کیا کشمیر لبنان بننے والا ہے!!

(Zakirullah, Islamabad)

ریاست جموں کشمیر کے موجودہ حالات اور چند ماہ سے، وقفے وقفے سے جاری سابق حزب کمانڈر ذاکر موسیٰ کے بیانات کا اگر بغور جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو فوراً دل کے نہاں خانے سے یہ آواز آتی ہے کہ کہیں ہم نوے کے دہائی میں واپس تو نہیں جارہے ہیں۔ایک ایسا منظر نامہ اُبھر کر سامنے آ رہا ہے جس کی تلخ یادیں آ ج بھی ہمارا سکون اور چین برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔کہیں ریاست جموں کشمیر لبنان اور سری نگر بیروت تو نہیں بننے جارہا ہے۔اگر چہ داعش نظریات اور ریاست جموں کشمیر میں اس کے عملی وجود کو ایک مفروضے کی ہی حیثیت دی جارہی تھی،لیکن اب کمانڈر ذاکر موسیٰ کی داعش نظریات کی وکالت، حزب سے راہیں جدا کرکے اپنا ایک الگ گروہ تشکیل دینا،کسی طوفان کا پتہ دے رہی ہے۔

ریاست جموں کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آ غاز لبریشن فرنٹ کے بینر تلے ہوا،جو کہ خودمختار کشمیر کی حامی تھی۔ جب میرے وطن کے لوگوں کی مزاحمت مکمل عوامی تحریک میں ڈھل گئی تو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ مقبول تنظیم اور اُس کا نعرہ سب سے مقبول نعرہ بن کر سامنے آیا۔سری نگر شہر لبریشن فرنٹ کے پرچموں سے ڈھک گیا۔

اس صورتحال کو ٹھنڈے پیٹوں کہاں برداشت کیا جاتا۔ دھمکیوں اور بزور بازواس تبدیلی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز لیگ کے ایک زیر زمین گوریلا کمانڈر کا یہ بیان اخبارات کی زینت بنا کہ " اگر جے کے ایک ایف نے اپنے نظریہ خود مختار کشمیر پر اصرار جاری رکھا تو ہم کشمیر کو لبنان بنادیں گے "۔

حزب المجاہدین کے منظم اور متحرک ہونے کیساتھ ہی نظریہ الحاق کو جو تقویت ملی اس نے نہ صرف اُ ن پاکستان نواز سیاسی کارکنوں کی مایوسی کو دور کیا،بلکہ تنظیم نے ایک ایسامیمورنڈم جاری کیا جس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر کو الحاق پاکستان کی منزل پر گامزن کیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ چودہ اگست کو حزب المجاہدین بٹالین سطح پر پریڈ منعقد کرتی تھی، پاکستانی پرچم کو سلامی دیتی تھی اور تو اور اپنے کمانڈروں کو تمغہ پاکستان بھی دیا کرتی تھی۔ ان تمام اقدامات اور جماعت اسلامی جیسی منظم تنظیم کی پشت پناہی،سخت گیر پاکستان نظریات رکھنے کی وجہ سے حزب المجاہدین اگر چہ ریاست کی سب سے زیادہ منظم، مضبوط، متحرک اور طاقتور ترین عسکری تنظیم بن کر اُبھری۔یہاں تک کہ لبریشن فرنٹ میدان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرگئی۔لیکن خود مختار کشمیر کی فلاسفی ایک مقبول نظریہ بن کر کشمیر کے منظر نامے پر چھائی رہی۔ اس فلاسفی سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔دلائل کے انبار لگائے جاسکتے ہیں،لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ کوہ گراں کی طرح استادہ ہے کہ 1990سے لیکر آ ج تک کشمیر میں جتنے بھی رائے عامہ کے جائزے سامنے آئے،اگرچہ اُن کی صحت پر سوالیہ نشان لگ سکتے ہیں،تاہم عوام کی اکثریت نے کشمیر کی آزاد مملکت کے حق میں رائے دی ہے۔

