برائلر مرغ،خطرناک یا صحت دوست ؟

(Ishrat Javed, )

 پرانے زمانے میں مرغی کھانا امیروں کی شان سمجھی جاتی تھی لیکن’ ولایتی ‘مرغی نے پروٹین سے بھرپور مرغی کا گوشت سستا ترین کر دیا
فارمی مرغیوں کی جلد بڑھوتری کیلئے غیر معیاری خوراک دی جاتی ہے جس سے وہ 40روزمیں کھانے کیلئے تیار ہو جاتی ہیں
فارمی چکن معاشرے میں ’’ ہائی پروٹین یا وائٹ میٹ ‘‘ کے نام سے رواج پایا ، ڈاکٹرز بھی سرخ گوشت بند کرکے یہی تجویز کرتے ہیں

ایک وقت تھا جب گھروں کی چھتوں اور صحن میں پالتو جانور نظر آتے تھے ،صبح صبح مرغ کی آواز دن چڑھنے کا پتہ دیتی تھی اور کتنی بھلی محسوس بھی ہوتی تھی مگر وقت کی چلتی گاڑی ہر روایت کو قصہ ماضی بناتی جا رہی ہے۔پہلے مہمانو ں کی آمد یا وقت پڑنے پرگھر میں موجود مرغ یا بکرے کو ذبح کر کے ان کے گوشت سے مہمان نوازی کی جاتی تھی۔شادی بیاہ یا تقریبات کے موقع پر گائے کو ذبح کر کے مہمانوں کوکھانا کھلایا جاتا تھا اور دودھ اور انڈے بازار سے بہت کم خریدتے تھے کیونکہ ہر وقت یہ گھر میں موجود ہوتے تھے۔ اب تو وہ وقت نہیں رہا ، ترقی کی خواہش نے انداز ِ زندگی کو یکسر بدل دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے دیہی زندگی کو خیر باد کہہ کے شہری زندگی میں خود کو ڈھال لیا ہے۔ اب کہاں گھروں میں مرغیاں ،مرغ ،بکرے ،بکریاں،گائے اور بیل نظر آتے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے ہر شخص کی زندگی اس قدر مصروف ہو گئی ہے کہ کسی کے پاس ان جانوروں کو سنبھالنے کا وقت نہیں ہوتا اور دوسرا پہلے زمانے میں مٹی اور گھارے کے مکانات ہوتے تھے مگر اب ان کچے مکانات کی جگہ ماربل شدہ اور پکے مکانوں نے لے لی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب گھروں میں جانور پالنے کا رواج دم توڑ چکا ہے کیونکہ بدبو اور صفائی خاتون خانہ کیلئے کٹھن و ناگوار ہوتا ہے۔

بدلتے وقت اور روایات نے جہاں ہر شے کی حقیقت کو شکست دے دی ہے وہیں کھانوں میں بھی مصنوعی پن رچ بس گیا ہے،پہلے دودھ،انڈے اور گوشت گھر میں ہی موجود ہوتے تھے مگر اب ہر ضرورت کیلئے بازار کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم جو کھا یا پی رہے ہیں وہ خالص ہے یاملاوٹ شدہ۔ انہی وجوہات کی بدولت فارمی چکن آج ہماری زندگیوں کا لازمی جزو بن چکاہے ،اس کے بغیر ہمارا گزارا ہی نہیں ہوتا۔شادی بیاہ و دیگرتقریبات ہوں یا گھر میں معمول کا کھانا بنانا ہو،ہر ڈش چکن کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے ،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مٹن اور بیف کی قیمتیں اس قد ر زیادہ ہیں کہ ہرکسی کی جیب اسے خریدنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لئے چکن باآسانی اور کم قیمت پر گھروں میں لایا جاتا ہے اور دوسراچکن چھوٹے ،بڑے ،جوان اور گھر کے ہر فرد کی پسندیدہ غذا بھی ہے۔چائینز ہو یا دیسی ڈشز ،سب کی تیاری اس کے بغیر نا مکمل ہیں۔تقریباً 25سال سے اس کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے

