بلھے شاہ کی نگری اوراہل قلم کانفرنس

(Aqeel Khan, Jambir)

جب ہم چھوٹے سے تھے جب سے سنتے آرہے ہیں کہ قلم میں بڑی طاقت ہے مگر سوچتے تھے کہ دو چار روپے کی قلم میں کیا طاقت ہو گی؟ وقت گزرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علم ہواکہ قلم کی طاقت کس کو کہتے ہیں؟ قلم کی طاقت کی بدولت ہی محرم سے مجرم اور مجرم سے محرم بنتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ قائداعظم کی طاقت(روپے)نے قلم کی طاقت کو کافی حدتک دبا دیا ہے مگر اب بھی قلم کی طاقت کا بول بالا ہے۔ قلم کی طاقت کو خریدا نہیں جاسکتا مگر جب یہ بک جائے تو پھر معاشرے میں ایسا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ایسے ہی قلم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اہل ذوق کی دعوت پر اہل قلم بلھے شاہ کی نگری میں اکٹھے ہوئے۔بلھے شاہ کی نگری میں سینئر و جونئیر تمام قلمکار وں کو اکٹھا کرنے کا سہرا پاکستان رائٹر ونگ کو جاتا ہے جس نے قلم کاروں کو مختلف شہروں میں اکٹھا کرنے کا بیٹر ااٹھا رکھا ہے۔ پاکستان رائٹرونگ اس سے پہلے ملتان، ننکانہ صاحب میں شاندار پروگرام کراچکی ہے ۔ اس بارانہوں نے بلھے شاہ کی نگری اور میرے آبائی ضلع کواہل قلم کانفرنس کے لیے منتخب کیا۔ رائٹر ونگ کی ٹیم ویسے تو ساری کی ساری قابل تعریف ہے مگر اس قابلیت میں نکھار پیدا کرنے کا سہرا مرزا یاسین بیگ، پروفیسر رضیہ رحمن اور قاری عبداﷲ کے سر جاتا ہے۔

ذکر چل رہاہے اہل قلم کانفرنس کا تو قصہ کچھ یوں ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل پاکستان رائٹر ونگ کے چئیرمین مرزا یاسین بیگ نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے دعوت کے ساتھ ساتھ پروگرام کی ترتیب بھی بتائی۔ مجھے یاد ہے جب مرزا صاحب نے مجھے فون پر اطلاع دی تو ان کے الفاظ کچھ یوں تھے۔ (مذاقاً) بابا جی ہم قصور میں رائٹر ونگ کا پروگرام کرارہے ہیں اور آپ کو ایک ماہ قبل اس لیے بتا رہے ہیں کہ آپ سے ٹائم لینا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے بول دیا کہ اچھا کیا ورنہ میری طرف سے معذرت ہی ہونی تھی۔یہاں یہ بھی بتا تا چلوں کہ پہلے بھی ایک بار میں مرزا صاحب کے پروگرام میں شرکت کا وعدہ کرکے بعد میں معذرت کرچکا تھا۔ میں نے نہ صرف آنے کا وعدہ کیا بلکہ مقامی ضلع کا ہونے کے ناطے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا۔

ابھی پروگرام کی بنیاد ڈالی ہی تھی کہ اس میں نشیب و فراز شروع ہوگئے۔ مخالفت برائے مخالفت کے قائل لوگ اس کانفرنس کے خلاف باتیں کرنا شروع ہوگئے ۔مایوسی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئیں مگر ہونا وہی ہوتا ہے جو میرے اﷲ کو منظور ہو۔ مجھ سمیت ضلع قصور سے محمداقبال خاں منج نے بھی پروگرام کوپایہ تکمیل پہچانے کے لیے مرزا صاحب کا ہاتھ بٹایا۔ وقت گزرتا گیا اور کانفرنس کا وقت قریب آتا رہا۔آخر کار 19نومبر کا وہ دن آگیا جس کا قلمکاروں کو شدت سے انتظار تھا۔ رائٹرونگ کی اس کانفرنس میں تنظیموں، کلبوں، ایسوسی ایشنوں اور کونسلوں کا فرق مٹا کر ہرقلم کار نے شرکت کی۔ایک خاص بات جسکا ذکر بہت ضروری ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد میں ضلع قصور کے چئیرمین اور نائب چئیرمین کا بھرپور تعاون رہا۔ نائب ناظم ملک اعجاز خاں دو دن تک چئیرمین رائٹرونگ کے ساتھ خود ضلع کونسل آکرکام میں ہاتھ بٹاتے رہے۔

اس کانفرنس کے ماتھے کے جھومر ویسے تو سارے قلمکار تھے مگر جن کی آمد نے اس پروگرام کو چار چاند لگادیے ان میں بڑے بھائی ، استاد اور شفیق انسان مجیب الرحمن شامی، محافظ شفیق الرحمن، سجاد جہانیہ اور ضلع قصور کے روح ِ رواں ملک اعجاز خان تھے۔

19نومبر بروز اتوار کو صبح دس بجے ضلع کونسل کے ہال میں اہل قلم کانفرنس شروع ہوئی۔جس میں مقامی صحافیوں سمیت ملک بھر سے قلمکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس کاآغازاﷲ کے پاک نام سے کیا گیا۔ اس کے بعدمقررین نے قلم کے استعمال کے موضوع پر مختلف طریقوں سے روشنی ڈالی۔ اس کانفرنس سے جونئیر قلمکاروں کو سینئرقلمکاروں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔بہت سے گُر کی باتیں بتائیں گئیں۔ قلم کس طرح اور کس وقت اور کس جگہ استعمال کیا جائے یہ سب کچھ کانفرنس کی بدولت ہی معلوم ہوا۔ کانفرنس میں صحافت کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے صحافی اور قلمکاروں میں ایوارڈ بھی تقسیم کیے گئے ۔ ایوارڈز کو مجیب شامی ایوارڈز، حافظ شفیق الرحمن ایوارڈزاور جہانیہ ایوارڈز کا نام دیا گیا۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء کی کھانے سے تواضع کی۔

کامیاب تقریب کرنے پر میں پاکستان رائٹر ونگ کے تمام عہدے داران کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے بلا تفریق تمام قلمکاروں کو ایک جگہ اکٹھا کیاورنہ عموماًدیکھا گیا ہے اندھا بانٹے ریوڑی مڑ مڑ اپنے کے مترادف مختلف تنظیم اپنے ممبرزکا پروگرام ترتیب دیکرانہی کو ایوارڈ اور اسناد دیکر فارغ ہوجاتی ہے مگر رائٹر ونگ کی اس تقریب میں میں نے مختلف قلمکاروں کی تنظیموں کے لوگوں کودیکھا جنہوں نے بلاتفریق ادب کی خدمت کرنے والوں کو ایوارڈز سے نوازا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqeel Khan

Read More Articles by Aqeel Khan: 276 Articles with 130211 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 461

Comments

آپ کی رائے