افغانستان میں بھارتی عزائم

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

صورتحال اتنی پیچیدہ نہیں ہے کہ سمجھ میں نہ آسکے، گزشتہ دنوں طالبان کی جانب سے مختلف حملوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ افغان جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا، افغانستان کی سرزمین پر امریکی افواج، نیٹو فورسز اور افغان نیشنل آرمی کی موجودگی کے باوجودگزشتہ ماہ سے اب تک چھ مختلف حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت افغان نیشنل آرمی کے سپاہیوں کی ہے۔ان میں سے اکثر حملے دارلحکومت کابل کے اس زون میں کیے گئے جہاں سیکورٹی کی صورتحال انتہائی الرٹ ہے ۔کچھ حملے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے بھی کیے گئے ہیں جن میں عام افراد کی ہلاکتیں ذیادہ ہیں۔ایسی صورتحال میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے ہونا ظاہر کرتا ہے کہ سرحد پر موجود افغان اور دیگر عالمی فورسز ان علاقوں میں دہشت گردوں کو قابو کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان مشرقی سرحدوں پر بھی اسی طرح کے حملوں کا شکار ہے جہاں بھارتی فوج کی جانب سے سرحد ی علاقوں میں موجود عام آبادی اورپاکستانی پوسٹوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ افغانستان میں عمومی لحاظ سے تین قسم کے گروہ حملوں میں ملوث ہیں۔ اول تو طالبان ہیں جن کی حکومت امریکی چھتری تلے قائم اتحاد نے زبردستی ختم کی اور ان کی آڑ میں افغانستان میں تباہی وبربادی کا سلسلہ شروع کیا۔افغان طالبان کا ہدف غیر ملکی افواج اور افغان نیشنل آرمی ہے۔طالبان کی جانب سے سختی سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ اپنے حملوں میں اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ عام افراد اس کی زد میں نہ آئیں۔ان کا مقصد غیر ملکی قبضے سے اپنا ملک چھڑانا ، غیرملکی افواج کو یہاں سے نکالنا اور ان کے ایجنٹوں کو حکومت سے بے دخل کرنا ہے۔ دوسرا گروہ داعش کا ہے اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو طالبان سے اپنے مفادات پورے نہ ہونے پر الگ ہوئے یا پھر وہ لوگ شامل ہیں جو پاکستان کی طرف سرحدی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد فرا ر ہو کر افغانستان پہنچے۔ داعش وہی دہشت گرد تنظیم ہے جس کے بارے میں سابق صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ امریکہ اس گروہ کی سرپرستی کر رہا ہے۔سابق صدر کے بیان کی اس وجہ سے بھی تصدیق ہوتی کہ ان کا اکثر ہدف طالبان، عام آبادی یا پھر سرحدی علاقوں میں موجود پاکستانی چیک پوسٹیں ہیں۔ تیسرا گروہ وہ دہشت گرد ہیں جنہیں افغان نیشنل آرمی نے پناہ دی ہوئی ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع ہونے کے بعد انہوں نے داعش میں شمولیت کی بجائے ان سرحدی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنائے جہاں افغان نیشنل آرمی کی پوزیشن مضبوط ہے۔ان کا مقصد محض پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سہولت پہنچانا ہے ۔اس کے لیے انہیں افغان نیشنل آرمی کے ساتھ ساتھ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی جانب سے بھرپور مدد ملتی ہے۔
افغانستان میں سیکورٹی کی کمزور صورتحال کا سب سے ذیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔پاک افغان سرحد کی کل لمبائی تقریباً2430کلومیٹر بنتی ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تو سب سے مشکل مرحلہ افغان سرحدی علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کرنا تھا ۔دوران آپریشن دہشت گردوں کے اکثر گروپ پاک افغان سرحد پر موجود افغان سیکورٹی کی نااہلی اور سرحدوں کی چیکنگ کے مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور بعض اطلاعات کے مطابق انہیں ان علاقوں میں باقاعدہ محفوظ ٹھکانے فراہم کیے گئے۔ پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے پاک افغان سرحد پر موجود بھارتی قونصل خانوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے ذریعے اس کی تصدیق بھی ہو چکی ہے ۔انہیں خطرات کے پیش نظر پاکستان نے 2344کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ 532مالیت کی باڑ سے لگنے والی یہ باڑ سرحد پر نگرانی کے نظام کو موثر بناسکے گی ۔ پاکستان کوآئے روز جن دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ باڑ ان حملوں کو روکنے میں بھی معاون ثابت ہو گی ۔ افغانستان میں موجود عالمی فورسز کو بھی یہ گلہ رہتا ہے کہ پاکستان کی سرحد ی علاقوں سے آنے والے دہشت گرد گروپ ان پر حملوں میں ملوث ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سترہ سالہ جنگ کے باوجود دنیا انہی سرحدی علاقوں کی وجہ سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے ۔ افغانستان کے نام نہاد اور کٹھ پتلی حکمران جو خود کابل سے باہر نہیں جا سکتے ان کا زور بھی اسی پرہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروپس آتے ہیں۔ ان سب کے باجود پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے کی سب سے ذیادہ مخالفت افغانستان سے کی جا رہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب کرنے کے لیے بھاری مالیت کی باڑ لگانے کا فیصلہ کر چکا ہے تو افغانستان کو اس پر اعتراض کیوں ہے ۔ صورتحال بہت سیدھی ہے اس باڑ کا سب سے ذیادہ نقصان اس بھارتی ایجنڈے کو ہو گا جو وہ افغانستان کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے۔ افغان سرحد پو موجود بھارتی قونصل خانے اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایجنڈا پہلے فاٹا میں موجود دہشت گردگروپوں کو ہر طرح کی حمایت فراہم کرنا تھاتاکہ پاکستان کو ایک ناکام اور دہشت گرد ریاست قرار دلایا جا سکے یا پھر فاٹا کوکمزور کر کے علیحدہ کرنے کی کوشش کی جا سکے لیکن وہ آپریشن ضرب عضب نے بری طرح ناکام کر دیا ۔اس ایجنڈے کا دوسرا نکتہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو امداد فراہم کرنا تھا قندھار میں موجود بھارتی قونصل خانہ اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرتا رہا لیکن پاک فورسز کے کامیاب آپریشنز نے ان علاقوں میں بھی بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا اور اب صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے ۔پاکستان کے خفیہ اداروں نے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد اس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کئی کامیاب آپریشنز کیے اور ان علاقوں میں موجود افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے گٹھ جوڑ پر کاری ضرب لگا کر انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ بلوچستان کی عوام نے بھی بھارت کے عزائم خاک میں ملانے کی اہم کردار ادا کیا اور پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرکے نریندر مودی اور بھارت مشیر اجیت دوول ڈاکٹرائن کو بری طرح ناکام کر دیا ۔بھارتی ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو ناکام بنانا ہے ۔ بھارت اور امریکہ اس لحاظ سے ایک ایجنڈے پر متفق ہو چکے ہیں ۔ اقتصادی راہداری کے ذریعے چین پاکستان کی دوستی نہ صرف مزید مضبوط ہو جائے گا بلکہ وسط ایشیا تک چین پاکستان کی رسائی بھی دونوں ممالک کی معاشی ترقی کا باعث بنے گی ۔ پاکستان کا معاشی طور پر مضبوط ہونا بھارت کے لیے ناقابل قبول ہے جبکہ چین کا مضبوط ہونا امریکہ کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ لہٰذا دونوں ممالک اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ دوسری طرف امریکہ افغانستان میں شکست کی ساری زمہ داری پاکستان پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا چاہتا ہے ۔انہی وجوہات کے باعث امریکہ افغانستان میں بھارت کو ذیادہ سے ذیادہ کردار دینے کا حامی ہے۔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی میں بھی بھارت کو جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص افغانستا ن میں اہم کردار دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان کو اس سارے معاملے میں مسئلہ کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان اس حوالے سے واضح موقف رکھتا ہے کہ افغانستان میں بھارتی کردار ایک سوالیہ نشان ہے ۔ پاکستان کے ساتھ افغان سرحد کا ایک بڑا حصہ لگتا ہے جبکہ افغانستان جنگ میں بھی پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ دوسری طرف بھارت کی کوئی سرحد اس ملک کے ساتھ نہیں اور سترہ سالہ جنگ میں بھی بھارت کا کوئی کردار نہیں رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بھارت سترہ سالہ بعد پاکستان کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کرے اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کے منصوبو ں پر کام کرے۔ امریکہ کی جانب سے بھارت کو کردار دینے پر جنوبی ایشیا میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے ۔سیاسی طور پر مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے بھی اہم ہے تاہم ایسا افغانستان جہاں سے پاکستان کے خلاف منصوبوں کو پایہ تکمیل پہنچایا جائے تو پاکستان اس کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتا ۔ افغان جنگ بہت طویل ہو چکی ہے خود امریکہ کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ اب اس مسئلہ کو کلی طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے اور طالبان کو بھی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی دعوت دی جائے کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ افغان طالبان کے بغیر افغانستان کا سیاسی حل ممکن نہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 33744 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2017 Views: 409

Comments

آپ کی رائے