Sahih Bukhari Hadith No. 1217

Chapter 22 THE BOOK OF DEALING WITH ACTIONS IN AS-SALAT (THE PRAYER)
کتاب صحیح بخاری شریف
باب کتاب نماز کے کام کے بارے میں

Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle sent me for some job and when I had finished it I returned and came to the Prophet and greeted him but he did not return my greeting. So I felt so sorry that only Allah knows it and I said to myself,, 'Perhaps Allah's Apostle is angry because I did not come quickly, then again I greeted him but he did not reply. I felt even more sorry than I did the first time. Again I greeted him and he returned the greeting and said, The thing which prevented me from returning the greeting was that I was praying. And at that time he was on his Rahila and his face was not towards the Qibla.

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِير ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الْأُولَى ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ فَقَالَ : إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ، وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ .

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے کثیر بن شنظیر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک ضرورت کے لیے ( غزوہ بنی مصطلق میں ) بھیجا۔ میں واپس آیا اور میں نے کام پورا کر دیا تھا۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس لیے خفا ہیں کہ میں دیر سے آیا ہوں۔ میں نے پھر دوبارہ سلام کیا اور جب اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا تو اب میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا۔ پھر میں نے ( تیسری مرتبہ ) سلام کیا، اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے جو دو بار میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی اونٹنی پر تھے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔

Hadith No. 1218

Narrated Sahl bin Sa`d: The news about the differences amongst the people of Bani `Amr bin `Auf at Quba reached Allah's Apostle and so he went to them along with some of his companions to affect a reconciliation. Allah's Apostle was delayed there..

READ COMPLETE

Hadith No. 1219

Narrated Abu Huraira: It was forbidden to keep the hands on the hips during the prayer. (This is narrated by Abu Huraira from the Prophet.) ..

READ COMPLETE

Hadith No. 1220

Narrated Abu Huraira: It was forbidden to pray with the hands over one's hips. ..

READ COMPLETE

Hadith No. 1221

Narrated `Uqba bin Al-Harith: I offered the `Asr prayer with the Prophet and after finishing the prayer with Taslim he got up quickly and went to some of his wives and then came out. He noticed the signs of astonishment on the faces of the people..

READ COMPLETE

Hadith No. 1222

Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, When the Adhan for the prayer is pronounced, then Satan takes to his heels passing wind so that he may not hear the Adhan and when the Mu'adh-dhin finishes, he comes back; and when the Iqama is..

READ COMPLETE

Reviews & Comments