Sahih Bukhari Hadith No. 216

Chapter 4 THE BOOK OF WUDU (ABLUTION)
کتاب صحیح بخاری شریف
باب کتاب وضو کے بیان میں

Narrated Ibn `Abbas: Once the Prophet, while passing through one of the graveyards of Medina or Mecca heard the voices of two persons who were being tortured in their graves. The Prophet said, These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid). The Prophet then added, Yes! (they are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never saved himself from being soiled with his urine while the other used to go about with calumnies (to make enmity between friends). The Prophet then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he replied, I hope that their torture might be lessened, till these get dried.

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، ثُمَّ قَالَ : بَلَى ، كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ، قَالَ : لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا . ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِب الْقَبْرِ : كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ .

ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ ( وہاں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھجور کی ) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے ( ایک ایک ٹکڑا ) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے۔

More Hadiths From : the book of wudu (ablution)

Hadith No. 217

Narrated Anas bin Malik: Whenever the Prophet went to answer the call of nature, I used to bring water with which he used to clean his private parts. ..

READ COMPLETE

Hadith No. 218

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet once passed by two graves and said, These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid). One of them never saved himself from being soiled with his urine, while the other used to go about with..

READ COMPLETE

Hadith No. 219

Narrated Anas bin Malik: The Prophet saw a Bedouin making water in the mosque and told the people not to disturb him. When he finished, the Prophet asked for some water and poured it over (the urine). ..

READ COMPLETE

Hadith No. 220

Narrated Abu Huraira: A Bedouin stood up and started making water in the mosque. The people caught him but the Prophet ordered them to leave him and to pour a bucket or a tumbler of water over the place where he had passed the urine. The Prophet..

READ COMPLETE

Hadith No. 221

Narrated Anas bin Malik: The Prophet said as above (219). ..

READ COMPLETE

Reviews & Comments