حرمتِ رسولﷺ کا تقاضا؟

(Muhammad Anwar Graywal, BahawalPur)

 آج کل اخبارات میں اشتہارات چیخ چیخ کر ختمِ نبوت کی گواہی دے رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر صفحہ اوّل پر اشتہار موجود ہوتا ہے، جس میں وضاحت کے ساتھ عقیدہ ختمِ نبوت کا اعادہ کیا جاتا ہے اور قوم کو بتایا جاتا ہے کہ’’ گزشتہ دنوں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن بل 2017کا مسودہ متفقہ طور پر تیار کیا، جس کی پارلیمان میں منظوری کے دوران پرانے حلف نامہ میں درج ختمِ نبوت کی شق کی بحالی کے مطالبے پر حکومت اور پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے فوری طور پر مذکورہ شق کو اصل شکل میں بحال کردیا۔ اب ختمِ نبوت کی شق اپنی پرانی اصل شکل میں بحال ہے، اور اس میں کوئی ردّ وبدل نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد اشتہار میں اصل متن انگلش میں تحریر ہے ، اس کے بعد مزید وضاحت یوں کی گئی ہے، ’’جمہوری حکومت پر عزم ہے کہ مسلمانوں کے اس بنیادی عقیدے کی حرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے لہٰذا قوم اس حساس معاملے کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال کرنے اور عوام کے جذبات کو بھڑکانے والے عناصر سے آگاہ رہے، اور ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنائے۔ حرمتِ رسولﷺ کا بھی یہی تقاضا ہے۔‘‘ یہ اشتہارات وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہورہے ہیں۔
 
دراصل گزشتہ دنوں جب حکومت اپنے (عدالت کی جانب سے) نااہل قرار دئیے گئے قائد کو پارٹی قیادت کے لئے اہل قرار دلوانا تھا تو اسے قانون منظور کرنا پڑا، جو اُس نے اپنی اکثریت کی بنا پر منظور کروالیا۔ بعد میں یہ راز کھلا کہ ساتھ ہی چپکے سے ختمِ نبوت کے بارے میں آئین میں درج حلف نامے کے الفاظ کو بھی اقرارنامہ میں ڈھال دیا گیا۔ بات نکلنے پر جب احتجاج زیادہ بڑھ گیا تو نئے قانون کے مطابق میاں نواز شریف فوری طور پر پارٹی کے صدر’ منتخب‘ ہو گئے، انہوں نے اپنی پارٹی کی حکومت کو حکم دیا کہ فوری طور پر تحقیق کی جائے کہ ختمِ نبوت والے معاملے کو کیوں چھیڑا گیا؟ اس کام کے لئے انہوں نے کمیٹی بنا دی، جس نے یہ رپورٹ پیش کی کہ یہ کام دانستہ کیا گیا۔ دوسری طرف ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔ ہر شہر میں ریلیاں نکلنے لگیں، سیمینار منعقد ہونے لگے، جذباتی ماحول دیکھنے کو آیا، علماء نے ختمِ نبوت پر جلسے منعقد کئے، مظاہرے تاحال جاری ہیں۔ اس ایشو پر صرف مذہبی طبقات ہی سامنے نہیں آئے، عوام نے بھی دلچسپی لی اور اس اقدام کی بھر پور مذمت کی۔ عوام کے مسلسل غیظ وغضب کے پیشِ نظر حکومت نے فوری طور پر قانون میں ترمیم واپس لی اور اشتہارات کے ذریعے قوم کو آگاہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اشتہار میں بتایا جارہا ہے کہ سیاسی اغراض کے لئے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کا عمل جاری ہے، ایسے لوگوں کے مذموم مقاصد کو عوام ناکام بنائیں۔ مگر صورت یہ ہے کہ احتجاج کرنا مذموم حرکت ہے یا آئین میں خاموشی سے اس قدر بھیانک ترمیم کرنا مذموم حرکت تھی؟ اس ترمیم کا ایک نااہل سیاست دان کے پارٹی صدر بننے سے کیا تعلق بنتا ہے؟ یقینا یہ الگ سے سازش کرنے کی کوشش کی گئی، جو موقع پر پکڑے جانے کی وجہ سے اپنی موت آپ مر گئی۔ سوال بہت اہم ہے اور اس کا جواب گول کیا جارہا ہے، کہ آخر یہ سازش ہوئی کیسے؟ کن لوگوں نے یہ مسودہ تیار کیا؟ کیوں پوری حکومتی جماعت اس کی حمایت پر آمادہ ہوئی؟ حکومت خود اسے سازش قرار دے رہی ہے، تو یہ سازش کی کس نے؟ کمیٹی نے اگر اس غلطی کو دانستہ قرار دیا ہے، تو قوم کے سامنے اُن لوگوں کے نام لانے میں کیا امر مانع ہے؟ انہیں کیا سزا دی گئی؟ ممکن ہے یہ خوف بھی ہو اور مصلحت بھی کہ اگر ان کے نام ظاہر کر دیئے گئے تو قوم کے کوئی افراد جذباتی اقدام نہ کر بیٹھیں۔ مگر ایسے افراد کو اختیار اور اقتدار سے الگ کرنا بھی نہایت ضروری ہے، ورنہ جو لوگ اپنا اور قوم کا ایمان اور عقیدہ خراب کرسکتے ہیں، وہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں بھی دریغ نہیں کریں گے۔ حکومت کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے تھی، وہ عوام کو باخبر کر رہی ہے کہ وہ عوامی جذبات کو بھڑکانے والوں کے مقاصد کو ناکام بنائیں، حرمتِ رسولﷺ کا تقاضا تو یہ بھی ہے کہ ایسی جسارت کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، مگر حکومت یہ معاملہ گول کر رہی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 599 Articles with 257244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 291

Comments

آپ کی رائے