آج کل چکن کے حوالے سے دو اقسام بازار میں دستیاب ہیں۔ ایک دیسی چکن دوسرا فارمی۔فارمی سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں بہت جلدی کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گھر میں جو مرغیاں پالی جاتی ہیں ان کی خوراک خالص ہوتی ہے وہ اکثر کیڑے مکوڑے بھی کھاتی رہتی ہیں مگر ان کو خوراک میں روٹی،گندم اور باجرہ دیا جاتا ہے اور یہی چیزیں مرغیوں کو طاقتور بناتی ہیں اور اس قسم کی مرغیوں کو آج کے دور میں دیسی مرغی کے نام سے جانا جاتا ہے۔مگر فارمی مرغی چونکہ گھر کی بجائے فارم میں پلتی ہیں تو وہاں ان کو خالص خوراک ملنا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں۔اس حوالے سے خدشات یہ ظاہر کئے جاتے ہیں کہ فارمی مرغیوں کی جلد بڑھوتری کیلئے ان کو غیر معیاری خوراک دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ 40دن کے اند ر اندر کھانے کیلئے تیار ہو جاتی ہیں۔تو کیا یہ فارمی مرغیاں ہماری صحت کیلئے فائدہ مند ہیں یا نہیں۔

فارمی مرغیاں اصل میں چوزے یعنی Chicks ہیں۔ اس لئے اس کے گوشت کو Chicken کہا جاتا ہے۔ جبکہ مرغی تو Cock یا Hen ہے۔اس چکن کی افزائش پہ اگر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک فارمی چوزہ صرف ڈیڑھ دو ماہ میں مکمل مرغی کے سائز کا ہو جاتا ہے۔آخر کیوں ؟جبکہ دیسی چوزہ تو چھ ماہ میں مرغی جیسا ہوتا ہے مکمل مرغی تو وہ سال میں بنتا ہے۔اس فارمی چوزے کو جو غذا دی جاتی ہے اس حوالے سے آج کل یہ خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں ان کی تیزی سے بڑھوتری کیلئے ان کی خوراک میں ایسے ہارمونز( Steroids )اور کیمیکل ڈالے جاتے ہیں جو ان کی افزائش کو غیر فطری طور پر بڑھا دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی فیڈ میں مختلف جانوروں کا خون (جو مذبح خانوں سے باآسانی مل جاتا ہے) ، جانوروں کی آلائش ، مردار جانوروں کا گوشت شامل ہیں۔ یہ فیڈ کھا کر یہ نومولود چوزے 6 سے 8 ہفتوں میں ہمارے پیٹ میں پہنچنے کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن قابل غورپہلو یہ ہے کہ یہ چوزے بڑے ہونے کے باوجودچلنے پھرنے، بھاگنے دوڑنے اوراڑنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا جسم پھولا اور سوجا ہوتا ہے جو سٹیرائیڈزکا کمال ہے۔ اس طرح کے سٹیرائیڈز باڈی بلڈرز اور پہلوان بھی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آخری عمر بستر پہ گزرتی ہے۔اس فارمی مرغی کے مقابلے میں دیسی چوزہ جو6سے8 مہینوں تک چوزہ ہی رہتا ہے ،کو اگر کوئی پکڑنا چاہے تو بڑے آدمی کو بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے جبکہ فارمی مرغی کو ایک بچہ بھی آسانی سے پکڑ لیتا ہے۔

