''شامت اعمال ماصورت،آصف گرفت''

(Sami Ullah Malik, )

ہمارے وزیرخارجہ امریکایاترامیں جس معصومیت سے اعترافِ جرم کرکے رسوائیوں کے پہاڑکابوجھ ملک وقوم کے کھاتے میں ڈال کر واپس لوٹ آئے ہیں لیکن ان کے بیان کی باز گشت اب ان کاتعاقب کررہی ہے اوروہ اپنے معزول وزیراعظم کی خواہش پراپنے غیرملکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے حافظ سعیداور حقانی نیٹ ورک کے معاملے میں ان کی تائید میں رطب اللسان ہیں جبکہ شواہداس بات کے گواہ ہیں کہ حافظ سعیداستحکام پاکستان ،نظریہ پاکستان کی سربلندی اورعالم اسلام کودرپیش مسائل اورسب سے بڑھ کرتنازع کشمیرکے حوالے سے گرانقدر خدمات کی وجہ سے دشمنانِ پاکستان واسلام کی نگاہوں میں کھٹکتے ہیں۔تنازعہ کشمیرکے اصل میں تین فریق ہیں جس میں سب سے اہم کشمیری عوام،پاکستان اور بھارت ہیں اورہم سب جانتے ہیں کہ پچھلی سات دہائیوں سے متعصب بھارت نے نہ صرف کشمیرپر جابرانہ قبضہ کیاہواہے بلکہ ہندوؤں کے بدترین نمائندے مودی نے انسانیت سوز مظالم کے تمام ریکارڈتوڑدیئے ہیں اوراس کے دورمیں پہلی مرتبہ براہ راست پیلٹ گن کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں، عورتوں اوربچوں کوبینائی سے محروم کردیا ہے اورہرآئے دن کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی بے گناہ شہریوںپرگولہ باری کرتے ہوئے بلاتخصیص شہیدکررہاہے اورپاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے جس کے اقوام عالم کوباضابطہ ناقابل تردید شواہد بھی فراہم کئے گئے ہیں۔

حکومت پاکستان ہرعالمی فورم اورعالمی سطح پردوٹوک اندازمیں کشمیری عوام پراستصواب رائے کاحق دلانے کامطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ پاکستان کابچہ بچہ تحریک آزادیٔ کشمیرکاپشتیبان بناہواہے۔پاکستانی قیادت یقین رکھتی ہے کہ کشمیر پاکستان کاجزولاینفک ہے۔کشمیریوں کی آزادی کیلئے جماعت الدعوة نے عظیم قربانیاں پیش کرکے ثابت کیاکہ آزادیٔ کشمیرمحض مظلوم کشمیریوں کی تحریک نہیں بلکہ یہ تکمیل پاکستان کی تحریک ہے۔کشمیرکے پاکستان میں انضمام کے بغیرپاکستان ادھورا ہے،ساراکشمیراورپوراپاکستان جغرافیائی اعتبارسے ایک اکائی ہے جس کودینی رشتوں نے آپس میں جوڑ رکھاہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب وہ ساری باتیں الم نشرح ہورہی ہیں کہ جوکشمیراورپاکستان کی وحدت کی حیثیت نمایاں کر رہی ہیں۔ قدرت کی طرف سے کشمیر کی گودسے پھوٹنے والے تمام دریاؤں کاپانی روک کرپاکستان کوصحرا میں بدل ڈالنے کاانتہائی مذموم منصوبہ اس امرکو ایمان کی حدتک تقویت بخش رہا ہے کہ کشمیراورپاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں۔اسی حقیقت کے پس منظرکے ساتھ جماعت اسلامی پاکستان اورجماعت الدعوة نے پاکستان کے ہرگھرتک یہ آوازپہنچائی کہ کشمیریوں کی تحریک آزادیٔ کوئی دورپارکامعاملہ نہیں بلکہ یہ ہماری اپنی تحریک اورہمارااپنامشن ہے۔

