افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت

(Sami Ullah Malik, )
اب بھی دنیامیں بسنے والوں کی ایک کثیرتعدادیہ سمجھتی ہے کہ نائن الیون کاواقعہ ایک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں رونماہواجس کیلئے خودکئی امریکی دانشوراورسیاسی تجزیہ نگاراپنے خدشات وتحفظات کااظہارکرچکے ہیں اوراس کی تائیدمیں کئی فنی ماہرین کی دستاویزاتی فلمیں بھی خودامریکاکی مارکیٹ میں کافی مقبول ہیں لیکن اس واقعے کی پلاننگ کچھ ایسی ڈرامائی تھیں کہ اس حادثے نے ساری دنیاکوہلاکررکھ دیا۔اس واقعے کے رونماہونے کے بعدفوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ فوری طور پر کیا گیا تھا اور اس خوفناک حادثے کے بعد امریکامیں عوامی ردِّعمل بھی مثبت تھا۔یہ احساس جاگزیں تھاکہ یہ جنگ ضروری ہےکیونکہ پہلی مرتبہ امریکی سرزمین پر مہلک ترین حملہ ہوا تھا۔ جن افراد کو اس کی منصوبہ بندی کاذمہ دار اور جو انتہا پسندی کی ترویج کرنے والے افرادکواپنی سرزمین پرمحفوظ ٹھکانے فراہم کر نے کاالزام لگایاگیا ان کے پیچھے جانےاوراُن کاخاتمہ کرنے کیلئےافغانستان کوتاراج کرنے کااعلان کردیا گیااورجدیدجنگی ہتھیاروں اورچند دنوں میں ساٹھ ہزارسے زائدخطرناک فضائی حملوں سےیہ مقصد بہت مختصر مدت میں پورا ہوگیا۔ امریکی مشن نے بہت جلد طالبان حکومت کو ختم اور افغانستان سے القاعدہ کے ٹھکانوں کا صفایا کردیا۔ طالبان کسی طور امریکی فائر پاور کا مقابلہ نہ کر سکےلیکن اس فوری ہاتھ آنے والی کامیابی کے بعد امریکیوں پر ایک ناخوشگوارسچائی آشکارہوئی، یہ کہ جنگیں شروع کرناآسان لیکن ختم کرنامشکل ہوتاہے۔ ویت نام سے بھی یہی تلخ سبق حاصل ہواتھابعد میں عراق سے ہاتھ آنے والی سچائی بھی یہی تھی لیکن قصر سفیدکےفرعون نے دہشتگردی ختم کرنے کے بہانے افغان عوام پرنیپام بم اورمنی ایٹم بم کے بے تحاشہ اوربے رحم استعمال سے افغانستان کومکمل تباہ کردیا۔ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف توبہت تیزی سے حاصل کرلیے تاہم تب سے اب تک اس سوال کاجواب دینا انتہائی دشوارثابت ہورہاہے کہ اس دورافتادہ سر زمین پرامریکی فوجی اتنی طویل مدت سے کیاکررہے ہیں، کیوں لڑاورمررہے ہیں۔

جب سے طالبان کی سرگرمیوں میں نمایاں شدت آئی ہے، امریکا کو نئی اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس وقت طالبان کے کنٹرول میں اُس سے کہیں زیادہ علاقہ ہے جتنا ۲۰۰۱ء کے بعد کبھی اُن کے پاس تھا۔اب تویہ حال ہے کہ امریکی وزیرخارجہ اوروزیردفاع کو بھی یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنے ہزاروں فوجیوں کی معیت میں افغان دارلحکومت میں اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں سے ملاقات کرسکیں بلکہ امریکی فوجیوں کی انتہائی نگہداشت والے زیرزمین مورچوں میں اشرف غنی،عبداللہ عبداللہ اورامریکی جنرلوں سے ملاقاتیں کرکے انتہائی پراسراراندازمیں رخصت ہونے پر مجبورہوگئے ہیں۔

امریکا نے افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں اب تک۲۴۰۰؍امریکی فوجی اور۳۱۰۰۰عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جان ومال کی بھاری قربانی دینے کے باوجود اس جنگ میں ابتدائی طورپرحاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ یہ صرف سکیورٹی کامحاذ نہیں جس پرامریکاناکام رہا، کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔بظاہر امریکا کادعوی ہے کہ وہ برسوں سے افغانستان کے طول وعرض میں ہونے والی منشیات کی تجارت روکنے کی بھرپور کوشش کررہاہے کیونکہ طالبان اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقوم سے اپنے جنگی اخراجات پورے کرتے ہیں اورمنشیات کوکنٹرول کیے بغیرطالبان کوشکست دینامشکل ہے۔

اسے ختم کرنے کی کوشش میں پہلے توپوست کی فصلوں کو تلف کرنے کیلئے اسپرے کیاگیااوراس کے بعدمتبادل فصلیں اگانے اورضرورت کےمطابق روزی کمانے کیلئے کسانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی۔ان کوششوں کانتیجہ کیانکلا؟ حالیہ برسوں میں پوست کی ریکارڈ فصلیں ہوئی ہیں۔افغان معیشت کودرست کرنے کا شعبہ بھی ناکام رہا ہے لیکن اس بارے میں کئی بین الاقوامی رپورٹس منظرعام پرآچکی ہیں کہ خودامریکی فوجی منشیات کے ساتھ ساتھ دیگرقیمتی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