یہ فارمی چکن ہمارے معاشرے میں ’’ ہائی پروٹین ، کولیسٹرول فری گوشت یا وائٹ میٹ ‘‘ کے نام سے رواج پایا ہے۔ حتٰی کہ ڈاکٹرز حضرات بھی سرخ گوشت بند کرکے فارمی چکن کھانے کو ہی تجویز کرتے ہیں۔ ویسے تو آج کل کی فارمی غذائیں ہی ہماری بہت سی بیماریوں کا سبب ہیں لیکن کچھ بیماریاں ایسی بھی ہیں جو صرف اس فارمی چکن کی بدولت ہماری زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔
1:فارمی چکن کا بے جا استعمال ہمارے جسم میں فیٹ کو بڑھاتا ہے یعنی ہمارے جسم میں چربی کو بڑھا کر ہمیں موٹا بنا دیتا ہے جس سے شوگر ،بلڈ پریشر ،جگر پر فیٹ ،گردوں پر فیٹ آ کر مختلف امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔
2 :فارمی چکن کا استعمال جوڑوں کا درد پیدا کرتا ہے اور ہماری ہڈیوں کو بھر بھرا کر دیتا ہے۔
3:سٹیرائیڈزفارمی مرغیوں کا گوشت کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام شدید کمزور پڑ جاتا ہے جس سے انسان بہت جلد بیمار ہونے لگتا ہے۔
یہ چند ایسی بیماریاں ہیں جو فارمی چکن کو کھانے سے کسی میں جلدی اور کسی میں دیر سے پیدا ہو جاتی ہیں ۔امریکی ماہرین صحت کا بھی کہنا ہے کہ بازار میں دستیاب مرغی کا گوشت متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ آج کل بازاری گوشت میں طرح طرح کے جراثیم پائے جاتے ہیں ،ماہرین نے مندرجہ ذیل مسائل سے خصوصا خبردار کیا ہے۔
٭سیلمونیلا:یہ ایک بیکٹیریا ہے جو کہ متعدد جگہوں پر دستیاب مرغی کے گوشت میں پایا جاتا ہے۔یہ بیکٹیریا سارے جسم پر خطرناک سوزش پیدا کرسکتا ہے، اس سے بچنے کیلئے گوشت کو بلند درجہ حرارت پر پکانا چاہیے۔
٭ای کولی :مرغی کے گوشت میں سیلمونیلا سے بھی خطرناک جراثیم ای کولی بکثرت پایا گیا ہے اس کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے۔
٭ آرسینک:مرغیوں کی خوراک میں خطرناک عنصر آرسینک استعمال کی جاتی ہے تاکہ گوشت کا وزن بڑھایا جاسکے۔ یہ دھات جان لیوا بھی ہوسکتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا موجب بھی۔
٭اینٹی بائیوٹک اجزاء:مرغیوں کی خوراک میں ا ینٹی بائیوٹک اجزاء کا بھاری مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا گوشت کھانے والوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہوتا۔
٭ چکن نگٹس میں چربی اور جلد اور اندرونی اعضاء میں پائی جانے والی خون کی نالیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کو کھانے سے خون کی بیماری انیمیا اور جسم کی رگیں پھولنے کا مسئلہ پیش آسکتا ہے۔

اس کی تصدیق ہمیں امریکی ادارہ صحت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے بھی ملتی ہے۔ایف ڈی اے کی تحقیق کے مطابق بازار میں دستیاب چکن میں آرسینک پائی جاتی ہے نیزماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ آرسینک کینسر پیدا کرتی ہے اور ذہنی بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا کی ایک تحقیق کے مطابق آرسینک پارے سے چار گنا زیادہ زہریلی ہے اور کینسر کے علاوہ حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچے میں خوفناک ذہنی بیماریاں پیدا کر سکتی ہے۔یہ خطرناک دھات مرغیوں کی خوراک میں خصوصی طور پر شامل کی جاتی ہے تاکہ ان کا وزن تیزی سے بڑھایا جا سکے اور گوشت دیکھنے میں اور خصوصاً رنگت کے لحاظ سے صحت مند نظر آئے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق بازار میں دستیاب چکن میں سے 70 فیصد میں آرسینک پائی جاتی ہے جبکہ ٹیسٹ کرنے پر 50 فیصد سے زائد مرغیوں کے جگر میں آرسینک یا سنکھیا کا ذخیرہ پایا گیا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ برائلر مرغیوں اور گوشت کا کاروبار کرنے والے افراد اور ادارے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں اور بعض ماہرین صحت بھی یہ کہتے ہیں کہ آرسینک کے باوجود برائلر گوشت کا استعمال صحت کیلئے خطرہ نہیں ہے۔

