شرجیل کا سر جیل میں ! !

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
پاکستان میں بھوکا ننگا روٹی چوری تو جیل کے اندرہوتا ہے، پاکستان میں اربوں کھا نے والا آزاد، کیا یہی پاکستان ہے؟
ایک روٹی چورساری زندگی جیل میں گزارسکتا ہے تو پھر قو می دولت لوٹ کھا نے والے کس کھیت کی مو لی ہیں؟؟

آخر کارنیب نے5 ارب 75کروڑ روپے کے کرپشن کیس میں بڑے دِنوں سے قا نون کی پکڑ سے آزاد رہنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سا بق صوبائی وزیراطلاعات اور موجودہ رکن سندھ اسمبلی شیرجیل انعام میمن اورسا بق سیکریٹریانفارمیشن ذوالفقارعلی شنوا نی سمیت دیگرملزمان کوسندھ ہا رئی کورٹ سے عبوری ضمانت مسترد ہو نے کے بعدگرفتارکرلیا۔

اَب شرجیل جن کا سرجیل میں جا نے کو تیار ہے، دیکھتے ہیں کہ اَب کب وہ مستقیل طور پرپورے کے پورے اور کتنے عرصے تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو تے ہیں؟؟اُمید ہے کہ شرجیل جیسے اربوں کے قو می چور کی چوروں ہی میں سے کو ئی چور اُٹھ کر ضما نت دے کر جلد رہا ئی ضرور دلا کر لے جا ئے گا اور شر جیل آزادی سے با ہر گھوما پھرے گا اور اداروں کے خلاف بیان بازیاں بھی دینے سے باز نہیں آئے گا،اِس عمل کے تدارک کے لئے موجودہ قا نو ن پر نظر ثا نی کر نی بہت ضروری ہے تا کہ چوروں کے بادشا ہوں اور وزیروں کو اداروں کے قوا نین پر اُنگلیاں اُٹھا نے اور اِن کا مذاق اُڑا نے کا موقع ہا تھ نہ آئے ۔

ہا ں ا لبتہ ،قبل ازیں گرفتاری شرجیل سمیت اِن کے حواریوں نے دوپہر 12بجے ضمانت مسترد ہو نے کے بعد دیدہ دانستہ شدید ہڑ بونگ دھینگا مستی، ہلز بازی اور نعرے بازی کی اور شام تک عدالت کو میدانِ جنگ بنا نے کا سا مان کر لیا تھا مگر دوسری جا نب شرجیل کو گرفتار کرنے کے لئے آنے والی ٹیم کے اہلکاروں نے بھی تحمل و برداشت کا مثالی مظاہر ہ کیا اور با لآخر شر جیل انعام میمن کو گرفتار کرکے لے گئے ۔

آج اِس صورتِ حال کے پیشِ نظر پی پی پی والے اپنے شر جیل (جن کے نام کے ساتھ پہلے ہی جیل لگا ہوا ہے) کی گرفتاری پر سیخ پا ہیں اور اِسے پی پی پی کے خلا ف اسٹیبلشمنٹ کی انتقا می کارروا ئی سے تشبیہ دے کر شر جیل کی گرفتا ری کو اپنے انداز سے کچھ اور رنگ دے کر پیش کر نے کی کوششوں میں لگے پڑے ہیں اور اِس سارے معا ملے کو الیکشن سے قبل اپنی سیاسی اسکورنگ بڑھا نے کا طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں یوں شرجیل کی گرفتاری پر پی پی پی والے شر جیل کو بے گناہ بھی گردان رہے ہیں او ر شر جیل کی گرفتاری پر طرح طرح کے اعتراضات لگا کر اِس کی رہا ئی تک اپنی احتجا جی تحاریک چلا نے کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں جبکہ اِنہیں صاف شفاف تحقیقات تک ایسے کسی احتجاج اور احتجاجی تحاریک کا سڑکوں پر چلا نے کی کو ئی ضرورت نہیں ہے جو قومی مجرم کو سزا اور انصاف کے تقا ضوں میں مشکلات پیدا کریں، اِس مو قعے پر پا کستان پیپلز پا رٹی شرجیل کے معا ملے کو جتنا طویل دے گی یہ اُلٹا اُتنا ہی اِس کے معا ملے کو اُلجھا تے جا ئے گی اور اپنے سربراہ سمیت دیگر پی پی پی والوں کی کی گئی کرپشن کے خلا ف نیب کا دائرہ تنگ کراتی جا ئے گی ، لہذا آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ بار بار ضمانتوں پر رہا ئی پا نے کے بعد پکڑے جا نے والے شر جیل کے کیس کولے کر پی پی پی والے اُوچھل کود سے اجتناب برتیں تو اِسی میں اِن کی فلا ح ہے ورنہ ؟ اَب نیب کے دائرے کار سے کو ئی بچ نہیں پا ئے گا۔

