چوہدری لیاقت پر لکھا گیا ایک یادگار کالم

(Javed Iqbal Anjum, Chakwal)

ایم پی اے و صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع چکوال چوہدری لیاقت علی خان گذشتہ 3 دہائیوں سے سیاست کے اُفق پر جگمگا رہے ہیں۔ اُن کی سیاسی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے۔ میں نے 10 سال قبل اُن کی شخصیت پر قلم اُٹھایا تھا اور ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’چوہدری لیاقت کا اندازِ سیاست‘‘۔ آج ٹھیک 10 سال کے بعد اُن کی شخصیت پر پھر کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ایک طرف وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں جبکہ دُوسری طرف مقامی اخبارات میں بیماری کی مد میں وزیر اعلیٰ سے 75 لاکھ روپے فنڈز لینے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اگرچہ ان خبروں کی تردید اُن کے صاحبزادے چوہدری شہریار سلطان کر چکے ہیں مگر پھر بھی اُن کا میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ چوہدری لیاقت تو انتہائی سینئر پارلیمنٹرین ہیں۔ پاکستان میں جو چند دن سرکاری ملازمت کر لے وہ سرکاری مراعات لینے کا اہل ہو جاتا ہے۔ اگر اُن کو بیماری کی مد میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی فنڈ سے اگر کوئی مدد کی گئی ہے تو اس میں کیا بُرائی ہے۔ چوہدری لیاقت وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اس پر اگر وہ صحت مند بھی ہوتے تو کوئی بات نہ کرتے۔ وہ انتہائی منجھے ہوئے اور زیرک سیاستدان ہیں۔ وہ اپنے ڈیرے پر بلاتفریق ہر خاص و عام کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی اُنہوں نے کسی سے یہ پوچھا ہو کہ آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ اُن کا کام عوامی خدمت ہے اور خدمت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ چند دن پہلے اُن کی صحت کچھ بہتر ہوئی تو اُنہوں نے پھر عوامی سیکرٹریٹ میں جانا شروع کر دیا اور عوامی کاموں کو خود دیکھنا اپنا فرض منصبی سمجھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے اسمبلی میں نہ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جتنا وقت وہ اپنے حلقے کے عوام کو دیتے ہیں شاید ہی کوئی پارلیمنٹرین دیتا ہو۔ پچھلے کچھ عرصے سے وہ بیماری کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ ضلع چکوال کے تمام سیاستدانوں سے میل جول رہا مگر میں نے چوہدری لیاقت کو انتہائی مخلص پایا اور سب سے بڑھ کر وہ چکوال کے واحد نظریاتی مسلم لیگی رہنما ہیں جنہوں نے پارٹی کو مشکل ترین حالات میں بھی نہ چھوڑا۔ وٹو دور میں اُن کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی بولی لگائی گئی مگر اُنہوں نے جھٹلا دی۔ مشرف دور اُن کے امتحان کا مشکل ترین دور تھا۔ اُن کے پاس گورنمنٹ سے منظور شدہ لائسنس ہولڈر اڈے کو زور و بازو سے بند کرانے کی کوشش کی گئی مگر اُن کے پائے استقامت میں لرزش نہ آئی۔ وہ اپنے پاؤں پر چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ اُنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی پارٹی کو نہ چھوڑنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ چکوال کے خاندانی چوہدری ہیں اور سیاست میں آنے کے بعد اپنی جائیداد میں اضافہ نہیں کیا بلکہ اس میں کمی واقع ہوئی۔ اپنے اثاثے بیچ کر سیاست کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ ہمیشہ شرافت کی سیاست کے قائل رہے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ضلع چکوال میں کسی بھی جگہ کوئی مرگ ہو جائے تو چوہدری صاحب کی صحت نے جب تک اجازت دی وہ وہاں پہنچ جاتے تھے۔ جنازے میں شامل نہ ہونا اُن کی شخصیت کا حصہ نہیں رہا۔ اپنی ساری زندگی میں کبھی بھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہمیشہ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کے سپاہی کا کردار ادا کیا اور مسلم لیگ (ن) کے وقار میں اضافہ کیا۔ ضلع چکوال کے واحد سیاستدان ہیں جو کبھی بھی انتقامی کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی عوام و خواص میں تفریق رکھتے ہیں۔ اُن کا عوامی سیکرٹریٹ ہر خاص و عام کے لئے کھلا ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ جب سے سیاست میں آئے ہیں عوامی خدمت کا تسلسل جاری ہے۔ اُن کی خصوصی کاوشوں سے دو میگا پراجیکٹس پر کام جاری و ساری ہے۔ چکوال کی عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ چکوال کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی جائے۔ اس مطالبے کو پورا کرتے ہوئے 70 کروڑ روپے کی گرانٹ سے واٹر سپلائی پر کام جاری ہے۔ اسی طرح ایم این اے بیگم عفت لیاقت کی خصوصی کاوشوں سے 65 کروڑ کی گرانٹ سے سرکاری ہسپتال کے عظیم منصوبے کے لئے فنڈز جاری ہو چکے ہیں، یہ ہسپتال چکوال کے عوام کے لئے ایک تحفے سے کم نہیں ہے۔ چکوال کے عوام کے ساتھ والہانہ محبت کا عملی ثبوت تصور ہو گا۔ اپنی ساری زندگی تھانے کچہری کی سیاست سے دُور رہے۔ ہمیشہ پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی کے وقار میں اضافہ کیا۔ کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا کہ پارٹی کے عظیم مقصد کو نقصان پہنچے۔ اب چونکہ اُن کی صحت اجازت نہیں دیتی کہ وہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں انہوں نے اپنی سیاسی ذمہ داریاں اپنے بڑے بیٹے چوہدری حیدر سلطان کے سپرد کر دی ہیں جو اُنہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پارٹی کو آگے لیکر چل رہے ہیں اور یقینا مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ہم دُعاگو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ چوہدری لیاقت صاحب کو صحت کاملہ عطاء کرے (آمین)۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 34536 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Nov, 2017 Views: 488

Comments

آپ کی رائے