چونکہ ’پولٹری فارمز ‘برائلر فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اس لئے اس صنعت کے بارے میں بات کئے بنا معلومات مکمل نہیں ہو سکتیں۔پولٹری کی صنعت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ صنعت جنوبی ایشیا کے ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت تیزی سے فروغ پانے والی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری کی ہے۔پاکستان میں جدید پولٹری کی صنعت کا آغاز 1963میں ہوا تھا۔ پی آئی اے نے اس صنعت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے 1965 میں کراچی میں پہلا جدید ہیچری یونٹ لگایالیکن اب یہی صنعت ملک کے 24.7 فیصد گوشت کی طلب پوری کر رہی ہے۔پاکستان میں 300 ارب کی سرمایہ کاری میں سے 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری صرف پنجاب میں کی گئی ہے۔ اب تک 300 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے 28 ہزار سے زائد پولٹری فارم بن چکے ہیں، جہاں 32لاکھ سے زائد مرغیاں پالی جاتی ہیں۔ 23 لاکھ افراد کا براہ راست روزگار پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ جبکہ درجنوں نئے پراجیکٹ شروع کئے جا رہے ہیں۔پاکستان میں مرغی کا استعمال فی کس سالانہ 6 کلو جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 41کلو اور دیگر ممالک میں 17کلو ہے۔ 1953میں جب پاکستان میں پٹرول 15 پیسے فی لیٹر تھا اس وقت بکرے کا گوشت سوا روپے کلو اور دیسی مرغی کا گوشت چار روپے کلو تھا۔ اس زمانے میں مرغی کھانا امیروں کی شان سمجھی جاتی تھی لیکن’ ولایتی ‘مرغی نے پروٹین سے بھرپور مرغی کا گوشت سستا ترین کر دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا
وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ویٹرنری سائنسز
وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسزلاہو ر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا سے برائلرکے نقصان دہ ہونے کے حوالے سے پوچھا تو ان کا اس حوالے سے موقف تھاکہ برائلر مرغی کا گوشت پروٹین حاصل کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین غذا بھی ہے اورپولٹری فیڈ متوازن ترین خوراک ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ چکن پاکستان تو کیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت ہے تو غلط نہیں ہوگا۔پاکستان میں ہر جگہ اس کا گوشت آسانی سے دستیاب ہے۔اگر نقصان کی بات کی جائے تو گوشت کوئی بھی ہو وہ نقصان دہ اس صور ت میں ہو سکتا ہے جب گوشت خراب ہو ،یعنی اگر آسان الفاظ میں کہیں تو ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کہ کہیں آپ جو چکن خرید رہے ہیں وہ خراب تو نہیں،جو نا صرف پیسوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے بلکہ صحت کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم آپ آسانی سے خراب چکن کی شناخت کرسکتے ہیں اور خریدنے سے پہلے ان چیز وں کو اگرآپ مدنظر رکھیں گے تو بہت سے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔سب سے پہلے چکن کے سینے کے گوشت پر بنی سفید لکیروں اور چربی کی موٹی تہہ پر توجہ مرکوز کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ پولٹری فارم میں چکن میں ہارمونز داخل کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے وزن میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح کا گوشت صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا۔