اگرچہ نوے کی دہائی میں خودمختار اور الحاق کی یہ رسہ کشی کچھ کچھ نظریاتی بھی تھی لیکن حقیقت میں یہ تنظیمی اور گروہی بالادستی کی جنگ تھی۔ اس رسہ کشی کو بھارتی سامراج نے ایک منظم خانہ جنگی میں تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کی۔لیکن بھارت کے ہاتھ سوائے یاس و حسرت کے کچھ نہ آ یا۔ بھارت کی اس ناکامی کے پیچھے چند کلیدی وجوہات تھیں، جن کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہیں
1.لبریشن فرنٹ کاعسکری جدوجہد سے بہت جلد تائب ہوجانا۔
2۔ریاست کی کٹھ پتلی انتظامیہ کا نابود ہونااور عسکری تنظیموں کے ہاتھوں میں کشمیر کے لیل ونہار ہونا۔
3۔جماعت اسلامی کی پشت پناہی اور حزب المجاہدین کی کمان زیرک قیادت کے ہاتھوں میں ہونا۔

حزب المجاہدین اورجماعت اسلامی کی دوراندیشی نے شروع سے ہی بھارتی چالوں کو پیوند خاک کیا۔یہی وجہ تھی کہ انتقام کی آگ میں جل رہے بھارت نے بعد میں "اخوان"کو جنم دیکر کر حزب المجاہدین اور جماعت اسلامی کے کارکنان کا قتل عام کیا۔اور بعض عسکری گروہوں نے بھی دانسہ یا نادانستہ بھارتی خاکوں میں رنگ بھرکرحزب اور جماعت اسلامی کے خلاف اپنی بھڑاس نکالی۔

حزب المجاہدن نے عسکری جدوجہد میں جو صف اول کا کردار ادا کیا اور آ ج بھی بطریق احسن نبھارہی ہے۔لبریشن فرنٹ کی یکطرفہ جنگ بندی کے بعد جس طرح حزب بھارتی فوج کے خلاف ہر محاذ پرصف آرا رہی، یہاں تک کہ Insurgency کا بھی بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا،اس نے ریاست میں نہ صرف حزب المجاہدین کی عزت و وقار میں اضافہ کیا بلکہ بھارتی سورماؤ ں کے اوسان خطا کئے۔ آ پریشن فیلڈ سے لیکر بیس کیمپ تک، دشمن سے لیکر اپنوں کی سازشوں تک جس پامردی اور دوراندیشی سے مقابلہ کیااور سیاسی محاذ پر قائد حریت سید علی گیلانی نے جس طرح اپنے تاریخی پس منظر میں مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کیااور خود کو یہ ثابت کیا کہ بکنے والا نہ جھکنے والا گیلانی،بھارت سے ڈرنے والا ہے نہ پاکستانی ایجنٹ ہے۔ وہ اگر مشرف کو کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کرنے پر ماتھے کو بوسہ دے سکتا ہے تو اُن کشمیریوں کی امنگوں پر شب خون مارنے پر چارنکاتی ایجنڈے کو بھی پائے حقارت سے ٹھکرا سکتا ہے۔

حزب المجاہدین کے اس عسکری کریکٹراور سید علی گیلانی کے سیاسی بالغ نظری نے پوری ریاست میں نظریہ خود مختار اور الحاق کو ہر محاذ پر irrelevent کردیا ہے۔

بھارت اس مردہ گھوڑے میں جان تو ڈال نہیں سکتا، اس لئے ریاست میں جاری جدوجہد آزادی سے غلو خلاصی کے لیے بھارت شازشوں کے نئے جال بننے میں مصروف ہے۔ 2016میں شہید برہان وانی کی شہادت کے بعد جوتحریک برپا ہوئی، جس نے ریاست جموں کشمیر کے باسیوں کو یکجان کردیا،بھارتی ایجنسیوں نے بڈگام میں شعیہ سنی فساد کرانے کی بھرپور کوشش کی۔لیکن سیاسی قیادت کی بالغ نظری اور لوگوں کی تحریک آزادی کشمیرسے قلبی وابستگی نے بھارت کی اس گھناونی سازش کو ناکام بنادیا۔

