عبادت کا حقیقی مفہوم

(Shoukat Ullah, Banu)

حدیث ِ قدسی میں اﷲ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں۔ ’’ میں ایک مخفی خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا‘‘۔اور قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔’’ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے‘‘۔ آپﷺ کے دور میں تین عبد اﷲ نامی صحابہ کرامؓ تھے۔ جن کے لئے آپ ﷺ تہجد میں نام لے کر دعا مانگتے تھے۔یہ تینوں اپنے زمانے میں امام بنے۔ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ امام المفسرین ، حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ امام الفقہاء اور حضرت عبد اﷲ بن عمرؓ امام المحدیثین بنے۔امام المفسرین اس آیت کریمہ کا ترجمہ یوں بیان فرماتے ہیں۔ ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنے قرب و وصال سے بہرہ ور ہونے کے لئے پیدا فرمایا ہے‘‘۔ اس ترجمے اور حدیثِ قدسی سے عبادت کا اصل و حقیقی مفہوم اور انسان کی تخلیق کا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔پس عبادت کے معنی ہیں’’ اﷲ تعالیٰ کا قرب و وصال اور عشق و محبت‘‘، یعنی اﷲ نے ہمیں فقط اپنے قرب و وصال کے لئے پیدا کیا ہے۔ کیا یہ قرب ووصال اﷲ تعالیٰ کی معرفت اور پہچان کے بغیر ممکن ہے؟ ۔جو شخص اﷲ کو پہچانتا نہیں وہ اس کی عبادت (قرب ووصال) کیسے حاصل کرسکتا ہے۔ پس ااﷲ کی معرفت و پہچان کے لئے ضروری ہے کہ انسان پہلے اپنی ذات کو پہچانے ۔ ’’جس نے اپنی ذات کو پہچانا، اس نے اپنے ربّ کو پہچانا‘‘۔

ہم اپنی عبادات پر ذرا غور فرماتے ہیں۔توپتہ چلتا ہے کہ ہماری عبادات اپنے اصل مقام و مقصد سے کوسوں دور بھٹک رہی ہیں۔کیوں کہ ہم عبادت الہٰی اور عبادت نفس میں تفریق نہیں کرسکتے۔ آج کا انسان بظاہر اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول نظر آتا ہے لیکن وہ درحقیقت عبادت الہٰی کی بجائے عبادت نفس میں مبتلا پایا جاتا ہے۔کیوں کہ اس کا مقصود قربِ الہٰی نہیں بلکہ نمود و نمائش ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خلق خدامیں مشہور ہوجائے ، اس کی پارسائی کے چرچے عام ہو جائیں، لوگ اس کے گُن گائیں اور لوگ اس کی نیکوکاری سے مرعوب ہوکر اس کے معتقد بن جائیں۔سو عبادت الہٰی میں لوگوں کی خوشنودی شامل کرنے کا نام ریا کاری ہے۔ اب مزید غور فرمائیں کہ ہماری عبادات آج کس مقام پر ہیں۔کیا ہم نماز ، روزے ، حج و عمرے ، صدقہ و خیرات ، جہاد ، نیک اعمال ، ذکر و اذکار اور تسبیحات وعبادات صرف ایک اﷲ کی رضا کے لئے کر رہے ہیں؟ یا ۔۔۔ حدیث ِ پاک ﷺ کا مفہوم ہے۔’’ جب لوگوں کے اعمال لکھنے والے فرشتے ‘آدمی کے صبح سے شام تک کیے ہوئے اعمال جو ریاکاری ، تکبر ، غرور و نخوت ، حسد اور فخر و مباہات سے پاک لیکر اﷲ تعالیٰ کے دربار میں پیش کرتے ہیں تو سب فرشتے یک زبان گواہی دیتے ہیں کہ یہ اعمال پاکیزہ ہونے کے علاوہ اخلاص کی صفت سے بھی مالا مال ہیں۔ تو بارگاہِ الہٰی سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے فرشتو! تم اس آدمی کے اعمال و افعال کے نگہبان ضرور ہو لیکن دل کی نگہبانی میں خود کرتا ہوں۔اور مجھے معلوم ہے کہ اس نے یہ اعمال میرے لئے نہیں کیے کیوں کہ اس کے دل میں نیت کسی اور ہی کے لئے ہوتی تھی‘‘۔ ایسے لوگوں کے لئے سورۃ الجاثیہ کی آیت 23 میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’ بھلا اس شخص کو دیکھو کہ جس نے خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے‘‘۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی

جب ہماری عبادات کا یہ حال ہو تو ہم اﷲ تعالیٰ کی ذات سے دعاؤں کے قبول نہ ہونے کے گلے شکوے کیوں کرتے ہیں؟ خود انصاف فرمائیں، کیا ایسی عبادات ہمارے لیے ذریعہ نجات بنیں گی؟ ان سوالات کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ ہم عبادت الہٰی اور عبادت حق کی بجائے عبادت خلق اور عبادت نفس کا شکار ہیں۔حدیثِ پاک ﷺ کا مفہوم ہے۔ ’’ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ اَب اُنہی لوگوں کے پاس چلے جاؤ جن کو دکھانے کی خاطر تم عبادت کیا کرتے تھے، اَب انہی سے جا کر اپنا اجر طلب کرو ‘‘۔

یا الہٰی ! وہ سر نہ دے جو تجھے چھوڑ کر مخلوق کو سجدہ کرے، وہ آنکھ نہ دے جو تجھے چھوڑ کر غیر کو دیکھے ، وہ کان نہ دے جو تیرے کلام کو چھوڑ کر غیر کا کلام سنیں ، وہ زبان نہ دے جو تیری حمد و ثناء چھوڑ کر غیر کی حمد و ثناء کرے ، وہ قدم نہ دے جو تجھے چھوڑ کرکسی اور کی طرف اُٹھیں، وہ ہاتھ نہ دے جو تیری بجائے غیر سے دستگیری چاہیں ، وہ کمر نہ دے جو تجھے چھوڑ کر غیر کی اطاعت میں جھکے ، وہ سینہ نہ دے جو تیرے پیار کی بجائے غلاظتِ غیر سے بھرا ہو اور وہ دل نہ دے جو تیری قربت کے بجائے قربتِ غیر سے معمور ہو۔ امین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129390 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 962

Comments

آپ کی رائے
صوفیا کی بیان کردہ یہ روایت بالکل جھوٹی اور بناوٹی ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ یہ نبی اکرم ۖ کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی صحیح یا ضعیف سند معروف ہے۔ ملا علی قاری نے بھی موضوعات کبیر میں اس کا ذکر کیا امام سخاوی کے حوالے سے ضعیف کہا۔ معنی کے لحاظ سے بھی یہ روایت باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ''الظاہر'' ہے وہ کائنات کے وجود سے پہلے بھی ظاہر تھا۔ پھر صوفیا نے( کُنْتُ کَنْزًا ) کے بعد بیج اور درخت کی مثال دی۔ تو اللہ بمثل بیج ہوا اور کائنات بمثل درخت ۔ بیج تو ختم ہو کر درخت بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ مثال تو مالک کی گستاخی ہے۔ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ)
By: Baber Tanweer, Karachi on Nov, 07 2017
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