سانحہ ماڈل ٹاؤن:جسٹس نجفی رپورٹ کے بعد حکومت کا ایک اورامتحان شروع

(Ishrat Javed, )
سانحہ کیونکر پیش آیا؟ واردات میں کون کون ملوث تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے؟ انہی سوالوں کے جواب کیلئے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل یک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا
رپورٹ میں وقوعہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل سیکرٹیریٹ کے باہر قانونی طور پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں جنہیں ہٹانے کیلئے پولیس نے غیرقانونی کارروائی کی

17جون 2014 کا خون آشام دن کسے یاد نہیں ہو گا ؟۔یہ ملکی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جس کی بازگشت برسوں سنائی دیتی رہے گی۔11گھنٹے تک جاری رہنے والایہ آپریشن عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائشگاہ کے باہروہ تجاوزات ہٹانے کیلئے کیا گیاجس کی اجازت ہائیکورٹ نے دی تھی۔ تصادم اورپولیس فائرنگ کے نتیجے میں 2خواتین سمیت 14افراد شہید اور 90زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ کیونکر پیش آیا اور کن حالات و واقعات نے اسے پاکستان کی تاریخ کا بد قسمت ترین واقعہ بنایا ؟۔ اس خونی واردات میں کون کون ملوث تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے؟ انہی سوالوں کے جواب کے حصول کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل یک رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا۔حال ہی میں کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کی روشنی میں انکوائری رپورٹ عوام الناس کیلئے جاری کردی ۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ کی سر براہی میں جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل 3رکنی فل بینچ نے صوبائی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت مکمل کر کے 24نومبرکو فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔ 132 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ پنجاب حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔ عوامی تحریک کے کارکنان نے رپورٹ کی کاپی حاصل کرنے کے بعد سول سیکر ٹریٹ کے بعد دھرنا ختم کر دیا۔ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ کارکن تیار رہیں کسی بھی وقت احتجاج کی کال دے سکتا ہوں کیونکہ حکومت نے ہمیں جسٹس نجفی رپورٹ کی مصدقہ کاپی دینے کی بجائے حکومتی کاپی تھمائی ہے، اس سلسلے میں ہمارے وکلا اور کور کمیٹی مشترکہ اجلاس کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

نجفی کمیشن رپورٹ کا منظر عام پر آنا بلاشبہ خوش آئند پیشرفت ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والوں کے ورثا اور زخمی آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور دوسری وجہ یہ کہ اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات و سانحات پاکستان کی تاریخ میں رونما ہو چکے ہیں جن کی تحقیقاتی رپورٹس بند فائلوں کی نذر ہو چکی ہیں ۔3سال بعد سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ مرتب بھی کی گئی مگر یہ رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور تصور کی جا رہی ہے کیونکہ رپورٹ میں کسی بھی حکومتی شخص کا نام نہیں لیا گیا ۔ اس کے علاوہ قانون کی نظر میں بھی جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر سمجھی جا رہی ہے ۔ حکومت کے نزدیک رپورٹ میں غیر متعلقہ شہادتوں پر انحصار کیا گیا ہے نیز کسی بھی حکومتی شخص کوبراہ راست ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔رپورٹ میں ثبوت یک طرفہ ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ کوبطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن نے رپورٹ میں قرار دیا کہ ان کو کو کیس کی تہہ تک پہنچنے کیلئے مکمل اختیارات نہیں دئیے گئے۔ اس رپورٹ کے مرتب کرنے کیلئے ملزموں تک رسائی اور مجرموں کے تعین کا اختیار بھی نہیں دیا گیا نہ ہی اس ٹربیونل کو حتمی رائے دینے کا اختیار تھا مگر جو چیزیں سامنے آ گئی ہیں ان پر ایک ہنگامہ برپا ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اس پر لانگ مارچ اور دھرنے کی کال دینے پر سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں جو مسلم لیگ ن کی حکومت کیلئے انتہائی خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

