بادشاہ کا حکم

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
”حضور کے حکم کی تعمیل میں مجھے میرے گھر میں بند کردیا گیا تھا۔ کئی مہینوں تک پریشان اور تنگدست رہا۔ آخر مجبور ہو کر یہ نازیبا حرکت کی۔ حضور مجھے معاف کردیں۔ بادشاہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا کہ اچھا ہم نے تمہیں معاف کیا اور تمہاری ملازمت بھی بحال کردی ۔ غلطی ہماری ہی تھی ہم نے حکم ہی ایسا دیا تھا کہ آدمی بھوک اور تنگدستی سے مجبورہوکر چوری کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اگر ہم تمہیں گھر میں قید نہ کرواتے تو شاید تم ایسی حرکت کبھی نہ کرتے۔ جاؤ! اب ایسی حرکت نہ کرنا، چوری بہر حال بری حرکت ہے۔ بادشاہ اور سردار دونوں نے غلطی کی تھی۔ دونوں نے اپنی اپنی غلطی تسلیم کرلی اور ایک دوسرے کا آئندہ کیلئے عبرت حاصل ہوگئی۔ کہتے ہیں کہ پھر سردار نے کبھی چوری نہ کی اور نہ بادشاہ نے کبھی کسی کو ایسی سزادی۔

بہت پہلے جب ہر جگہ بادشاہ ہی حکومت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بادشاہ اپنے ایک ملازم سردار سے ناراض ہوگیا اور اُسے دربار سے نکال دیا اور حکم دیا گیاکہ تم دن رات اپنے گھر میں پڑے رہو نہ کہیں باہر جاسکتے ہو اور نہ ہی کہیں کام کرسکتے ہو۔ یہ بظاہر معمولی حکم تھا کیونکہ دن رات گھر میں پڑے رہنا کچھ کام کاج نہ کرنا اور فارغ وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ویسے بھی ایک آدمی ایک ہی جگہ اور ایک قسم کے لوگوں میں رہتے رہتے گھبرا جاتا ہے اور تو اور بہت وحشت ہوتی ہے۔ وقت کاٹنا دوبھر ہوجاتا ہے چنانچہ اُسکے ساتھ بھی ایسی ہی ہوا۔ وہ سارا دن پڑا رہتا اور کوئی کام نہیں کرسکتا تھا۔ سردار بہت پریشان تھا کیونکہ اسکے بچوں کے پیٹ بھرنے کا سوال تھا۔ جب وہ گھر سے باہر قدم نہیں نکالے گا تو بیوی بچوں کو کھلائے گا کہاں سے؟“ اتفاق سے کچھ دنوں کے بعد بادشاہ وزیر اور شہزادے بلائے گئے۔

سردار کو ایک ترکیب سوجھی تو اسکی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اُس نے اپنی بیوی کو پڑوس میں ایک قیمتی جوڑا لانے کیلئے بھیجا۔ وہ پڑوس سے قیمتی جوڑا لے آئی۔ سردار نے مانگے کا قیمتی جوڑا جلدی سے زیب تن کیا اور گھر سے نکل پڑا اور شان سے چلتا ہوا شاہی دربار میں جا پہنچا۔ درباری سمجھے کہ کوئی معزز مہمان ہے اُسے لے جا کر بڑے ادب سے دوسرے بڑے لوگوں کے ساتھ کرسی پر بیٹھا دیا۔ سردار گردن اکڑا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ دربار شروع ہوا ۔ جشن کی تمام رسمیں ادا کی گئیں اور اسکے بعد دسترخوان پر اعلیٰ قسم کے کھانے رکھے گئے۔ سردار نے بھی ہاتھ بڑھا کر خوب ڈٹ کر کھانا کھایا اور پھر نظر بچا کر بڑی چالاکی سے سونے کی ایک رکابی اپنے لباس میں چھپالی اور دربار ختم ہوتے ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا اور گھر آکر بڑے مزے سے سارا واقعہ اپنی بیوی کو سنایا۔ اِسکے بعد اُسکی بیوی بازار جاتی اور سونے کی رکابی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر فروخت کرکے کچھ رقم لے آتی۔

یوں سردار کی زندگی آرام سے گزرنے لگی اور پریشانی دور ہوگئی۔ ادھر دربار کے ملازموں نے دیکھا کے سونے کی ایک رکابی کم نکلی ہے تو بیچارے بہت گھبرائے اور رکابی ڈھونڈنے کیلئے ادھر اُدھر دوڑنے لگے۔ بادشا نے انکی حالت دیکھ کر کہا کہ تم سب کیوں پریشان ہو؟ مجھے معلوم ہے کہ سونے کی رکابی غائب ہوگئی اور اب وہ تمہیں نہیں ملے گی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رکابی کس نے چرائی ہے۔ اگلے سال پھر جشن ہوا اور دربار مہمانوں سے بھرگیا ۔ جشن کے اختتام پر مہمانوں کو کھانا دیا گیا۔ سردار اس موقع پر بھی موجود تھا۔ کھاناکھانے کے بعد پھر اُس نے نظر بچا کر بڑے اطمینان سے ایک سونے کی رکابی اپنے لباس میں چھپا لی۔ دربار ختم ہوا تو مہمان جانے لگے تو سردار بھی محل کے دروازے سے باہر نکلنے لگا کہ اچانک بادشاہ سامنے آگیا۔ بادشاہ کو دیکھ کر وہ بہت سٹ پٹایا اور گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ بادشاہ نے ہاتھ بڑھا کر اُسکا ہاتھ پکڑ اور کہا کہ پچھلے سال کی رکابی ختم ہوگئی جو پھر ایک اور رکابی لے جانا چاہتے ہو؟