افغانستان کا شمار امریکا سے غیر معمولی امداد حاصل کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس نے ۲۰۱۴ء میں ۷؍ارب ڈالر سے زائدکے فنڈوصول کیے۔ رواں سال بھی افغانستان کو۴؍ارب ڈالرسے زائدامداددیے جانے کی توقع ہے۔اس کے باوجود افغان معیشت کاقبلہ درست کرنے میں اب تک خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوارمیں اضافے کی شرح۲۰۱۲ء میں ۱۴؍ فیصد تک تھی۔ اب یہ صرف ڈیڑھ دو فیصد کے درمیان رہ گئی ہے۔ ایک مخصوص اندازمیں میڈیامیں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ افغان معیشت کو غیرملکی افواج کے انخلا کے بعدشدید دھچکالگاہے۔غیر ملکی فورسز کی موجودگی میں ایک ’’جنگی معیشت‘‘ وجود میں آئی تھی لیکن۲۰۱۴ء میں فورسزکی واپسی نے اس معیشت کو ختم کر ڈالا جبکہ خودامریکی سیاسی تجزیہ نگار اس مفروضے کو تسلیم کرنے سے انکارکررہے ہیں۔

ان تمام معروضات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ افغان کشمکش ایک ناگزیر جنگ سے ایک نادیدہ جنگ میں کیوں تبدیل ہوچکی ہے۔ تمام امکانات کے ساتھ امریکی ایسی جنگ کی دلدل میں پھنس چکے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں۔ مزید برآں افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کے حوالے سے کوئی بھی واضح روڈ میپ امریکیوں کے پاس نہیں۔ یہ جنگ ان کی سرزمین سے بہت دورلڑی جا رہی ہے۔افغان معاشرے کاامریکیوں کوکچھ خاص فہم بھی نہیں۔ اب جنگی جنون میں مبتلاکچھ سازشی امریکی کہہ رہے ہیں کہ اگریہ جنگ لڑناناگزیرہی ہے تو پھررضاکارحاصل کیے جائیں،جو جان کی بازی بخوشی لگائیں اورخون کے چھینٹے امریکی سرزمین پرنہ گریں،شائداسی حکمت عملی کے تحت داعش کواستعمال کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے لیکن پاکستانی سپاہ نے بروقت خیبر فور کے کامیاب آپریشن کے بعدداعش کے پاکستان میں داخلے کے تمام راستے بند کردیئے ہیں اوردوسری طرف افغان طالبان نے تورابوراکامکمل طورپرمحاصرہ کررکھا ہے۔
 
کچھ فوجیوں نے وطن واپسی پر افغانستان کے کٹھن حالات کاذکرکرکے امریکیوں کو دنگ اورپریشان کردیا۔ ڈومینگ ٹیری نے ۲۰۱۵ءمیں معروف جریدے ’’اٹلانٹک‘‘ میں لکھا تھا ’’افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت کی باتیں کرنا ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو فوراً تبدیل کر دیا جائے‘‘۔ خوش قسمتی سے اس موسمِ گرما میں یہ جنگ دوبارہ امریکی راڈارپر ابھری۔ اگست میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کیلئے ایک نئی حکمتِ عملی بنائیں گے اور یہ کہ وہ وہاں سے القاعدہ اورداعش کاخاتمہ چاہتے ہیں جبکہ خودہلیری کلنٹن اپنی کتاب کے علاوہ کئی مرتبہ اپنی ٹی وی انٹرویوزمیں"داعش کی تشکیل"کا اعتراف کرچکی ہیں۔

اب ایک مرتبہ پھرامریکی قوم کامورال بلندرکھنے کیلئےپہلی بارکسی امریکی کمانڈرانچیف نے کہاہے کہ وہ افغانستان میں کامیابی کیلئے ایک پلان رکھتے ہیں اوربد قسمتی سے یہ پلان ہنوزغیرواضح اورنادیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی قیادت اگرواقعی افغانستان سے دہشت گردی کاخاتمہ اورسیاسی استحکام دیکھنا چاہتی ہے تواس کیلئے تمام غیرملکی افواج کافوری انخلاء اوروہاں معاشی استحکام کاپایاجانالازم ہے اورموجودہ جنگی ماحول میں یہ ممکن نہیں۔ اس کیلئے افغانستان کی سفارت کاری کوفعال کیاجانا انتہائی اہم ہے اوراس کیلئےہمسایہ ریاستوں کاتعاون ازحدضروری ہے۔پاکستان،ایران اورطالبان کواعتماد میں لیناہوگا ۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیاقصرسفیدمیں مقیم فرعون ٹرمپ ان سے بات کرنے کیلئےتیار ہے؟

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231699 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Nov, 2017 Views: 647

Comments

آپ کی رائے