اس رپورٹ پر عوامی تحریک اور حکومت کے ردعمل متضاد ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا جبکہ پنجاب پولیس سمیت صوبائی انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ مذکورہ رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔بعض مبصرین کا تاثر یہ ہے کہ نجفی رپورٹ میں خاص طور پر کسی کا نام نہیں لیا گیا لیکن تمام ’’متعلقہ‘‘ افراد کو اس جرم میں بلاتخصیص ساتھ دینے کا قصور وار قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک فریق کے دعوے کے مطابق 10، دوسرے فریق کے دعوے کے مطابق 14افراد جان سے گئے اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ جسٹس نجفی کی رپورٹ بعض حقائق پر پردہ ڈالنے کی نشاندہی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ رپورٹ میں ایسی قانون سازی پر بھی زور دیا گیا ہے جس میں مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہو کہ صرف وہی پولیس کو فائرنگ کا حکم دے سکے۔ مذکورہ انکوائری رپورٹ قانونی اعتبار سے فیصلے کی نہیں بلکہ شہادت یا محض ایک ہدایتی حیثیت رکھتی ہے مگر موجودہ حکومت کیلئے، جو پہلے سے مشکلات میں مبتلا ہے، سیاسی اثرات کی موجب ہوسکتی ہے۔ ملکی معاملات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اپنے مفاد کی بات کو ’’مکمل درست‘‘ اور مخالفت میں کی جانے والی بات کو ’’مکمل غلط‘‘ کہنے کی روش سے اجتناب برتا جائے۔

رپورٹ میں وقوعہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل سیکرٹیریٹ کے باہر قانونی طور پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں جنہیں ہٹانے کیلئے پولیس نے غیرقانونی کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس ایکشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ،فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی ؟کوئی بتانے کا تیار نہیں ۔وزیراعلیٰ کے حکم پر رکاوٹیں ہٹائی گئیں۔ ڈاکٹر توقیرشاہ نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے ایما پر منہاج القرآن سیکرٹیریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا جبکہ ہائیکورٹ نے اپنے حکمنامہ کے تحت ان رکاوٹوں کو جائز قرار دے رکھا تھا۔ ڈاکٹر توقیر کے حکم پر ٹی ایم اے سے گلبرگ ٹاؤن اور زون2 کے ٹی ایم اوز 16 جون کو رات کے وقت رکاوٹیں ہٹانے موقع پر گئے جس کی کارکنوں نے مزاحمت کی اور پتھر پھینکے۔ اسکے جواب میں پولیس نے کارکنوں پر سیدھی فائرنگ شروع کردی۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے کسی نے بھی اس شخص کی نشاندہی نہیں کی جس کے حکم پر فائرنگ کی گئی۔ انکوائری رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ وزیر قانون رانا ثنا اﷲ کی سربراہی میں آپریشن کیلئے کی گئی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کیا گیا جس کے نتیجے میں 14گھروں میں صف ماتم بچھ گئی جبکہ زخمی ہونیوالے کئی افراد مستقل اپاہج ہو گئے جبکہ اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اس سلسلہ میں آپریشن روکنے سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان بعد کا خیال ہے۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے اگرچہ اس رپورٹ کو نقائص کا مجموعہ قرار دیا ہے اور اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ رپورٹ میں انکے اور وزیراعلیٰ شہبازشریف سمیت کسی کو بھی ذمہ دار نہیں گردانا گیا تاہم محض اس موقف کی بنیاد پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کا بوجھ انکے سرسے نہیں اتر سکتا۔ پنجاب حکومت کو اس کیس میں بہرصورت قانونی تقاضوں کے مطابق ہی ٹرائل کورٹ میں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ اگر رانا ثنااﷲ کے اس دعوے کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر انہیں تو اس رپورٹ کے حوالے سے فکرمند ہونا ہی نہیں چاہیئے تھا اور پہلے دن ہی اس رپورٹ کو منظرعام پر لے آنا چاہیے تھا مگر افسوس 3سال 4ماہ اور26دن کے بعد عدالتی حکم پر اسے پبلک کیا گیا۔واضح رہے کہ انکوائری کمیشن نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد یہ رپورٹ اگست2014میں ہوم سیکرٹری کے حوالے کر دی تھی لیکن پنجاب حکومت نے اسے دبانے کی پوری کوشش کی جو کامیاب رہی تھی اور اب بھی وزارت قانون اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے بارے میں حکومت سے یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ وہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو قبول نہ کرے کیونکہ یہ رپورٹ مفاد عامہ کے منافی ہے اور اس سے فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور امن عامہ کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

اس وقت جبکہ حکومت پہلے ہی سیاسی بحرانوں کا شکا ر ہے اور شریف فیملی کو میاں نوازشریف کی نااہلیت کے بعد نیب کے ریفرنسوں کا بھی سامنا ہے‘ جسٹس نجفی کی رپورٹ پر حکومت کو کسی نئی سیاسی محاذآرائی کا راستہ نہیں ہموار ہونے دینا چاہیے اورنہ ہی اس معاملہ سے عہدہ براہونے کیلئے پہلے جیسی کوئی غلط حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانحہ کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تب ہی انصاف کے تقاضے پورے ہونگے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 51584 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Dec, 2017 Views: 393

Comments

آپ کی رائے