دھرنوں کی سیاست ، بیچاری عوام

(Sohail Aazmi, )

گزشتہ کئی سالوں سے پنڈی ،اسلام آباد آنا جانا رہتا ہے ویسے بھی سیٹلائٹ ٹاؤن میں موجود ہولی فیملی ہسپتال میری جائے پیدائش بھی ہے ۔پاکستان کے دیگر پرانے شہروں کی طرح پنڈی میں بھی ٹریفک جام ہونا عام معمول ہے ۔پاکستان کے تمام پرانے شہر جن میں کراچی ،لاہور ،ملتان ،پشاور ،حیدر آباد ،ڈیرہ اسماعیل خان ،فیصل آباد ،سیالکوٹ ،گوجرنوالہ ودیگر میں آبادی میں بے پناہ اضافے اور گلی محلوں ،بازاروں میں پلازے ،مارکیٹیں بننے کے باعث ٹریفک کا مسئلہ آئے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتا جارہاہے ۔راولپنڈی جس کی آبادی 47 لاکھ کے قریب ہے میں مری روڈ تمام شہر کو ملانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے ۔آج سے کئی سال قبل بھی یہ روڈ اکثر بے پناہ رش کے باعث اکثر جام رہتی تھی اب جبکہ اوور ہیڈ بریج اورمیٹرو بس سروس بھی شروع کی گئی ہے لیکن ٹریفک کا جام ہونا معمول ہے اوپر سے سیاسی ومذہبی جماعتوں کے تمام تر جلسے لیاقت پارک جوکہ مری روڈ پر ہی واقع ہوتے ہیں جبکہ مظاہرے ،جلوسوں اور دھرنوں میں بھی یہی روڈ استعمال ہوتی ہے اب فیض آباد چوک پر لبیک یارسول اﷲؐ والوں نے گزشتہ پندرہ دنوں سے تحفظ ختم نبوت ؐ کے حلف نامہ میں ترمیم جوکہ بعدازاں وآپس لے لی گئی کے سلسلے میں دھرنا دیا ہوا ہے۔ان کا بڑا مطالبہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی اور پس پردہ سازشی عناصر کی نشاندہی اور انہیں قرار واقعی سزا دینا ہے۔دھرنے میں شامل سنی تحریک اور لبیک یارسول اﷲؐ کے اٹھارہ سو سے دو ہزار کے قریب شرکاء کے بارے میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ ان میں بعض اسلحہ لیے ہوئے ہیں جنہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھرنا ختم کرنے اور عوام الناس کی آمدورفت میں بے پناہ تکلیف سے نجات دلوانے کے لئے تین خطوط لکھے گئے مگر وہ دھرناختم نہ کرنے پر بضد ہیں ۔دھرنے سے ہونے والی عوامی تکلیف پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کروانے کو کہا ۔انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں کے حقوق کو سلب کیا جائے ۔موجودہ دھرنے کے باعث اب تک دو ہلاکتیں ہوچکی ہیں ۔اگر حکومت نے طاقت کے ذریعے دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کی تو مذید خون خرابہ ہونے کا امکان ہے جوکہ حکومت ہر گزنہیں چاہتی کہ ایسا ہو کیونکہ لاہور ماڈل ٹاؤن کا ایک واقعہ تاحال حکومت کے گلے پڑا ہوا ہے ۔اسی قسم کی دوسری کاروائی ان کے لئے مذید حالات خراب کرسکتی ہے ۔وفاقی وزیر احسن اقبال کے بقول ہم مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم ٹھوس ثبوت کے بغیر وفاقی وزیر زاہد حامدکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتے ۔ بروز اتوارتک ہونے والے تمام مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ۔حکومت نے طاقت کے زور پر دھرنے کا ختم کرنے کی کوشش نہیں کی ۔