امام احمد بن حنبل ؒ : ایک عالم باعمل

(Shoukat Ullah, Banu)

خلیفہ معتصم باﷲ کا خیال تھا کہ قیدی مسلسل ضربوں کی تاب نہ لا کر سر جھکا دے گامگر یہ اس کی خام خیالی تھی کیوں کہ بے پناہ مظالم ڈھائے جانے کے باوجود بھی قیدی ثابت قدم رہا۔دوسری طرف جلادوں کے تشدد کا سلسلہ جاری تھااور اس میں کمی نہیں آرہی تھی۔اور بالآخر قیدی خون میں شرابور ہوگیا اور اپنی قوت ارادی زائل ہونے کے بعد بے ہوش ہوگیا۔ اَب خلیفہ کو یقین تھا کہ قیدی زیادہ دیر تک ثابت قدم نہیں رہ سکے گا۔جلاد اُس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگے۔کچھ دیر بعد قیدی نے آنکھیں کھولیں۔خلیفہ کے اشارے پر اس کے سامنے پانی سے بھرا ہوا برتن پیش کیا گیا۔پیاس کی شدت سے قیدی جان بلب تھا۔ اس نے پانی کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر دوسرے ہی لمحے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور بلند آواز مین کہا۔ ’’ میں روزے کی حالت میں ہوں‘‘۔پھر زمین سے اٹھ کھڑا ہوا اور جلادوں سے پوچھا۔ ’’کیا وقت ہوا ہے؟‘‘۔جواب ملا۔’’ظہر کا وقت ہے ‘‘۔

زخموں سے چُور اور نڈھال قیدی نے نماز پرھنے کی مہلت مانگی جو خلیفہ نے دے دی۔ قیدی نے اﷲ اکبر کہہ کر نماز کی نیت باندھ لی اور معمول کی نسبت تیزی سے نماز اس خیال سے پڑھنا شروع کی کہ شاید خلیفہ اور درباری صبرو سکون کے ساتھ نماز پڑھنے کو تاخیری حربہ نہ سمجھ لیں۔قیدی نے نماز پڑھی ، بہت مختصر دُعا مانگی اور سیدھا کھڑے ہوکر جلادوں کو مخاطب ہوکر کہا۔ ’’میں نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے، تم بھی اپنا فرض ادا کرو۔ کیوں کہ فرض کی تکمیل ہی اقرار بندگی ہے‘‘۔

’’جب تمہاری نماز ہی ادا نہیں ہوئی تو پھر فرض کی ادائیگی کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ‘‘۔ ایک درباری عالم نے قیدی سے مخاطب ہوکر کہا۔ ’’تم نے اس وقت نماز ادا کی جب تمہارے بدن سے خون بہہ رہا تھا۔ شرعی مسئلے کے اعتبار سے نہ تمہارا وضو برقرار رہا اور نہ ہی جسمانی طہارت۔ پھر یہ کیسی نماز تھی؟‘‘۔خلیفہ معتصم باﷲ اور دیگر درباری قیدی کی اس گرفت پر مسکرانے لگے۔ اُن کے خیال میں وہ موت کے خوف سے بدحواس ہوگیا تھا اور اسی وحشت میں نماز ادا کر لی تھی۔اس پر قیدی نے کہا۔’’ میں فقہ کے مسائل نہیں جانتا‘‘۔’’پھر تمہیں کس نے مسند امامت پر بٹھایا ہے ‘‘۔ درباری عالم نے استفسار کیا۔’’میں آج تک کسی مسند پر نہیں بیٹھا۔ میں صرف ایک خاک نشین ہوں اور خاک ہی میری مسند ہے‘‘۔ قیدی نے بڑے تحمل اور سکون سے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’ میں اپنے عمل کی وضاحت کرنے سے قاصر ہوں مگر میں نے وہی کیا جس کا درس مجھے فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دیا۔ میراامیر نماز فجر کے دوران زخمی کیا گیا اور اسی حالت میں اپنے فرض کی تکمیل کی ‘‘۔قیدی کی اس روشن دلیل سے خلیفہ اور سب درباری خاموش ہوگئے۔یہ قیدی امام المحدیثین امام احمد بن حنبلؒ تھے۔

یہ وہ دور تھا جب خلق قرآن فتنہ برپا ہوا تھا۔معتزلہ عقیدے کے علماء کا کہنا تھا کہ قرآن مخلوق ہے ، قدیم نہیں۔آپؒ نے اس عقیدے کی بھرپور مخالفت کی۔ اس عقیدے کے حامیوں کو خلیفہ وقت معتصم باﷲ کی سرپرستی حاصل تھی۔ ان کی ایماء پر خلیفہ وقت نے آپؒ سے بھرے دربار میں اقرار لینا چاہا کہ قرآن مخلوق ہے لیکن آپؒ نے واضح اعلان فرمایا کہ چوں کہ قرآن کلام ِ الہٰی ہے اس لئے قدیم ہے ، مخلوق نہیں۔آپؒ کے انکار پر خلیفہ نے انہیں پابند سلاسل کیا اور وہاں ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔آپؒ کو روزانہ ننگے جسم پر درّے لگائے جاتے۔اذیتوں کی انتہا سے آپؒ بے ہوش ہوجاتے تو تلواروں کی نوکیں چبھو کر ہوش میں لاتے۔ مگر آپؒ بڑی استقلال اور بے پناہ حوصلے کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کرتے اور آپؒ نے حق وصداقت کے راستے پرہمیشہ ثابت قدم رہے۔

امام احمد بن حنبل ؒ ایک بلند پایہ عالم با عمل تھے اور زندگی کی آخری سانسوں تک قرآن و سنت پر خود بھی چلتے رہے اور دوسروں کو بھی چلنے کی ہدایت فرماتے رہے۔آپؒ نے حدیث و فقہ کی تعلیم امام ابو یوسفؒ اور امام شافعیؒ سے حاصل کی۔آپؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ آپؒ نے حدیثوں کو ایک مقام پر جمع کیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؒ نے علم حدیث و فقہ میں بلند مقام حاصل کیا۔آپؒ نے 241 ھ میں وفات پائی اور آپؒ کے جنازے میں آٹھ لوگ شریک ہوئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 129178 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2017 Views: 530

Comments

آپ کی رائے