حرام اور حلال

(Hukhan, karachi)

زمانہ بہت تیز رفتار ہے،،،ہر چیز منٹوں سیکنڈوں میں نظر آتی ہے اور غائب ہو
جاتی ہے،،،
فیس بک کو ہی دیکھ لیجئے،اگر میں کسی سڑک چھاپ پوئٹ کی طرح فیس بک
کا اردو ترجمہ کروں تو،،،کتابی چہرے،،،چلیں آپ اس ترجمے سے اتفاق نہ کریں،،،
کیونکہ اتفاق صرف برکت کے لیے ہوتا ہے،،،
اب اس(فیس بک)پر بھی کوئی بھی پوسٹ سیکنڈز میں غائب ہو جاتی ہے،،،

آج کل لوگوں کو برکت سے ذیادہ بریک فاسٹ کی ضرورت ہوتی ہے،،،
ہمارے جاننے والوں میں سے اک پولیس آفیسر ہیں،،،ہمیں پتا ہے کہ ان کے
پاس حلال کا کچھ نہیں،،،
ان کی تنخواہ جسے پگار،،،سیلری،،،مزدوری،،،اورپتا نہیں کیا کیا کہتے ہیں،،،وہ بھی
حلال نہیں ہے،،،

مگر ہر چیز میں ان کو حلال کی فکر ہوتی ہے،،،
اک دن ہم انکے ساتھ تھے،،،وہ گھر کی شاپنگ کے لیے نکل گئے،،،ہم نے احتیاطَ
پوچھ لیا،،،جیب میں کتنے پیسے ہیں؟؟؟،،،،
ہمیں یہ فکر نہ تھی،،،کہ انکے پاس پیسے کم نہ ہوں،،،ہمیں یہ فکرتھی،،،کہ اگر
حسبِ عادت وہ اپنا پرس گھر بھول گئے تو،،،ہماری جیب ایسی ہو جائے گی،،،
جیسے حکومتی خزانہ پورے کا پورا خالی،،،وہ بھی صرف عوام کیلئے،،،

وہ بولے،،،پگلےپیسوں سے بے وقوف شاپنگ کرتےہیں،،،
ہم نے سوچا،،،یہ کریڈٹ کارڈ یوز کرتے ہوں گے،،،پولیس والے ہوکربھی ڈاکوؤں سے
ڈرتے ہیں،،،

خیر انہوں نے اک چیز بھی پیسے دے کر نہیں لی،،،گوشت،،،سبزی،،،آئل،،،مسالاجات،
بس لے لیے،،،یہاں تک کہ چاکلیٹس بھی لے لیں،،،مجال کسی دوکاندار کواک سکہ
بھی دیا ہو،،،
البتہ ان کو حلال حرام کی بہت فکر تھی،،،گوشت لیا تو،،،‘‘یار پتا نہیں صحیح سے ذبح
بھی کیا ہو گا یا نہیں‘‘،،،سبزی تک،،،‘‘کہیں گٹر باغیچےکی نہ ہو‘‘،،،
چاکلیٹ میں کہیں کوئی حرام چیز نہ ملا دی گئی ہو اجزاء پڑھ لو،،،

ہم سوچتےرہ گئے،،،پیسا اک نہیں دیا پھر بھی ہر چیز حلال چاہیے،،،حرام پیسہ بھی
نہیں دیا،،،مگر حلال چاہیے سب کچھ ،،،
واہ رے بھائی انسان کمال ہے،،،گھر بھی ایسے پیسوں سے بنا لیا،،،لکھ دیا،،،
‘‘سب اللہ کا فضل ہے ‘‘،،،

ہم نے پوچھا،،،بھائی پیسے کیوں نہیں دئیے؟؟،،،بولے یار اپنے پاس حلال کی کمائی
کہاں،،،اب بچوں کو حرام کھلاؤں کیاِ؟؟؟،،،حد کرتے ہو تم،،،اب میں ایسا بھی نادان
نہیں،،،
ہم سوچتے رہ گئے،،،واہ رےشیطان،،،کیا فلاسفی دی حضرت انسان کو،،،
میں اس قدر انجان ہوں
میں حضرتِ انسان ہوں
کیا ہوا جو نادان ہوں
میں حضرتِ انسان ہوں۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 879631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2017 Views: 782

Comments

آپ کی رائے
zabardast bhai
By: rahi, karachi on Nov, 22 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 22 2017
0 Like
great touch and go type of funny article. only you can do this Mr khan
By: khalid, karachi on Nov, 22 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Nov, 22 2017
0 Like