فیض آباد دھرنا‘ نیوز چینل اور سوشل میڈیا کی بندش۔ قابل مذمت

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

عدالتِ اعظمیٰ نے نوازشریف کو نا اہل کیا۔ نواز شریف خود بھی آپے سے باہر، درباری بھی آپے سے باہر، کیا کچھ نہیں کہا گیا، توہین عدالت کے مرتکب ہوئے۔ اسلام آباد سے جی ٹی روڈ سے لاہور کا سفر کون بھول سکتا ہے، کتنے دن اہم شاہراہ بند رہی، اس وقت لوگوں کو مشکلات پیش نہیں آئیں تھیں۔ نوز شریف اور ان کے حواری نواز شریف کے ا س واویلا کے ساتھ ’مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا‘ کی صدائیں لگاتے، آہ و گریا کرتے ، روتے پیٹتے داتا دربار کے احاطے میں حاضر ی دے کر، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے،جاتی امرا میں دم لیا۔ تب کسی نون لیگ کے وزیروں درباریوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے، لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے۔ میاں صاحب کو عدالت نے نا اہل قرار دیا ہے۔ دوسرے اگر احتجاج کریں، دھرنا دیں، جلسہ جلوس کریں تو وہ غیر قانونی ، عوام کے لیے دل میں درد ہونے لگتاہے، دل کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ فیض آباد کا دھرنا کہا سے آیا، کراچی سے، پشاور یا کوئٹہ سے ؟ جی نہیں یہ سب لاہور میں جمع ہوئے، حکومت سے ملاقات ہوئی، رانا ثناء اللہ نے تھپی دی، وہاں سے انہیں اپنی امان میں رخصت کیا۔ حکومت کو علم تھا کہ یہ دھرنا دینے جارہے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں، فیض آباد دھرنے سے قبل تحریک لبیک یا رسول اللہ صؤﷺ کے قائد مولانا خادم حسین رضوی کا نام بھی کسی نے نہیں سنا تھا۔ یقیناًان کا اندازِ خطابت ایسا ہی رہا ہوگا جیسا کہ دھرنے کے دوران دکھائی دے رہا ہے۔ انہیں پاکستان میں نہیں دنیا میں متعارف کرنے والا کون ہے یہی نون لیگی حکمراں۔ اگر ان سے اسی وقت مذاکرات کر لیے جاتے تو نوبت فیض آباد کی نہ آتی لیکن کیا کہا جائے سیاست کو کہ یہ بڑی ظالم چیز ہے۔ کسی نے بہت درست کہا کہ ریاست میں ریاست تو سنا تھا، حکومت میں حکومت بھی لیکن سیاست میں سیاست کا بیج موجودہ دور میں بویا جارہا ہے۔ یہ سیاست میں سیاست کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دھرنے تو اس سے پہلے بھی ہوچکے۔ عمران خان کا دھرنا 126دن ہوا ، اسلام آباد کے اندر ، اس وقت کچھ نہیں ہوا، لوگوں کو پریشانی نہیں ہوئی آج عوام کو پریشانی ہورہی ہے۔ وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات فرماتی ہیں کہ دھرنا ختم کرانے کے احکامات عدالت سے ملے ہیں۔ بڑا درد اور احترام عدالت کا پیدا ہوگیا۔ تمہارے لیڈر کو بھی تو عدالت نے نا اہل قرار دیا ہے۔ اسے کیوں نہیں تسلیم کرتے، کیوں بار بار پوچھتے ہو مجھے کیوں نکالا۔ کس بات کے تحفظات، کیسی پریشانی، ملک کی اعلیٰ عدالت کا فیصلہ اور بس۔ مانو اور چپ کر کے مقدمات کا سامنا کرو، ڈھٹائی کی حد تو دیکھیں ، نا اہلیت کو اپنی طاقت کے زور پر اہلیت میں تبدیل کرالیا گیا۔ نا اہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ رہ سکتا ہے۔ بات فیض آباد دھرنے کی تھی ۔ کہاں پہنچ گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتی مشینری اب بھی ایک نا اہل شخص کے گرد گھوم رہی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی وزیر اعظم صاحب از خود نہیں کرسکتے اس کے لیے انہیں جاتی امرا جانا پڑتا ہے۔ اب دیکھیں اسلام آباد کس مشکل میں ہے، ریاست اور حکومت پر کیا مشکلات ہیں ، وزیر اعظم جاتی امرا میں نا اہل شخص کی صدارت میں معاملات پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ یہ وقت تو اسلام آبا میں رہنے کا ہے، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشورہ کرو ، طاقت ور ادارے سے مشورہ کرو، اس مشکل سے کیسے نمٹا جائے۔ عدالت نے تو جو حکم دینا تھا دے دیا۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ دھرنے والوں پر گولیا برساؤ، شیلنگ کرو، ڈنڈے برساؤ، سر دی میں دھرنا والوں کو ٹھنڈے پانی سے ماردیں،اپنے باپ کی عمر سے بڑے سفید داڑی والوں پر بے دردی سے ڈنڈے برساؤ، شرم اور حیا نہیں ان پولیس والوں کو جو اس قسم کی حرکت کرتے ہیں ،وردی پہن کر سمجھتے ہیں کہ انہیں سب کچھ معاف ہے۔ یاد رکھو دنیا میں تم سزا سے بچ سکتے ہو لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ ایک نہتا بوڑھا شخص کئی پولیس والوں کے ہاتھ لگ گیا انہوں نے اس پر لاٹھیوں کی برسات کردی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کردی اس پنجاب پولیس نے۔ دھرنے والوں اور پولیس کے درمیان کافی فاصلہ تھا پھر بھی پولیس کے تشدت سے 7افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

