بھارت نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی……ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی

(عابد محمود عزام, Lahore)

بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے روز سرحد کے قریب بسنے والے پاکستانیوں پر گولا باری کر کے جارحیت کا مرتکب ہورہا ہے، جس سے پاکستانی شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ روز بھی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی سے 4 خواتین سمیت 6 پاکستانی شہری شہید، جب کہ 26 زخمی ہوگئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے مستقل سیزفائرکی خلاف ورزیاں جاری ہیں اوربھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری پر چارواہ اورہرپال سیکٹرمیں شہری آبادی کونشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارتی اشتعال انگیزفائرنگ سے 4 خواتین سمیت 6 شہری شہید جب کہ 15 خواتین اور پانچ بچوں سمیت 26 شہری زخمی ہوگئے۔ گزشتہ روزبھی ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین سمیت 4 پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق پنجاب رینجرز کی جانب سے بھارتی فوج کی فائرنگ کا موثر جواب دیا گیا اور جوابی کارروائی میں بھارت چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرخ نوید نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی چاروا، ہڑپال اور سجیت گڑھ سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے اور بھارت گزشتہ 7 روز سے شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کندن پور، کوٹلی خواجہ، راجہ ہرپال، سلیاں، باجڑہ گڑھی، بینی سلہریاں، عمرانوالی اور دیگر درجنوں دیہات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ڈاکٹر فرخ نوید نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل فائرنگ و گولہ باری کے باعث ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں چوبارہ، ڈالو والی، پنڈی بھاگو اور وَرک میں 4 ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیے ہیں۔ خیال رہے کہ 2017 میں اب تک بھارتی افواج 700 سے زاید بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کر چکی ہیں۔ بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 30 سے زاید معصوم شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 110 سے زاید زخمی ہوئے۔ سال 2016 میں بھارت نے 382 بار لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بی ایس ایف حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقومی سرحد پر پاک فوج کی جانب سے بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائرکی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس پر پاک فوج بھرپور جوابی کاروائی کررہی ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر خلاف ورزیوں پر بھارت سے شدید احتجاج کیا گیا تھا اور ایک احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا گیا تھا۔ بھارت کی جانب سے فائرنگ و گولا باری کے ذریعے نہتے عوام کی زندگی اجیرن کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور بھارتی فوج کی جانب سے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کرنا کوئی نئے نہیں ہیں، یہ بھارت کا پرانا وطیرہ ہے۔ دراصل بھارت ازل سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ 1947ء کی تقسیم آج تک بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی۔ پاکستان پر بھارت نے تین مرتبہ جنگیں مسلط کیں۔ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اسی لیے وہ آئے روز کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کر کے سرحد پر جنگی حالات قائم رکھنا چاہتا ہے، حالانکہ پاکستان کی خواہش ہے کہ بھارت 2003ء میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کا احترام کرے، لیکن بھارت مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ 2013ء میں بھارت نے ایل او سی سیز فائر معاہدے 2003ء کی پاسداری کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کے باوجود بھارت مسلسل سرحدہ خلاف ورزیوں سے نہیں رکا۔پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ میں گزشتہ روز یہ بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور رواں برس بھارت کی جانب سے 600 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے تیار ہیں، لیکن بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے کئی بار دونوں ممالک کو سرحدہ خلاف ورزی کرنے سے روکا گیا ہے، لیکن بھارت ہر بار جان بوجھ کر خلاف ورزی کرتا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ منافقت برتی ہے۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مصداق ایک جانب میڈیا کے ذریعے عوام کو یہ باور کروا نے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے کہ دونوں اطراف کے عوام ایک سے دوسرے محبت کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان جنگ نہ ہو، لیکن دوسری طرف بھارتی فوج کی سوچ بدلی، نہ بھارت کے ا ندر پاکستان کے خلاف نفرت ختم ہوئی، کیونکہ بھارتی سیاسست دانوں اور فوج کی وہی پرانی سوچ ہے، جو بال ٹھا کرے جیسے انتہا پسند رکھتے تھے اور یہ وہی سوچ ہے جس کا اظہار 1971 اور اس سے قبل بھارتی سورماؤ ں نے کیا تھا اور آئے روز بھارت پاک بھارت سرحد کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ بھارت مختلف طریقوں سے پاکستان کو اشتعال دلا کر خطے کے سکون کو برباد کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کو پاکستان کی ترقی برداشت نہیں ہورہی۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی تو ماضی کی جنگوں سے شدید متاثر یہ خطہ عدم توازن کا شکار ہوجائے گا۔

