Sahih Bukhari Hadith No. 1822

Chapter 29 THE BOOK OF PENALTY FOR HUNTING
کتاب صحیح بخاری شریف
باب کتاب: شکار کے بدلے کا بیان

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: That his father said We proceeded with the Prophet in the year of Al-Hudaibiya and his companions assumed Ihram but I did not. We were informed that some enemies were at Ghaiqa and so we went on towards them. My companions saw an onager and some of them started laughing among themselves. I looked and saw it. I chased it with my horse and stabbed and caught it. I wanted some help from my companions but they refused. (I slaughtered it all alone). We all ate from it (i.e. its meat). Then I followed Allah's Apostle lest we should be left behind. At times I urged my horse to run at a galloping speed and at other times at an ordinary slow speed. On the way I met a man from the tribe of Bani Ghifar at midnight. I asked him where he had left Allah's Apostle . The man replied that he had left the Prophet at a place called Ta'hun and he had the intention of having the midday rest at As-Suqya. So, I followed Allah's Apostle till I reached him and said, O Allah's Apostle! I have been sent by my companions who send you their greetings and compliments and ask for Allah's Mercy and Blessings upon you. They were afraid lest the enemy might intervene between you and them; so please wait for them. So he did. Then I said, O Allah's Apostle! We have hunted an onager and have some of it (i.e. its meat) left over. Allah's Apostle told his companions to eat the meat although all of them were in a state of Ihram.

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ ، فَأُنْبِئْنَا بِعَدُوٍّ بِغَيْقَةَ فَتَوَجَّهْنَا نَحْوَهُمْ ، فَبَصُرَ أَصْحَابِي بِحِمَارِ وَحْشٍ ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَضْحَكُ إِلَى بَعْضٍ ، فَنَظَرْتُ فَرَأَيْتُهُ ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ الْفَرَسَ ، فَطَعَنْتُهُ ، فَأَثْبَتُّهُ ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ عَلَيْهِ شَأْوًا ، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : تَرَكْتُهُ بِتَعْهَنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا ، فَلَحِقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابَكَ أَرْسَلُوا يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يَقْتَطِعَهُمُ الْعَدُوُّ دُونَكَ فَانْظُرْهُمْ ، فَفَعَلَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا اصَّدْنَا حِمَارَ وَحْشٍ وَإِنَّ عِنْدَنَا فَاضِلَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ .

ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، کہا ان سے ان کے باپ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ   ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھ لیا تھا لیکن ان کا بیان تھا کہ میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ ہمیں غیقہ میں دشمن کے موجود ہونے کی اطلاع ملی اس لیے ہم ان کی تلاش میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ) نکلے پھر میرے ساتھیوں نے گورخر دیکھا اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے میں نے جو نظر اٹھائی تو اسے دیکھ لیا گھوڑے پر ( سوار ہو کر ) اس پر جھپٹا اور اسے زخمی کر کے ٹھنڈا کر دیا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ امداد چاہی لیکن انہوں نے انکار کر دیا پھر ہم سب نے اسے کھایا اور اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ( پہلے ) ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دور نہ رہ جائیں اس لیے میں کبھی اپنا گھوڑا تیز کر دیتا اور کبھی آہستہ آخر میری ملاقات ایک بنی غفار کے آدمی سے آدھی رات میں ہوئی میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعہن نامی جگہ میں الگ ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ دوپہر کو مقام سقیا میں آرام کریں گے پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور انہیں ڈر ہے کہ کہیں دشمن آپ کے اور ان کے درمیان حائل نہ ہو جائے اس لیے آپ ان کا انتظار کیجئے چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا، میں نے یہ بھی عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک گورخر کا شکار کیا اور کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی موجود ہے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کے کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔

Hadith No. 1823

Narrated Abu Qatada: We were in the company of the Prophet at a place called Al-Qaha (which is at a distance of three stages of journey from Medina). Abu Qatada narrated through another group of narrators: We were in the company of the Prophet at a..

READ COMPLETE

Hadith No. 1824

Narrated `Abdullah bin Abu Qatada: That his father had told him that Allah's Apostle set out for Hajj and so did his companions. He sent a batch of his companions by another route and Abu Qatada was one of them. The Prophet said to them, Proceed..

READ COMPLETE

Hadith No. 1825

Narrated `Abdullah bin `Abbas: From As-Sa'b bin Jath-thama Al-Laithi that the latter presented an onager to Allah's Apostle while he was at Al-Abwa' or at Waddan, and he refused it. On noticing the signs of some unpleasant feeling of disappointment..

READ COMPLETE

Hadith No. 1826

Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, It is not sinful of a Muhrim to kill five kinds of animals. ..

READ COMPLETE

Hadith No. 1827

One of the wives of the Prophet narrated: The Prophet said, A Muhrim can kill (five kinds of animals.) ..

READ COMPLETE

Reviews & Comments