پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور سی پیک

(Rashid Sudais, )

اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیاء کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔ تقریباً 21کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے796095 مربع کلومیٹر 307,374مربع میل کے ساتھ یہ دنیا کا چھتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے اس کے جنوب میں 1046 کلومیٹر کی ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ عرب سے ملتی ہے

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 2912، افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2430، پاکستان اور ایران کے درمیان 909 جب کہ چین اور پاکستان کے درمیان 523 کلومیٹر طویل سرحدیں واقع ہیں پاکستان کا سمندری ساحل 1014 کلومیٹر طویل ہیپاکستان کو شمال میں ایک تنگ واخان راہداری تاجکستان سے جدا کرتی ہے جبکہ اس ملک کی سمندری سرحدی حدود عمان کے سمندری حدود سے بھی ملتی ہیں پاکستان کے علاقے قدیم دنیا میں وہ علاقے تھے جن میں مہر گڑھ اور وادی سندھ کی تہذیب پروان چڑھی تھی اس علاقے پر یونانی، ایرانی ،عرب،ہندو، سکھ، افغان، منگول اور ترک حملہ آوروں کی حکومت بھی رہی تھی یہ علاقہ مختلف سلطنتوں جیسے موریا، ہخامنشی سلطنت عربوں کی خلافت امویہ، مغول سلطنت، مغلیہ سلطنت، درانی سلطنت، سکھ سلطنت اور برطانوی راج کا اہم حصہ رہا تھا اس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کوپاکستان معرض وجود میں آیا یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں سے مغرب، مشرق، شمال اور جنوب ہر جانب راستے نکلتے ہیں مشرق کی جانب ہندوستان جیسا بڑا ملک ہے، مغرب کی طرف جائیں تو افغانستان ہے جہاں سے وسط ایشیا اور روس تک رسائی بہت آسان ہے، شمال کی جانب نکل جائیں تو چین کے شہر آپ کو اپنے منتظر ملیں گے اور پھر ایک جانب ایران ہے پاکستان تیز رفتار ترقی کرنیوالے دنیا کے دو سب سے بڑے ملکوں کا پڑوسی ہے دنیا کے کم ملک پاکستان جیسا شاندار جغرافیائی محل وقوع رکھتے ہیں اس پس منظر میں، خوف ناک سرد جنگ کے دوران پاکستان جیسے ملک کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا تھا؟ داخلی اعتبار سے بھی عرضِ پاک شاندار مظاہر کی عکاس ہے شاہراہ قراقرم برّی اور زمینی راستے سے چین اور پاکستان کو باہم ملاتی ہے یہ شاہراہ سلسلہ قراقرم کی چٹانوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہے اور یہ چین اور پاکستان کے مابین اہم تجارتی شاہراہ ہے پاکستان کے چین سے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں پاکستان افغانستان کو تجارت کے لئے برّی اور بحری راستوں سے راہداری کی سہولت مہیا کرتا ہے پاکستان کے مشرق میں بھارت واقع ہے بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش، ملائشیا، انڈونیشیا اور برونائی دارالسلام کے مسلم ممالک واقع ہیں پاکستان کے بھارت اوربنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ممالک سے خوشگوار تعلقات ہیں پاکستان ایران اور ترکی اقتصادی تعاون کی تنظیم ایکوکے بنیادی اراکین ہیں اس تعاون کے نتیجے میں تمام رکن ممالک کے مابین انتہائی دوستانہ تعلقات قائم ہیں ان ممالک نے باہمی دلچسپی کے کئی معاہدوں پر دستخط کررکھے ہیں پاکستان تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کے نزدیک اور مغرب میں مراکش سے لے کر مشرق میں انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی مسلم دنیا کے درمیان میں واقع ہے بے شمار مغربی ممالک کی صنعتی ترقی کا انحصار خلیجی ممالک کی تیل پیداوار پر ہے یہ تیل دوسرے ممالک کو بحیرہ عرب کے ذریعے بھیجا جاتا ہے اور کراچی بحیرہ عرب کی انتہائی اہم بندرگاہ ہے مشرق وسطیٰ اور خلیج کے مسلم ممالک سے پاکستان کے انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں پاکستان نے ان ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے سعودی عرب اور عرب امارات جیسے ممالک پاکستانیوں کے لئے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتے ہیں وہ تمام ممالک جو مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی ممالک سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان کے محل وقوع کو نظر انداز نہیں کرسکتے پاکستان میں وادی سندھ اور گندھارا کی قدیم تہذیبیں ہیں اور سیاحت کے نقطہ نظر سے یہ بہت اہمیت رکھتی ہے بے شمار سیاح وادی کاغان، سوات اور پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیاحت کو پسند کرتے ہیں پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان ایک معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت پاکستان کو افغانستان کے راستے گزرنے والی پائپ لائن کے ذریعے گیس مہیا کی جائے گی یہ منصوبہ ایک دوسرے کے مابین دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا،پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے اورمسلم دنیا میں اس کو انتہائی تحسین اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے یہ ہزاروں کلومیٹر ریلویز، موٹرویز، لاجسٹک سائٹس اور بندرگاہوں کا ایک مربوط نظام ہے چین یومیہ 60 لاکھ بیرل تیل بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے جس کا کل سفر 12000 کلومیٹر بنتا ہے جبکہ یہی سفرسی پیک کی تکمیل کے بعد سمٹ کر محض 3000 کلومیٹر رہ جائے گا جس کے باعث چین کوتیل کی سالانہ درآمدت پر 20 ارب ڈالر بچت ہوگی جبکہ پاکستان کو تیل کی راہداری کی مد میں پانچ ارب ڈالر یعنی پانچ کھرب یا پانچ سو ارب روپے سالانہ ملیں گے،ون بیلٹ ون روڈ کی تعمیر مکمل ہونے پر سی پیک کا فائدہ دنیاکے چارارب عوام کوہوگا،جس کے ثمرات سب سے پہلے پاکستان اورچین اورہمسایہ ممالک کو حاصل ہونگے۔۔۔۔جاری ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Sudais

Read More Articles by Rashid Sudais: 56 Articles with 36510 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 3559

Comments

آپ کی رائے