اگر چکن کا گوشت گلابی کی بجائے گرے ہوجائے یا اس کے چربی والے حصوں پر پیلا رنگ نمایاں ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ گوشت کھانے کے قابل نہیں رہااور اس لئے اسے نہ لینا ہی بہتر ہوگا۔ خام چکن ہلکے گلابی رنگ کا ہو تو بہترین ہوتا ہے جبکہ چربی سفید رنگ کی ہونی چاہئے۔خراب چکن کی ایک نشانی اس میں پیدا ہوجانے والی بو ہے، اگر وہ عام چکن سے ہٹ کر کچھ میٹھی یا گندے انڈوں جیسی ہو تو اسے لینے کا فیصلہ ترک کردیں۔عام طور پر کچا چکن نم تو ہوتا ہے مگر لجلجا نہیں، اگر آپ کو گوشت لجلجا لگے اور دھونے کے بعد بھی لیس دار یا چپچپا رہے تو یہ گوشت خراب ہونے کی نشانی ہے۔اگر آپ کے فریج میں چکن کا گوشت ایک سے چار ماہ سے منجمد حالت میں رکھا ہے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کا معیار خراب ہوچکا ہے، اگر آپ کو اس کے خراب ہونے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہے تو اسے استعمال نہ کریں کیونکہ وہ فوڈ پوائزننگ یا معدے کے دیگر امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور
لائیوسٹاک سپیشلسٹ
اینیمل ہسبنڈری کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور(تمغہ امتیاز)کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لیوٹن دنیا کا ایک بڑا ماہرغذا ہے اس کا قول ہے ’’کہ قوموں کی تقدیر اور ان کے فیصلے ہمیشہ دسترخوانوں پرہوتے ہیں نا کہ جنگ کے میدانوں میں ۔اس لئے آج ہم جو کھلائیں گے ویسے ہی نتائج برآمد ہونگے۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ صحتمند خوراک ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اور جہاں تک برائلرکی بات ہے تو یہ پروٹین فراہم کرنے کا سستا ترین ذریعہ ہے۔اگر کہا جائے کہ یہ بیماریاں پھیلانے اور موٹاپے کی وجہ ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے یہ بالکل بھی مضر صحت نہیں ہے۔اور جہاں تک پولٹری کی صنعت کی بات ہے تو یہ موجودہ دور میں پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اگرجدید تحقیق سے استفادہ کیا جائے تو پولٹری کی صنعت کی پیداوار میں مزیداضافہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں گوشت کے استعمال کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے اور تقریباً 6 کلوگرام گوشت فی کس سالانہ استعمال کیا جاتا ہے، ہم لوگوں میں عموماً یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ ہم گرمیوں کی نسبت سردیوں میں گوشت اور انڈوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ،یعنی پاکستانی گرمیوں میں انڈوں اور گوشت کا استعمال ترک کر دیتے ہیں جبکہ اسی موسم میں ہمارے جسم میں اس کی طلب چار گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے اگر ہم پورا سال بھی ان کا استعمال کرتے رہیں تو یہ تب بھی ہمیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پولٹری کی صنعت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس صنعت میں سرمایہ کاری سے قابل ذکر منافع کمایا جاسکتا ہے۔ ملک میں کھلے پولٹری فارمز کے بجائے کنٹرولڈ فارمز کے فروغ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پنجاب میں تقریباً 6 ہزار 500 سے زائد کنٹرولڈ فارمز کام کر رہے ہیں۔