یہ سنتے ہی سردار کے ہوش اُڑ گئے اور خوف کے مارے کانپنے لگا۔ آخر کار بادشاہ کے قدموں پر گر پڑا اور کہنے لگا؛”حضور کے حکم کی تعمیل میں مجھے میرے گھر میں بند کردیا گیا تھا۔ کئی مہینوں تک پریشان اور تنگدست رہا۔ آخر مجبور ہو کر یہ نازیبا حرکت کی۔ حضور مجھے معاف کردیں۔ بادشاہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا کہ اچھا ہم نے تمہیں معاف کیا اور تمہاری ملازمت بھی بحال کردی ۔ غلطی ہماری ہی تھی ہم نے حکم ہی ایسا دیا تھا کہ آدمی بھوک اور تنگدستی سے مجبورہوکر چوری کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اگر ہم تمہیں گھر میں قید نہ کرواتے تو شاید تم ایسی حرکت کبھی نہ کرتے۔ جاؤ! اب ایسی حرکت نہ کرنا، چوری بہر حال بری حرکت ہے۔ بادشاہ اور سردار دونوں نے غلطی کی تھی۔ دونوں نے اپنی اپنی غلطی تسلیم کرلی اور ایک دوسرے کا آئندہ کیلئے عبرت حاصل ہوگئی۔ کہتے ہیں کہ پھر سردار نے کبھی چوری نہ کی اور نہ بادشاہ نے کبھی کسی کو ایسی سزادی۔

قارئین کرام آج کے دور میں بھی بڑے بڑےچور پائے جاتے ہیں جیسا کہ مسجدوں میں سے جوتے چوری کرنے والے چور اور ٹوٹیاں چوری کرنے والے چور اور پنکھے چرانے والے چور یاد رہے کہ چوری کرنا ایک نہایت ہی بری عادت ہے ایک آدمی جب دیکھتا ہے کہ میری قیمتی چیز چوری ہو گئی ہے تو اس کا مارے پریشانی کے برا حال ہوجاتا ہے اور آدمی سوچتا ہے کہ اب میں کیا کروں اپنی ضرورت کی چیز کہاں سے پیدا کروں اور اس کے ایمان کو بھی نقصان پہچتا ہے جب چور پکڑا جائے تو اس کو ذلّت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات لوگ اکٹھے ہوکر مار مار کر چور کا حال برا بنا دیتے ہیں اور اسلام کے مطابق تو چور کی سزا ہاتھہ کاٹنا ہے اور چور کا ہاتھہ کاٹ دیا جاتا ہے اللہ تعالٰی ملک پاکستان میں بھی اسلام کا نفاذ کرنے کی توفیق دے اور ایسے حکمران برسر اقتدار آئیں جو جہاد کو جاری کریں اور اسلام کا نفاذ کرکے اللہ کی حدوں کو جاری کریں کیونکہ جہاں پر اللہ کی حدّیں جاری ہوجاتی ہیں

اور اسلام نافذ ہو جاتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر برکات نازل ہوجاتی ہیں اور لوگ خوشحالی کی زندگی گزارنے لگتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ شرک وبدعت سے اور غیر اللہ کی عبادت سے تائب ہوکر اللہ کی عبادت کرنے لگتے ہیں اسی لئے تو اللہ نے اسلام کا نزول فرمایا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کو اپنا شعار بنالیں اور ان کو اللہ کی فرماں برداری کی عادت ہو جائے ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو لوگوں کا مال واسباب چوری کرنا بھی ایک بری عادت ہے اور اچھے لوگ ہمیشہ بری عادتوں کو ترک کر کے اچھی عادتوں کے کو اپنا تے ہیں کیونکہ اللہ پاک نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتے رہیں اور برائی سے منع کرتے رییں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں جیسے دنیا میں جہاد کی مخالفت ہو رہی ہے جس وجہ سے اللہ کے دین سے لوگ دور ہوتے جارہے ہیں دنیا میں جیسے تیسے ہم زندگی گزارلیں گے لیکن آخرت میں اللہ کے عذاب کا شکار نا ہو جائیں اس بات سے ڈرنا چاہیے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84586 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Dec, 2017 Views: 6551

Comments

آپ کی رائے