اگرچہ اِس سے اِنکا ر نہیں ہے کہ اِس دنیا میں سب چور چور، کو ئی چھوٹا چور تو کوئی بڑا چور، کو ئی لاڈ صا حب کا سا لہ چور،کو ئی چوری کرے ا ٓ نے دو آنے کی ، یا قو می خزا نے کی ، کو ئی مرغی چور تو کو ئی انڈا چور،اورکوئی روٹی چورتوکو ئی ڈالر چور، الغرض یہ کہ چور تو چور ہو تا ہے اور یہ زمین تو ویسے بھی اقسام کے چوروں سے بھر ی پڑی ہے ، اور یہ تو قا نون قدرت ہے کہ چور کی ہر زما نے کی ہر تہذیب اور معا شرے میں سزا ئیں مختص ہو تی رہی ہیں اور ہیں ،کو ئی پہلے پکڑا جا تا ہے تو کو ئی بعد میں قا نون کی گرفت میں آتا ہے، اِس سے انکار نہیں ہے کہ پچھلے زما نوں سے پکڑے اور قا نون کے ہتھے چڑ ھ جا نے والے چوروں کو مختلف سزا ئیں ہو تی رہی ہیں اور ہو تی رہیں گیں۔

مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ چوری کے معا ملے میں پکڑ دھکڑ کے حوالے سے دنیا کے بیشتر ممالک کی نسبت ہما رے یہاں پاکستان میں بہت کچھ بہت مختلف ہے ، میرے دیس میں قا نون بھی چور کی مرضی پوچھ کر سزا تقویض کرتا ہے ، چور سے پری با رگین کی جا تی ہے ، چا ہئے چور لا کھوں ، کروڑوں ، اربوں اور کھربوں لو ٹ کرکھا جائے مگر پکڑے جا نے کے بعد اداروں اور قا نون سے پری با رگین کر لی اور قو می خزا نے سے لوٹی گئی رقوم سے کچھ دے دیا تو سزا بھی معاف اور با عزت بری بھی ہوجا تا ہے ہما رے یہاں تو اکثر یہی ہوتا ہے اور اِن دنوں تو یہ پریکٹس بہت عام سی بات ہو گئی ہے ایوانوں میں قومی خزا نہ لوٹ کھا نے والے اِس حوالے سے اپنی مرضی کے نت نئے قوانین کی بھی باقا عدہ منظوری دے رہے ہیں اور قا نون سازی بھی کرارہے ہیں اوراِس میں ایوا نوں میں بیٹھے تمام قو می چور اپنے اِس عزمِ خا ص میں بڑی حد تک کا میا ب بھی ہو گئے ہیں جو آئندہ آنے والے دِنوں ، ہفتوں اور مہینوں میں سب کے سا منے عیاں ہوجا ئے گا کہ ایوا نوں میں بیٹھے قو می چوروں نے اپنے احتسا بی عمل سے بچنے اور چوری اُوپر سے سینہ زوری کرتے ہوئے کس کس طرح سے اپنی چوری کو قا نونی شکل دیتے ہوئے جا ئز قرار دے دیا ہے۔