بھارت اب ریاست جموں کشمیر میں جاری تحریک کو،جوکہ خالصتاً ایک مقامی تحریک ہے کو داعش کا رنگ دے کر اپنے مضموم مقاصدکی تکمیل چاہتا ہے۔

سیانے لوگوں کا کہنا ہے کہ (تیل کا پیسہ جہاں جائے گا آ گ ہی لگائے گا)۔ حقیقت میں کمانڈرذاکر موسی جس بیانیہ کا اسیر ہوچکا ہے، اس گروہ کے الم برداروں کا یہ ا لمیہ ہے کہ یہ اپنے سوا کسی کو سچا، پکا مسلمان سمجھتے ہیں نہ دین دار،اس گروہ کا ہر فرد اپنے آپ کو عالم سمجھتاہے اور دوسروں کے خلاف فتویٰ صادر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔یہ گروہ اپنے سوا ء ہر فرد کو جاہل،مشرک اورمنافقوں کی صف میں لاکھڑا کر دیتا ہے۔اپنوں کا کیا کہنا،اُن کے لیے تو بشارتیں ہی بشارتیں ہیں۔ریاست میں یہ گروہ اب بہت ہی زیادہ قوت حاصل کرچکا ہے۔یہ لوگ البغدادی سے تعلق کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔

کمانڈر ذاکر موسیٰ اس گروہ کے سپہ سالار بنے یا بنائے گئے،اس حوالے کچھ یقین کے ساتھ کہا نہیں جاسکتا،تاہم آثار و قرائن ایک دھندھلا سا خاکہ بنارہے ہیں۔ یہ تصویر بظاہر تو خوشنما ہے،لیکن نتائج کے لحاظ انتہائی خوفناک ہوگی۔

بھارت سالہاسال سے ریاست جموں کشمیر کی تحریک آزادی کودہشت گردی سے نتھی کرنے کی کوشش کرتارہا ہے۔ اس مقصدکے حصول کے لیے،گزشتہ27برس سے بھارت آسمان کے قلابے ملارہا ہے اخوان اور الفاران نامی تنظیم کو وجود بخشا،مغربی سیاحوں کوا غواء کرکے قتل کیا، سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی آنکھو ں میں دھول جھونکنے کی کوشش میں چھٹی سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام کیا۔لیکن حزب المجاہدین کے Indigeniousکریکٹر اورریاست کے حدود سے باہر کسی بھی کاروائی سے گریز کی پالیسی، اپنے عسکری کاروائیومیں اہداف کے چناؤ۔ حزب المجاہدین کا کسی عالمی ایجنڈے کا ذکر کرنا نہ حصہ ہونا۔ تنظیم کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کا مطالبے پر قانع رہنا کی پالیسی نے ہمیشہ بھارتی تمناؤں پر اووس ڈالی۔

گزشتہ کئی برس سے حالات نیا رخ اختیار کئے ہوئے ہیں،بھارت اب اس تحریک آزادی کو ایک عالمی دہشت گردی کا آف شوٹ قرار دینے کے لیے سر توڑ کوشش کررہا ہے۔اور لوکل سطح پرinfightingکی کالی سیاہ رات کی واپسی کا متمنی ہے۔ مودی محبوبہ اتحاد،بی جے پی کا وادی کشمیر میں بڑھتا ہوااثر،دولت اسلامیہ یا داعش کے پھریرے کاوادی کشمیر میں لہرایا جانا، امریکہ کی جانب سے حزب المجاہدین کوعالمی دہشت گرد تنظیم اور اس کے سربراہ کو عالمی دہشت گرد قرار دینا اور اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے روایتی نیم جاں بیان کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھنا۔ بھارتی پالیسی سازوں کو اور بھی تیز تر گامزن رہنے کا حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال،جہاں نت نئے حربوں اور سازشوں کے ذریعے جان بوچھ کر lawlessness کے ماحول کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔مقامی پولیس نفرت کا نشان بن چکی ہے۔ کو دیکھ کر محسوس ہورہا ہے کہ ریاست بڑی تیزی کے ساتھ اب ایک ایسی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا انجام بہت ہی بھیانک ہوگا۔شائد یہ خا نہ جنگی بعد میں شعیہ سنی فساد کی شکل اختیار نہ کرجائے۔