پاکستانی حکومت بھارت سرکار سے ہمیشہ دوستی کی بہت کوششیں کرتی رہی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے کبھی ساڑھی اور کبھی آموں کے تحفے بھیجے گئے ، مگر اس کا جواب بھارتی آبی دہشت گردی اور کنٹرول لائن پر حملوں کی صورت میں ہی ہمیشہ ملا۔ یہ حقیقت سامنے رہنی چاہیے کہ انگریز برصغیر کے نقشے پر پاکستان کا قیام دیکھنا نہیں چاہتا تھا، لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے جب جدوجہد شروع کی تو اپنی بصیرت، قوت ارادی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے انگریز کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہے اور انھیں ایک علیحدہ عظیم مملکت خداداد پاکستان کی ضرورت ہے، تو برصغیر کے نقشے پر واحد نظریاتی اسلامی مملکت خداداد کا وجود ممکن العمل ہوا، لیکن بھارت نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، قیام پاکستان سے لے کر آج تک بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے معاملے پر اب تک چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ دراصل بھارتی ان بن کا سب سے بڑا سبب مسئلہ کشمیر ہے۔ گزشتہ روز پاکستام کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے 70 سال میں دنیا کو کئی تنازعات سے بچایا، لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم و جبر کا سامنا ہے اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے، جو کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے، لیکن پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنویشن کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، لہٰذا اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شفاف تحقیقات کرائے۔ بھارت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال بند کرے اور عالمی برادری بھارت کو کشمیریوں پر پیلٹ گنز کے استعمال سے روکے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن بھارت کی کسی بھی مہم جوئی اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں خود بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو لے کر گئے تھے، جس پر کشمیریوں کو حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ نے قرارداد منظور کی، اس پر بھارت نے بھی دستخط کیے، لیکن اس نے ہمیشہ اس قرارداد پر عمل سے راہ فرار اختیار کی۔ مسئلہ کشمیر کا حل عالمی ادارے نے تجویز کیا تھا، اس پر اقوام متحدہ ہی کو عمل کرانا چاہیے۔ پاکستان حق خودارادیت کی قرارداد منظور ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر تنازعات پر مذاکرات کرتا رہا ہے۔ بھارت ایک طرف کشمیر پر مذاکرات بھی کرتا رہا تو دوسری طرف کانگریس اور بی جے پی کی پارٹی پالیسیوں میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بھی قرار دیا گیا ہے، جو منافقانہ پالیسی ہے، جب کہ اقوام متحدہ بھی دہرا معیار اپنائے ہوئے ہے، طویل عرصے کے بعد بھی کشمیر کے معاملے کو الجھائے ہوئے ہے۔ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد ہی نہیں کرایا جارہا۔ 1948 سے لے کر اب تک بھارت کو دو ٹوک انداز میں اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے کا نہیں کہا، بلکہ بھارت کے جنگی جنون کو تسکین پہنچانے کے لیے متعدد مغربی ممالک جدید ترین اسلحہ فروخت کرکے بھارت کی خطے میں بالادستی قائم کرنے میں معاون بنے ہوئے ہیں، حالانکہ اخلاقی طور پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے انفرادی طور پر بھرپور کوششیں کریں اور ایسے فیصلے و اقدامات کیے جائیں، جس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بن سکے۔ بصورت دیگر بھارت کا غیر سنجیدہ اور جارحانہ رویہ پورے خطے کے امن کو برباد کرسکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417990 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Oct, 2017 Views: 404

Comments

آپ کی رائے