جبکہ ازل ہی سے دنیا کا یہی قا نون ہے کہ چورچا ہئے جیسا بھی ہوچور اور چور وں کو زما نے اور مُلک و معاشروں کے قا نون کے مطا بق سزا ضرور ملتی آئی ہے ، مگر مملکتِ پاکستان میں اِس کے برعکس ہے سرزمینِ پاکستان میں چھوٹا چورتو فوراََ قا نون کی گرفت میں آجا تا ہے مگراکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑا چور کبھی پکڑ میں نہیں آتا ہے یہ مشا ہدہ حقیقت میں بدل چکا ہے کہ آج پاکستان جو جتنا بڑا قو می چور ہوگا وہ اُتنا ہی بڑا با عزت تصور کیا جا تا ہے ، جس کی ایک تا زہ مثال موجودہ حا لا ت میں سا بق وزیراعظم اور ن لیگ کے موجودہ نو مولود سربراہ نواز شریف کی ہے اِنہی کو دیکھ لیجئے ، کہ وہ سُپریم کورٹ سے اپنی کسی نہ کسی چوری پکڑی جا نے کے بعد نا اہل قرارپا کر بھی خود کو با عزت تصور کررہے ہیں اوراِس پر افسوس یہ بھی ہے کہ قوم کا ایک با شعور اور پڑھا لکھا طبقہ بھی اِنہیں اِسی نگا ہ دیکھ رہا ہے نہ صرف نا اہل قرار دیئے گئے شخص کے سا تھ مل کریہی با شعور اور پڑھا لکھا طبقہ اگلے انتخا بات میں چوتھی بار پھر وزیراعظم نواز شریف کا نعرہ بھی لگا رہا ہے بلکہ آج نا اہل قرار نواشریف کے ساتھ مل کر فیصلے کے خلاف عدلیہ اور احتسا ب کے اداروں کے خلاف بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاجوں کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہے، یہ سب کیا ہے ؟ یقینا ہما رے قا نون میں حکمرانو، سیاستدانوں اور قومی چوروں کو فا ئدہ دینے کے لئے کہیں نہ کہیں بے شمار سقم ضرور مو جود ہیں(جن پر نظرثا نی کی اشد ضرورت ہے) آج جس کا فا ئدہ نوازشریف،آصف علی زرداری، اسحاق ڈار، مریم نواز، حسن نواز، حُسین نواز اور شیرجیل جیسے دیگر قومی چور وں کو ہورہا ہے آج جو اپنے کڑے احتساب سے بچ جا تے ہیں پھر بعد میں ایسے ہی لوگ ہما رے ایوانوں میں پہنچ کر قا نون سازی بھی کرتے اور کرا تے ہیں مگر جب اِسی مُلک اور معاشرے میں کئی دن کا کو ئی مجبور بھو کا ننگا مرتا کیا نہ کرتا؟اپنے زندہ رہنے کے لئے ایک روٹی چور ی کرکے اپنا پیٹ پھر لیتا ہے اور مرتا ہوا بھوکا انسان پھر سے زندہ ہوجا تا ہے تو سرزمین پاکستان کا قا نون فوراََ حرکت میں آجا تا ہے اور ایک روٹی چور کو پکڑلیتا ہے کو ئی اِس غریب کی ضمانت دینے والا بھی نہیں ہوتا ہے حا لا نکہ وہ کہتا رہ جا تا ہے کہ اِسے چھوڑ دو، میری زندگی خرا ب مت کرو، میں تمہیں ایک روٹی کے بدلے دو روٹیاں واپس کردونگا مگر قا نون کو اِس ایک روٹی چور کی پری بارگین پر ذرا بھی رحم نہیں آتا ہے کوئی اِس غریب روتی چور کی ضما نت بھی لینے کو تیار نہیں ہوتاہے، یو ں یہ بیچارہ ایک روٹی چوربے حسی کی تصویر بنے ا پنی باقی کی ساری زندگی جیل کی سلا خوں کے پیچھے اپنی ایڑیاں رگڑرگڑکرسسک سسک کر گزار دیتاہے آج بھی ایسے ایک روٹی چوری کی پاداش میں سیکڑوں چوروں سے میرے مُلک پاکستان کی جیلیں بھری پڑی ہیں۔

تاہم دوسری جانب یہ میرے دیس پاکستان کی یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھو کا ننگا ایک روٹی چور مجبور انسان تو جیل کی سلا خوں کے پیچھے ساری زندگی گزاردیتا ہے مگر قومی خزا نے سے اربوں لوٹ کھا نے والے پیٹ بھرے، نواز شریف ، آصف علی زرداری ، اسحا ق ڈار اورشیر جیل انعام میمن جیسے قومی چور سارا سب کچھ کھا کر ڈکارلے کر بھی آزادی سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ قا نون کی نظر میں یہ قومی چور کس کھیت کی مولی ہیں ؟؟آ ج اگرقانونِ نظریہ ضرورت یا پری با رگینگ تحت کے یہ اور اِن جیسے دوسرے قومی چورسزاسے بچ سکتے ہیں توپھر مُلک کی تمام جیلوں میں برسوں سے قید روٹی اور انڈاچوروں کو بھی اِسی پری نار گینگ کا فا ئدہ دیا جا ئے اور اِنہیں بھی رہا ئی دے کر مُلک اور معا شرے کا با عزت شہری تصور کیا جا ئے اور اِنہیں بھی وہ تمام بنیا دی حقوق اور سُہولیات زندگی اِسی طرح مہیا کی جا ئیں جس طرح اربوں اور کھر بوں قومی خزا نہ لوٹ کھا نے والوں کو پری با رگینگ کے بعد رہا ئی دے کر حاصل ہو تی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 605329 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 408

Comments

آپ کی رائے
VERY NICE AND TRUE ARTICLE. IF THERE IS JUSTIFICATION THEN SHOULD BE HANG TILL DEATH TO ALL THIS TYPE OF CRIMINAL PERSON AND SAVE THE PAKISTAN AND BUILD PAKISTAN. AAMEEN
By: SAQLAIN AHMED, karachi on Oct, 26 2017
Reply Reply
0 Like