سلطنت ٹیپو سلطان اور سلطنت شریفیہ کے زوال کے اسباب

(Rao Imran Salman, )

شریف خاندان شاید اس بات کا قائل نہیں ہے کہ شخصی اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام حکومت عوام کی مرضی اور منشاء کے مطابق چلائی جائے ۔بہادری اور ایمانداری سے حکومت چلانے کے باوجود ٹیپو سلطان کو بھی چند مخبروں اور جاسوسوں کی وجہ سے اپنی سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑاتھا ،نوازشریف کی حکمرانی کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو انہیں چند نہیں بلکہ کئی کئی میرصادقوں کا سامنا رہاہے بلکہ نوازشریف پر تو خود بھی یہ الزام لگارہاہے ہے کہ وہ اس ملک کے حکمران ہونے کے باوجود انگریزوں اور مرہٹوں یعنی امریکا اور ہندوستان کی جی حضوری میں ہی لگے رہے مگر ٹیپوسلطان انگریزوں اور مرہٹوں کا سخت ترین دشمن بنا۔ سلطان نے انگریزوں کے خاتمے کے لیے فرانس ،ایران ،افغانستان سے ملکی اور بین والقوامی اتحاد کے لیے مدد مانگی مگر نوازشریف ان ممالک سے اپنے خاندان کو احتساب سے بچانے کے لیے مدد مانگتا رہاہے ۔ٹیپوسلطان ایک بہادراور ذمہ دار حکمران تھاجو کہ عوام دوستی پر یقین اور رعایا سے انصاف کرنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھتا تھا،یہاں عوام بجلی کے بلوں اور بے روزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کررہی ہے ٹیپوسلطان اپنے ماتحت محکموں کے افسران اور وزرا میں سے کسی سے کوئی رعایت نہیں برتتا تھا نہ ہی ان کے فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت کو برداشت کرتاتھا انہیں اس عمل پرسزائیں بھی دیتا تاکہ اس کی رعایا میں یہ احساس باقی رہے کہ ان کا بادشاہ غریبوں اور امیروں کو یکساں انصاف مہیاکرنے پر یقین رکھتاہے ،اس کی نسبت نوازشریف صاحب نے اپنے دور اقتدار یعنی 2013سے لیکر اب تک جس جس محکمے میں وزراکو لگاتے رہے ان سے مڑکر ایک بار بھی نہ پوچھا کہ اس کی کارکردگی کیاہے اور یہ کہ وہ وزیراپنے محکمے میں فلاحی کاموں میں مصروف ہے یا پھر وی وی آئی پی پروٹوکول کے زریعے گل چھرے اڑانے میں مصروف ہے ،بلکہ یہ ہی نہیں اس ملک کے محکموں کے وزراء سارا سال نوازشریف کی "مداح سرائیوں " میں مصروف رہے جس سے خوش ہوکر نوازشریف نے کسی کو مزید نوازنے کے لیے اپنا مشیر بنالیا تو کسی کی مداح سرائی سے اس قدر نہال ہوئے کہ اسے گورنر ہی بنادیا۔یہ ہی وجہ رہی ہے کہ کہ اس حکومت کا عام آدمی دووقت کی روٹی کے لیے دربدر ہی رہا،نوازشریف ایک لاپروا سلطنت کا گمنام بادشاہ بنا رہااور رعایا لٹتی رہی ۔جبکہ ٹیپوسلطان ضلعی افسران تک سرزنش کرتااور کارکردگی کی بنیادپر چھوٹے بڑے افسران کی تعیناتیاں خود ہی سرانجام دیتا یہ ہی نہیں ان محکموں کے افسران کو اگر کہیں ضروری کام سے جانا ہوتا تو ان کی چھٹی کی درخواستوں پر دستخط تک بھی خود ہی کرتا۔یہاں نوازشریف نے اپنے پیادوں کواس قدر کھلی چھوٹ دی کہ انہوں نے ضلعی سطح تو دور کی بات بڑے بڑے محکموں کی بڑی بڑی پوسٹوں پر اپنے رشتے داروں کو لاکر بٹھادیا جو ان محکموں کے وزراکو منتھلیاں دینے کے لیے غریب عوام کا خون چوستے رہے ۔ٹیپوسلطان کی دریا دلی اور قانون کی حکمرانی کے باوجود اسے بھی میر صادق اور بدرالزماں جیسے حرام خور ساتھیوں کا ساتھ رہا جنھوں نے اپنی عیاشیوں اور جاسوسی کی وجہ سے نہ صرف سلطان کی حکومت کو گرایا بلکہ بعد میں وہ خود بھی کتے کی موت مارے گئے ۔جبکہ نوازشریف کے بدرالزماں اور میر صادق نوازشریف کو پھنسانے کے بعد خود بھی اپنی عیاشیوں کا جواب دینے کے لیے عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں۔