حافظ سعیدکی تنظیم بنیادی طورپرمقبوضہ کشمیرمیں بھارتی تسلط سے نجات چاہتی ہے اوراقوام متحدہ کی منظورشدہ قرار دادوں کی روشنی میں اس حق خود ارادیت کی طلب گارہے جس کا اوّل وآخر مقصد کشمیر کا باضابطہ طورپرپاکستان کاحصہ بن جاناہے۔ایک طرف یہ سارے حقائق وبراہین تودوسری طرف وزیر خارجہ کایہ کہناکہ ''حافظ سعیدپاکستان کے کندھوں پر بوجھ ہے اوران سے جان چھڑانے کیلئے پاکستان کووقت درکارہے''ہرمعقول ذہن یہ سوچنے پر مجبورہے کہ خواجہ آصف کابھاشن منافقت ہے،ضعف ایمان ہے یابیک وقت بھارت اور امریکاکی خوشنودی حاصل کرنے کی شرمناک کاوش ہے؟؟بعض کم فہم یہ سوچ رہے تھے کہ خواجہ آصف سہواً کہہ گزرے ہیں مگرجب ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے استفسار کیا گیاکہ کیاوہ امریکامیں حافظ سعیدکے متعلق کہے گئے بیان پرقائم ہیں توخواجہ آصف نے روایتی دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وہ اپنی بات سے کبھی منحرف نہیں ہوئے! سوال یہ ہے کہ حافظ سعید پاکستان کی دھرتی کیلئے بوجھ اس بناء پربناکہ بھارت ایساہی چاہتاہے اورامریکابہادراپنے بغلی بچے بھارت کی منطق کی حمائت کرتاہے؟ اگرناپ تول اور جانچ پرکھ کایہی پیمانہ ہے توپھراب امریکی وزیردفاع نے جو کھل کرکہاکہ سی پیک متنازع کشمیر کے ایک خطے سے گزررہاہے اور امریکا کواس پرتحفظات ہیں توکیاپھرکھربوں کایہ منصوبہ دھرے کادھرارہ جائے گا؟ ہرمعتدل اور میانہ رومبصراس پرجواب میں کہے گاہرگزنہیں۔ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ ہم نے امریکااوربھارت کی بدمعاشی کاتوڑکرناہے وگرنہ اسی طرح سسک سسک کر ذلت کی موت کوگلے لگاناہوگا۔اگرہم امریکی اوربھارتی ترازوکے تحت کشمیریوں کی حمائت پراپنے حافظ سعیداورسی پیک منصوبوں سے اعراض برتیں گے توہم جیسااحمق اوربزدل کون ہو گا؟

ایک طرف پاکستان میں برسراقتدارجماعت کہتی ہے کہ کشمیرہماراہے اوریہ پاکستان کاقومی مؤقف ہے،پاکستان کی ہرحکومت اس مطالبے کی حامی رہی ہے لیکن دوسری طرف کشمیریوں کی حالت زار پربے کل ہونے والوں کودھرتی کابوجھ قراردیکراپنے مؤقف کاابطال کررہی ہے۔اس پس منظر کوسامنے رکھتے ہوئے حافظ سعید بھی کشمیریوں کی آزادیٔ کا مطالبہ کرتے ہیں تویہ جرم کیوں ٹھہرا!بانی پاکستان قائداعظم کایہ فرمان کہ ''کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے'' کیا بھلادینے یاکم ازکم نظراندازکردیے کی چیزہے؟بابائے قوم نے تو افواجِ پاکستان کوحکم دیاتھاکہ وہ کشمیرکوبھارتی تسلط سے نجات دلائیں اگرچہ انگریزآرمی چیف نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی تھی مگرآزادکشمیرکاعلاقہ قبائلی اورآزاد کشمیرکی مشترکہ عسکری جدوجہدکے نتیجے میں ڈوگرہ تسلط سے آزادی اور بعدازاں۱۹۶۵ءاور۱۹۷۱ءاوران کے بعدکارگل کی جنگ،یہ سب پھرکیاتھا؟ کیایہ کشمیریوں کی عملی حمائت نہیں تھی؟۱۹۹۰ءسےکشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے جدوجہدمیں مصروف ہیں اورپاکستان کاہرفرداس جدوجہدکاحصہ ہے اوراس جدوجہدمیں حافظ سعیدکے کردار کے سب ہی معترف ہیں توحافظ سعید پاکستان کیلئے بوجھ کیسے بن گئے؟

کیایہ کھلی حقیقت نہیں کہ ۱۹۴۷ءکےبعدکشمیرسے ایک ہجرت عمل میں آئی اور لاکھوں کشمیری پورے پاکستان کے مختلف شہروں،قصبوں اور دیہاتوں میں مقیم ہیں اوراس پرمستزادیہ کہ آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں کشمیریوں کی آبادی چالیس لاکھ سے زائدہے،کیایہ حکومت کے بس میں ہے کہ وہ انہیں اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی امدادسے روک سکے،کیااس حقیقت میں کوئی شک وشبہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مظلوم بھائیوں کی امدادکیلئے کشمیرجاتے رہے ہیں؟؟ پاکستان میں گراں بہافلاحی کام کرنے والے حافظ سعیدمذکورہ امدادی کام سے اپنے آپ کو کیسے الگ تھلگ کرسکتے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس عظیم کام کیلئے پاکستان میں ایک سیٹ اپ کی ضرورت تھی اورانہوں نے اپنے معتمدساتھیوں سے مشاورت کرکے جماعت الدعوة کے نام سے یہ سیٹ اپ قائم کرایا جوبلاشبہ گرانقدرخدمات انجام دے رہاہے جس کا پوری دنیا کے میڈیانے بھی اعتراف کیا،اس کے برعکس پاکستانی وزیرخارجہ نے جوفدویانہ رویہ اور مؤقف اپنایاوہ کسی باغیرت پاکستانی اورکشمیری کیلئے قابل قبول نہیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231047 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2017 Views: 296

Comments

آپ کی رائے