فیض آباددھرنے والوں کو از خود معلوم نہیں تھا کہ ان کا احتجاج پورے ملک میں پھیل جائے گا ۔ یہ حکومت وقت کی نہ اہلی، وزیر داخلہ کی غلط منصوبہ بندی اورمیاں نواز شریف کی ضد اور ڈر و خوف کہ کہیں زاہد حامد بھی اسحاق ڈارثابت نہ ہوجائے، ورنہ میاں صاحب کب دیر لگانے والے تھے زاہد حامد کو قربان کرنے میں ۔ ان کا ریکارڈ ہے، ان کے اوپر حرف آئے انہیں گوارا نہیں، کتنا ہی وفادار کیوں نہ ہو، کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ ہوں میاں صاحب وقت آنے پر اسے قربان کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے آخر زاہد حامد میں کون سی ایسی بات ہے کہ میاں صاحب اسے قربان نہیں کر رہے ، کیا فوج کے ایکشن کا انتظار ہے، جو کسی صورت نہیں ہوگا، سپہ سالار کا بیان بہت واضح آچکا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کے مطابق ’ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو فون کیا جس میں انہوں نے اسلام آباد دھرنے کو پر امن طریقے سے حال کرنے کی تجویز دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے تشدد کو روکا جائے۔ تشدد قومی مفاد اور ہم آہنگی کے لیے ٹھیک نہیں‘۔کہیں معصوم، مظلوم ، بننے کی خواہش تو نہیں، یہ ثابت کرنا تو نہیں کہ ملک کا انتظام مابدولت کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ حکومت کی حکمت عملی پر نظر ڈالیں، پہلے از خود دھرنے والوں کو لاہور سے رخصت کیا، دھرنا شروع ہوا ، مذاکرات پر مذاکرات، اصل ایشوز پر کوئی بات نہیں، پہلے دن ایک مطالبہ مان لیتے بات ختم ہوجاتی، دھرنا ختم ہوجاتا ، عدالت نے از خود نوٹس لیا، فیصلہ سامنے آگیا، اب انہیں ایک سہارا مل گیا ، دھرنے کو ختم کرنے کا، تو کردیتے، نہیں کیا، یہاں بھی ڈر اور خوف کہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن یا لال مسجد والا قصہ نہ ہوجائے۔ دوسری جانب ملک کے عوام کو حالت سے بے خبر کردیا گیا۔ نیوز چینل بند، سوشل میڈیا بند، یعنی حکومت چاہتی ہے کہ قوم ملکی معاملات سے، سیاسی حالات سے، اس بات سے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے بے خبر رہے۔ ڈراموں اور انڈین چینل جاری و ساری ہیں ۔ گویا قوم کو یہ پیغام ہے کہ ڈرامے دیکھو، انڈین فلمیں دیکھو، تمہیں کیا مطلب سیاست سے، سیاسی حالات سے،ملکی معاملات سے، حکومت سے اور حکومت کے اچھے برے کاموں ۔ 30گھنٹے ہونے والے ہیں چینل بند، سوشل میڈیا بند، باہر کیا ہورہا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں، کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔شہر شہر گاؤں گاؤں لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

اخباری اطلاع ہے کہ کل رات کراچی میں25جگہوں پر دھرنا، جلاؤ گھیراؤ ، توڑ پھوڑ جیسے والے واقعات ہورہے تھے۔ ٹریفک بری طرح جام چل رہا تھا۔ میرے بیٹے کو رات 9بجے نائٹ ڈیوٹی پر اسپتال جانا تھا، ڈاکٹر کے لیے تو حاضری خاص طور پر ایسے حالات میں بہت ضروری ہوتی ہے۔ اب ہم سب پریشان ، آخر اس نے ہمت کی اور معمول کے مطابق گھر سے چلا گیا ۔ اسپتال پہنچ کر اس نے بتا یا کہ صفورہ چورنگی سے فیڈرل بی ایریا تک کوئی دھرنا نہیں،جلاؤ گھیرو نہیں ، راستہ صاف ستھرا تھا۔ میڈیا کی بندش سے نہ معلوم کتنے لوگ بلا وجہ پریشانی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ مائیں کیسے اپنے بچوں کو باہر بھیج سکتی ہیں اگر انہیں معلوم ہو کہ باہر گولیا چل رہی ہیں، آگ لگی ہوئی ہے۔ حالانکہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے میڈیا کی بندش غیر ضروری معلوم ہوتی، بہتری کے بجائے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیتی ہے اورعوام کو ذہنی سزا دینے کے مترادف ہے۔ کسی نے درست کہا کہ لگتا ہے اللہ نے حکمرانوں سے عقل جیسی نعمت واپس لے لی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 659433 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
26 Nov, 2017 Views: 364

Comments

آپ کی رائے