو پندرہ دن کا نوٹس دیتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ وہ فارم نمبر4 کے مطابق اس بات کا اقرار کرے کہ وہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے قطعی اور کامل طور پر خاتم النبیین ہونے پر یقین رکھتا ہے۔امیدوار اگر ایسا نہیں کر سکتا تھا تو اس کا نام انتخابی فہرست میں بطور غیر مسلم درج کر دیا جاتا تھا۔الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 241 نے ان دونوں قوانین کو بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

انتخابی اصلاحاتی بل 2017 پر عملی کام 2014سے شروع کیا گیا اور اس کے لیے 34رکنی مشترکہ پارلیمانی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں قائم کی گئی جس میں مختلف جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔اس قانون کو پہلے قومی اسمبلی نے پاس کیا اور سینیٹ کو بھجوایا جہاں سینیٹ نے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اس کو پاس کر کے دوبارہ قومی اسمبلی کو بھجوادیا گیا۔ قومی اسمبلی نے اس قانون کو دن حتمی طور پر پاس کر کے صدر پاکستان کو بھجوا دیا جنہوں نے اْسی دن دستخط کر کے اس کو باقاعدہ قانون کی شکل دے کر نافذالعمل کر دیا۔ جب یہ قانون سازی پہلی بار قومی اسمبلی میں آئی تو کسی کو اس غلطی کی خبر نہ ہوئی۔ جب سینیٹ کے سامنے یہ معاملہ گیا تو نہ حکومت او ر نہ ہی اپوزیشن کو خبر ہوئی کہ نئے قانون میں کیا تبدیلی کر دی گئی۔ جب دوسری بار معاملہ قومی اسمبلی میں آیا تو جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اﷲ نے اس معاملے کو اٹھایا اور اپنی ترامیم تجویز کیں اور پھر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اس معاملے پر بھرپور آواز اٹھائی۔ اگر یہ دونوں اس معاملہ کو نہ اٹھاتے اور اس غلطی کی نشاندہی نہ کرتے تو کسی کو خبر بھی نہ ہوتی اور کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت سے متعلق بیان کی قانونی حیثیت حلف سے محض اقرار نامے پر تبدیل ہو جاتی۔ بعض حلقے اس تناظر میں عوامی نمائندگی کے لیے نہ صرف تعلیم کا معیار مقرر کرنے بلکہ حلف اٹھانے سے پہلے ایوانوں کے ارکان کی تربیت کی ضرورت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی رائے شماری سے قبل ہر رکن سے اس اقرار نامے پر دستخط کرائے جانے چاہئیں کہ اس نے متعلقہ مسودہ پڑھا ہے قانون سازی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ کسی قانون کے الفاظ ہی نہیں کاما اور فل اسٹاپ تک کی اہمیت ہوتی ہے مگر باخبر حلقے افسوس کے ساتھ اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ ہمارے بعض قانون ساز اس تحریر کو پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے جسے وہ اپنے ووٹ سے پورے ملک کے لیے قانون کا درجہ دے رہے ہوتے ہیں۔

سوال اٹھایا جارہا ہے کہ حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنا محض اتفاق تھا یا سوچی سمجھی سازش تھی؟ اور آخر اس تبدیلی کا سبب کیا ہے؟ اگرچہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کہہ رہے ہیں کہ الیکشن بل میں ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی، یہ ایک ٹیکنیکل اورکلریکل غلطی تھی، لیکن اسے محض اتفاق یا غلطی قرار دے کر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ سوچ سمجھ کر لکھی جانے والی آئینی عبارت ہے۔ حکومت اس حوالے سے جو بھی موقف پیش کرتی ہے‘ اس کا یہ اقدام عوام کے دلوں اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنا ہے۔ اس بات کو معمولی یا تکنیکی یا کلیریکل غلطی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ایسے وقت میں جب بحث و تمحیص کا رخ میاں نواز شریف کے سپریم کورٹ سے عوامی نمائندگی کے لیے نااہل قرار پانے کے فیصلے کے بعد ان کے پارٹی لیڈر بنائے جانے کی راہ ہموار کرنے کی حمایت یا مخالفت کی سمت میں رہا، شور و غوغا کی کیفیت میں ایک ایسی ترمیم پر منظوری کا ٹھپہ لگ گیا، جس کے نتیجے میں جلد یا بدیر پورا ملک ہیجانی کیفیت سے دوچار ہو سکتا تھا۔ تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ آئندہ ایسا کچھ نہ ہوسکے۔ سمجھ نہیں آرہی اس کو کیوں چھیڑا گیا۔ اس سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے۔ ختم نبوت کے معاملے پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ یہ بات دل نہیں مانتا کہ یہ سب کچھ غلطی سے ہوا۔ یہ کلریکل غلطی نہیں ہے اس کے ذمہ دار کا تعین کیا جائے۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس بات بھرپور زور دیا کہ اس غلطی کی مکمل تحقیق ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کو تعین کر کے ان کو سزا دی جانی چاہیے، تاکہ آئندہ ایسی سنگین غلطی نہ ہوسکے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ختم نبوت سے بل میں غلطی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ شہباز شریف نے بھی کہہ دیا ہے کہ ختم نبوت کے معاملے میں ذمہ دار کو سزا ملنی چاہیے۔ وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے کوئی سازش نہیں مس مینجمنٹ ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ختم نبوت کا حلف تبدیل ہونے سے متعلق تحقیقات ہونی چاہیے، یہاں غیرضروری حرکت کی گئی جو کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 418266 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2017 Views: 280

Comments

آپ کی رائے