امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسیاں

(Shoukat Ullah, Banu)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف ایک قرارداد منظور کرلی۔ قرار داد نیوزی لینڈ ، وینزویلا ، سینی گال اور ملایئشیا کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اس کو منظور کروانے میں بھی ان ممالک نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ یہ چاروں ممالک سلامتی کونسل کے مستقل ممبر نہیں ہیں تاہم دو، دو سال کی تقریری رکھتے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل یعنی 22 دسمبر2016 ء کو مصر کی جانب اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں سے متعلق قرارداد پیش کی گئی تھی جس کو امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے مؤخر کردی تھی۔یاد رہے کہ سلامتی کونسل کے 15 رُکن ممالک میں سے 14 نے اس قرار داد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جب کہ امریکہ نے ووٹ ڈالنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ماضی کی طرح قرارداد کو ویٹو کر کے اسرائیل کی مدد بھی نہیں کی۔ یہ 1979 ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال کرنے کے بجائے امریکہ نے غیر حاضر رہنا مناسب سمجھا اور اسرائیل کے خلاف قرار دا د منظور ہوگئی۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ بھی نہیں ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ متنازع یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہو۔سلامتی کونسل کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ، عالمی عدالت انصاف اور عالمی ریڈکراس بھی انہیں غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ قرارداد کے منظور ہونے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے سیخ پا ہوکر قرارداد کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ میں اس شرمناک اور اسرائیل مخالف قرارداد کو مسترد کرتا ہے اور اس کا پابند بھی نہیں رہے گا۔ مزید اُن کا کہنا تھا کہ کہ اسرائیل امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر اس قرارداد کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے پُر اُمید ہے۔ دوسری جانب فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس قرارداد کو ’’اسرائیلی پالیسی کے لئے دھچکا‘‘ اور بین الاقوامی قانون کی فتح قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے جون 1967 ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں غرب اردن ، مشرقی یروشلم ، غزہ کی پٹی اور شام کی شام کی جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے اسرائیل نے ڈیڑہ سو کے قریب بستیاں تعمیر کی ہیں جن میں پانچ لاکھ یہودی باشندے رہتے ہیں۔ اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو بستیوں میں اضافہ بڑی تیز رفتاری سے جاری ہے کیوں کہ ایک بڑی تعداد میں یہودی امریکہ سے اسرائیل منتقل ہو رہے ہیں جب کہ ماضی میں بھی امریکہ اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک سے مجموعی طور پر پینتالیس ہزار یہودی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آباد ی اختیار کرچکے ہیں۔ اس بار اوبامہ انتظامیہ نے اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہاکہ یہودی بستیاں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک متنازع مسئلہ ہے جو خطے میں قیام امن کی راہ میں رکاؤٹ بھی ہے ۔ لہٰذا امریکہ نے روایتی پالیسی چھوڑ کر اس مرتبہ قرارداد کو منظور ہونے دیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اوبامہ دور حکومت میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں ایک ہزار سے زیادہ گھر فلسطینی سرزمین پر تعمیر ہو چکے ہیں ۔ ایک طرف اگرچہ یہ قرارداد اسرائیل کے لئے ایک دھچکے کے طور پر ظاہر کی جارہی ہے لیکن در حقیقت اسرائیل انتظامیہ نو منتخب امریکی صدر سے کافی پُر امید ہے۔جس کی بنیادی وجوہات ٹرمپ کے صدارتی مہم کے دوران کئے گئے وعدے اور ستاون سالہ قانون دان ڈیوڈ فرائڈمین کی اسرائیل میں نئے امریکی سفیر کی نامزدگی ہے۔صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ کئی دہائیوں سے تل ابیب میں کام کرنے والا امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کیا جائے گا۔یاد رہے کہ یروشلم کا مستقبل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 1967 ء کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے متنازع ترین معاملات میں سے ایک رہا ہے۔ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے جب کہ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہو گا۔جہاں تک امریکہ کے اسرائیل میں نئے نامزد سفیر ڈیوڈ فرائڈ مین کی بات ہے تو وہ اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے تصفیے کے لئے دو ریاستی حل کے سخت ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حامی بھی ہیں۔ جسے اوبامہ انتظامیہ مسئلے کے پُر امن حل میں ایک رکاؤٹ سمجھتی ہے۔اس ساری صورت حال سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امریکہ نے اگرچہ اسرائیل کے خلاف قرارداد ویٹو نہیں کی مگر امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسیاں جو 1947 ء اقوام متحدہ میں تقسیم ِ فلسطین کی قرارداد منظور کروانے سے شروع ہوئی تھیں وہ اسی شد و مد سے جاری رہیں گی۔ لہٰذا اَب امت مسلمہ کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آپس میں ایک جامع اور مشترکہ حکمت عملی وضع کریں کیوں کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم فلسطین سمیت تمام اسلامی ممالک کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125187 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Nov, 2017 Views: 326

Comments

آپ کی رائے