حاجی طارق
مالک پولٹری فارم
حاجی طارق پچھلے 2سال سے پولٹری فارم چلا رہے ہیں۔برائلر کی فیڈ کے تحفظات کے حوالے سے ان سے پوچھا گیا کہ آپ ان کو مرغیوں کو کیا کھلاتے ہیں تو ان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برائلر کسی بھی قسم کی بیماری کا باعث نہیں بنتا اور جہاں تک بات ہے ان کی فیڈ کی تو ایسا کچھ نہیں ہے ہم ان کو باریک چاول،سویا بین کی کھل ،اور شوگر مل سے ملنے والا سستا ترین شیرا جو ان کو طاقتور بناتا ہے ،کھلاتے ہیں،یہ خدشات غلط ہیں کہ ان کو ہارمونز اور کیمیکل دئیے جاتے ہیں،مرغی اس قدر نازک اور حساس جانور ہے کہ اگر ہم اس کو کسی بھی قسم کا کوئی کیمیکل دیں گے تو اس سے وہ نا صرف بیمار ہو جائیں گی بلکہ اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ہاں میری لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اگر اس کو اعتدال کے ساتھ کھائیں گے تو ان کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ یا بیماری لاحق نہیں ہو گی۔پہلے زمانے میں ایک مرغ ذبح کیا جاتا تھا تو اہل خانہ میں ایک ایک بوٹی ہی حصہ میں آتی تھی اس لیے نا بیماری اور نا ہی موٹاپے کا مسئلہ سامنے آتا تھا، مگر اب بازار سے چکن زیادہ مقدار میں لایا جاتا اور کھاتے وقت اعتدال کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا جس سے موٹاپے اور بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد احسان الحق
ویٹرنری ڈاکٹر
ڈاکٹر محمد احسان الحق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میں پچھلے 50سال سے پولٹری کیلئے کام کر رہا ہوں خوراک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی کھانے کی چیز خالص نہیں رہی ،کچھ مفاد پرست عناصر لوگوں کی جانوں سے کھیلنے سے بھی باز نہیں آتے۔ میرے خیال سے پولٹری فارمز میں مرغیوں کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے ۔ایسا ہر گز نہیں کہ فارمز میں ان کو غلیظ ترین اشیاء کھلائیں جائیں اس سے ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے اس لئے ان کی خوراک میں گندم،چاول،دالوں کے بیج اور سویا بین کی کھل شامل ہیں اور بطور ڈاکٹر میں عوام کو آ گاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اصل مسئلہ کیا ہو سکتا ہے۔اگر انسانوں میں بیکیٹریا بیماریاں پھیلانے کا ذریعہ ہیں تو واضح کرتا چلوں کہ جانوروں کو بھی انہی بیکٹیریا سے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے اورجانوروں کا بیمار ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،جب مرغیاں بیمار ہوتی ہیں تو ان کو صحتیاب ہونے کیلئے ادویات دی جاتی ہیں جن میں سے ایک دوا ’سلفا ڈرگ ‘ ہے اب ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی دوا دی جاتی ہے تو وہ ان کے مسلز میں داخل ہو جاتی ہے اور 2سے 3دنوں میں آ ہستہ آہستہ ان مسلز سے باہر آتی ہے جس کے نتیجے ؂میں ان کو بیماری سے نجات ملتی ہے، تعلیم کی کمی اور ڈیمانڈ کی وجہ سے اگر وہ ان کو انہی دنوں میں مارکیٹ میں بھیج دیں اور ان کا گوشت ہمارے گھروں تک پہنچ جائے ،وہی گوشت بیماری کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ ان کے مسلز میں ابھی دوا موجود ہوتی ہے۔،اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ مذبح خانوں کا ہے،جہاں ان کو ذبح کرنے کے بعد ایک ڈرم میں ڈالا جاتا ہے ،اس ڈرم کوسالہا سال کبھی صاف نہیں کیا جاتا وہی ڈرم اصل میں بیماریوں کی جڑ ہے۔دیکھیں خون ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں بیکیٹریا کی پرورش ہوتی ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ مرغیاں ذبح کرنے والے جگہ جگہ موجود ہیں،جہاں صفائی کا ناقص انتظام اور بد بو اس قدر ہوتی ہے کہ وہاں رکنا تو دور کی بات گزرنا محال ہو جاتا ہے ،گوشت کو ڈھاپنے کے لیے نہ وہاں جالی ہوتی ہے اور مکھیاں گوشت کے اوپر مڈلاتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ گوشت بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم گوشت لینے جاتے ہیں تو 2سے3گھنٹے دھوپ اور گاڑی میں گوشت کا رکھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ گوشت ہے پتھر نہیں ،جس سے اس کا کوالٹی لیول ختم ہو جاتا ہے ،اور سب سے آخر میں ہم اس بات کی پرواہ ہی نہیں کرتے کہ خوراک جو ہم کھاتے ہیں اس کی ہمارے لیے اہمیت کیا ہے،ہمارے ملک کانظام ایسا ہو گیا ہے کہ کسی بھی زیادتی کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوتا ،ہمیں ہوٹلوں میں مردار کھلایا جا رہا ہوتا ہے مگر ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام کھانے کی اشیاء پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں تاکہ معیاری خوراک ہم تک پہنچے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51709 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Oct, 2017 Views: 2136

Comments

آپ کی رائے