وزیر قانون احسن اقبال نے دوبارہ عوام کے بہتر مفاد میں دھرنے کو ختم کرنے کی اپیل کی لیکن دونوں فریقین کی جانب سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے باعث جڑواں شہر اسلا م آباد وپنڈی کی لاکھوں کی تعداد میں عوام راندا درگاہ بنی ہوئی ہے ۔دھرنوں کی سیاست نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔حکمرانوں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کیپیٹل شہر یا کسی دوسرے بڑے شہر میں احتجاج ودھرنا کے لئے جگہ مخصوص کریں جیسا کہ یورپ وغیرہ میں ہوتا ہے وہ لوگ انتہائی مہذب انداز سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں کسی بھی قسم کی ٹریفک ،کاروبار زندگی میں رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی ،معمولات زندگی رواں دواں رہتے ہیں یہی تو ہمارے مذہب نے بھی ہمیں سکھایا ہے ۔مذہب اسلام میں تو اس مسجد کو بھی گرادینے کا حکم ہے جس کے باعث عوام کو آمدورفت میں تکلیف ہوتی ہویا جو مسجد بغیر کسی اجازت کے سرکاری اراضی ،سڑک ،راستے پر بنائی گئی ہولیکن ہمارا مزاج اپنے مذہب سے اتنا باغیانہ ہوچکا ہے کہ ہم اس دن کی پکڑ سے بھی نہیں ڈرتے جب اﷲ حقوق اﷲ کی معافی تو کردے گا لیکن حقوق العباد کی ہرگز نہیں ۔لاکھوں افراد کو دھرنے کے باعث گھنٹوں ذلیل ہونا پڑتا ہے مرد وخواتین ،بچے ،بزرگ ،بوڑھے ،بیمار،پیدل چلنے پر مجبور ہیں لیکن اسلام کے نام پر دھرنا جاری ہے ۔سب کچھ شہر ت کی خاطر کیا جارہا ہے ۔اسلا م ونبیؐکی سنتوں سے کتنی محبت ہے ہم سب جانتے ہیں ۔ہر شخص کی نیت کو اﷲ جانتا ہے اور نیت کے بقدر ہی نیکی کو ثواب ملتا ہے ۔ایک مرتبہ مسجد نبوی ؐ کے باہر ایک صحابی ؓ نے ایک قلعہ گاڑھ دیاتاکہ لوگوں کو اپنے جانور باندھنے میں آسانی ہو لیکن دوسرے نے آکر اکھاڑ دیا کہ اس سے کسی کو ٹھوکر لگنے کا اندیشہ ہے ۔لہذا دونوں کی نیت صحیح تھی اس لئے دونوں کو اجرملے گا ۔ہماری سیاسی ومذہبی جماعتیں تو کوئی نیکی کا کام بھی صرف اسلئے کرتی ہیں تاکہ عوام کا ووٹ بینک حاصل کیا جاسکے ۔اخلاص کی ہم میں بہت کمی ہے ۔ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے ۔ختم نبوتؐپہ ہماری جان بھی قربان ۔حکومت نے حلف نامہ میں ترمیم کرکے گھناؤنا فعل کیا لیکن جب انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تبدیلی بھی وآپس لے لی تو پھر احتجاج کس بات کا دوسری جانب حکومت کو بھی ہٹ دھرمی ،بے شرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تھا اگر وہ ایک وزیر کو ہٹا دیتے تو کونسا طوفان آجاتا یا زاہد حامد خود ہی مستعفی ہوجاتے لیکن ہمارے اندر اقدارناپید ہوتی جارہی ہیں ۔عوام پس رہی ہے حکمرانوں کو اگر کئی کئی گھنٹوں گاڑی میں پھنسے رہنا اورکئی کئی میل پیدل چلنا پڑے توانہیں معلوم ہوکہ دھرنوں کی سیاست سے کتنا نقصان اور تکلیف پہنچتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 71909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Nov, 2017 Views: 421

Comments

آپ کی رائے