ٹیپوسلطان کے مشیروں اور وزیروں میں بہت سے اچھے لوگ بھی شامل تھے مگر چند ایک مشیروں میں جن میں میر صادق ،میر غلام علی لنگڑا،بدرالزماں خان نائطہ ،میر معین الدین اور میر قاسم جیسے لوگوں نے اپنی پالیسیوں اور انگریزوں کے جاسوس بن کر سلطان کی سلطنت کو بہت نقصان پہچایا،تمام نگرانیاں خود کرنے کے باوجود ٹیپو سلطان کو اس قسم کے مشیر اس لیے ملے کہ وہ ایک انسان تھا خدا نہیں تھا جو ایسے لوگوں کو بروقت پہچان پاتا مگر یہ نہیں کہ اس نے اپنی ریایا کو خوش نہیں رکھا اورانصاف نہیں کیا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ٹیپوسلطان کی رعایا اپنے سلطان سے بے پناہ محبت کرتی تھی مگر افسوس اس کو اس کی عوام کاساتھ نہ مل سکاجس کا ایک واقعہ میں درج کرتا چلو کہ میسور کی چوتھی جنگ تھی اس وقت کے انگریزوں کے جرنیل لارڈڈولزلی نے سلطان کے خلاف محاز کھڑاکرتے ہوئے اس کی سلطنت پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور سلطان کی نقل وحرکت کو جانچنے کے لیے سلطان کے مشیروں کی مدد لینا شروع کردی اور اسی وجہ سے اس لڑائی میں سلطان ٹیپو کی حکومت کو شدید نقصان پہنچاسلطان ٹیپو اپنی فوج کے ساتھ عوام سے مدد لینا چاہتا تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس نے اپنی عوام کی ہرمحاز پر مدد کی ہے ان کا خیال رکھا تھا اسے یقین تھا کہ اس کی عوام اس کا ضرور ساتھ دے گی اور اس کی فوج بن کر اس کی سلطنت کو بچالے گی اس سلسلے میں جب سلطان نے اپنے "دیوان" مشیر وں،میر صادق اور میر پورنیا سے مشورہ کیا تو ان جاسوس مشیروں نے سلطان کو یہ جواب دیا کہ" اس قوم نے پہلے کس کا ساتھ دیاہے " سلطان اسی لمحے سمجھ گیا کہ وہ غداروں میں گھر چکاہے اس نے اسی وقت میر صادق اور میر پورنیا کو کہا کہ " اس غداری کا نتیجہ تمھیں اس وقت معلوم ہوگا جب تمھاری نسلیں اس ملک میں محتاج اور بے بس ہونگی اور انگریزوں کے سامنے زلیل ہوکر ایک ایک دانے اور پیاز کی ایک ایک گھٹی کو ترسیں گی " غرض کہ سلطان کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی عوام سے مدد نہ طلب کرے ۔ ترکی کے صدر طیب رجب اردگان کی حکومت کو جب اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہوا تو اس نے جب عوام سے مدد طلب کی تواس کی عوام اس کی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لیے ٹینکوں کے نیچے جالیٹی اور اس کی بھرپور مدد کی جس کی وجہ طیب رجب اردگان کی عوام سے محبت تھی ۔ اب جب کہ پاکستان کے حکمران نوازشریف کا زکر کیا جائے تو کہانی میرے پڑھنے والوں کو اچھی طرح سمجھ میں آچکی ہوگی ۔ فیصلہ نوازشریف نے کرنا ہے کہ اس کی عوام اس کی کس طرح سے مدد کرسکتی ہے ؟ نوازشریف بتائے کہ اس نے اس عوام کی کیا مدد کی ؟ انہیں روزگار دیا ؟،انہیں مہنگائی اور لاقانونیت سے نجات دلائی؟ نوازشریف رہے سے اب یہ بھی بتادیں کہ سلطان ٹیپو کو دھوکہ دینے والے میر صادق ،میر غلام علی لنگڑا،بدرالزماں خان نائطہ ،میر معین الدین اور میر قاسم جیسے لوگ اس کے مداح سراؤں میں تو موجود نہیں ہیں ؟۔ نوازشریف اب خود فیصلہ کریں کہ اسحاق ڈار ، چودھری نثار ،خواجہ آصف ،سعد رفیق ،عابد شیر علی ، پرویز رشید،مفتاح اسماعیل ،مصدق ملک ،طلال چودھری ،دانیال عزیزجیسے اور دیگر وزیروں مشیروں میں ایسا کونسا ہے جو اس کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنارہاہے ان میں سے کون ایسا تھا جو میر صادق ،میرپورنیا، میر بدرالزمان اور میر غلام علی لنگڑا بنارہاہے ؟ لیکن اس سے پہلے نوازشریف سے قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ انہوں نے خود تو اس ملک کو لوٹا ساتھ میں اپنے بچوں کو بھی اس کام میں لگالیا؟۔نواز شریف قوم کو بتائیں کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے میں وہ خاموش کیو ں رہے ؟۔وہ اپنے دور اقتدار میں کس وجہ سے امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں پر خاموشی اختیار کیے رہے اور کس لیے کشمیر کے معاملے میں بھارت کی آنکھ میں آ نکھ ڈال کر بات نہیں کرسکے جب آپ خود ہی اس قسم کی مشکوک حرکتوں میں ملوث ہونگے تو پھر میر صادق اور میر غلام علی لنگڑا کی تو اوقات ہی کیا ہے ۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Salman

Read More Articles by Rao Imran Salman: 75 Articles with 37487 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 471

Comments

آپ کی رائے