متحدہ جہاد کونسل نے بھی اپنے تازہ ترین بیان میں اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ "بھارت عالمی سطح پر اس مقامی اور جائز تحریک کو داعش اور القاعدہ کا نام چسپاں کرکے اسے دہشت گردی ثابت کرنا چاہتا ہے۔پچھلے کئی مہینوں سے القاعدہ اورداعش کے نام پر ذاکر موسیٰ کی آڑ لے کر ایک نئی اخوان تشکیل دی جارہی ہے اور اس میں بھارتی زرخرید ایجنٹوں کو داخل کیا جارہا ہے۔بھارتی میڈیا پرداعش اور اس سے وابستہ بھارتی ایجنٹوں کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے وہ واقعی کسی جہادی تنظیم کے مجاہد ہیں۔ ان مفروضوں کو حقیقت کا رنگ دینے کیلئے،پچھلے کئی روز سے بھارتی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں گلمرگ کے راستے دراندازی کا افسانہ تراش کر اورذاکر موسیٰ کے ساتھ کسی میٹنگ کا حوالہ دے رہے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حزب المجاہدین کا کام صرف بروقت نشاندہی کرناہی ہے؟نہیں حزب مرض کو بیخ وبن سے اُکھاڑنے کا نام ہے! ٹھوس،عملی اقدامات اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ حزب المجاہدین کی گزشتہ 27برس کی تاریخ challangesسے بھر پور رہی ہے،اور ہر Challangeسے عہد برآ ہونے کا ٹریک ریکارڈ حزب سے زیادہ کسی کاشاندار نہیں،لیکن حزب المجاہدین کے امتحان ابھی ختم نہیں ہوئے،حقیقت تو یہ ہے کہ حزب المجاہدین اپنی تاریخ کے انتہائی کٹھن امتحان اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ایک طرف طویل جدوجہد کے ثمر کو داعش اور القاعدہ کےTagکی نذر ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہے دوسرا، ریاست کو لبنان اور سری نگر کو بیروت بنتے دیکھ رہی ہے۔

حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ حالات کبھی بھی موافق نہ تھے!۔تاہم اب کی بار آزمائش کاmagnitudeبہت زیادہ ہے۔اقوام عالم کی بے رخی،عالم اسلام کی بے حسی،امریکہ کی بھارت نوازی،پاکستان کی سرد مہری،جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے دست شفقت سے محرومی،سیز فائر لائن پر لگی آہنی باڑاورآپریشن فیلڈ میں جہاں دیدہ قیادت کا میسر نہ ہونا۔ان ہوش ربا حالات اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جو امید کی کرن ہے وہ یہ ہے حزب ریاست کے لوگوں کے دلوں کی آواز ہے اور اسی کی فلاسفی پر یقین رکھتے ہیں،وہ حزب کو جانتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی کو پہچانتے نہیں.اس امر ثبوت اس وقت ملا جب لشکر طیبہ کے شہید مجاہد وسیم احمد شاہ کے جنازے پر چند لوگوں نے ذاکر موسی کے حق میں نعرے بلند کئے تو جنازے میں شریک مجاہد وسیم احمدکے والد نے اُنہیں روکا, ٹواور کہاکہ"یہ نعرے بند کرو،ہم صرف حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ کو جانتے ہیں،ہم کسی ذاکر موسیٰ کو نہیں جانتے"

اس تمام تر صورتحال کا احاطہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بتکدے میں بیٹھے برہمن کی پختہ زناری سب پر واضح ہے،دیکھنا یہ ہے میدان جہاد میں آج تک کلیدی رول ادا کرنے والے شیخ ِحزب کا تسبیح سے رشتہ کتنا مضبوط ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zakirullah

Read More Articles by Zakirullah: 2 Articles with 578 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Dec, 2017 Views: 286

Comments

آپ کی رائے