نا چاہتے ہوئے بھی مجھے کورونا وائرس کی تشخیص کے لئے 2 ٹیسٹ کروانے پڑے، دوسرے ٹیسٹ کا سن کر میں نے سوچا کہ کوئی گڑبڑ تو نہیں؟

image

خوف کی علامت بننے والا نوول کورونا وائرس ہزاروں افراد کی جان لے چکا ہے۔ چین کے شہر ووہان سے جنم لینے والے عالمی وبائی امراض کے باعث پوری دنیا لاک ڈاؤن میں ہے، کیونکہ اگر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی گئیں تو اس کا انجام موت بھی ہو سکتا ہے۔

ڈان نیوز کے لکھاری سید سبط حسان رضوی جو کہ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں تحقیق بھی کرتے ہیں اور دیگر موضوعات پر بھی کالم لکھتے ہیں، اپنے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کرانا چاہتے تھے کیونکہ انہیں یہ لگا کہ صوبائی وزیرِ تعلیم سعید غنی کی طرح ان میں بھی بظاہر کورونا کی کوئی علامات موجود نہیں ہوں گی۔ وہ لکھتے ہیں کہ پھر دوسرے مرحلے میں مجھے Nasal Swab دینے والا عمل بے حد تکلیف دہ لگتا تھا۔ ساتھ ہی مجھے یہ بھی لگتا تھا کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس کم ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ وہ کسی ایسے شخص کے کام آئیں جس میں واقعی کورونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔

سید سبط حسان 30 مارچ کو نیوز کوریج کے لئے ڈیفینس میں واقع انٹیگریشن ایکسپرٹس نامی ادارے پہنچے، تو انہیں معلوم ہوا کہ ادارہ انووٹیو ہیلتھ کئیر سسٹم کے تحت کورونا وائرس کی ریپڈ ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریپڈ ٹیسٹنگ 95 فیصد تک درست ثابت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک حیران کن بات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طریقے سے صرف 10 منٹ میں ہی جان لیوا کورونا وائرس کے مثبت یا منفی ہونے کا نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔

ادارے کے چیف ایگزیکٹیو افسر نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کی قیمت کورونا وائرس کی پی سی آر ٹیسٹنگ سے کم ہے۔

ڈان نیوز کے صحافی نے بتایا کہ ڈیمو کے دوران ڈاکٹر ضیا نے میرے ساتھ ہی ٹیسٹ پرفارم کیا اور خوش آئند بات یہ تھی کہ ٹیسٹ منفی آیا ۔ ٹیسٹ کا طریقہ کار اس طرح تھا کہ صرف انگلی سے نکالے گئے خون کے 3 قطروں سے نتیجہ سامنے آجاتا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ٹیسٹ کو گھر میں باآسانی کوئی بھی پرفارم کرسکتا ہے۔ جیسے شوگر چیک کی جاتی ہے۔

سید سبط حسان رضوی نے پاکستان میں پہلے کورونا وائرس سے متاثرہ شخص یحییٰ جعفری کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا پلازمہ عطیہ کردیا۔ درحقیقت یہ تجویز ماہر امراض خون تجربہ کار ڈاکٹر طاہر شمسی کی تھی ساتھ ہی انہوں نے حکومت کو بھی کو ریپڈ ٹیسٹنگ کی فوری اجازت دینے کا بھی مشورہ دیا ہے۔

لکھاری لکھتے ہیں کہ 2 روز قبل ریپڈ ٹیسٹ کرنے کا نتیجہ منفی آچکا تھا اس لئے مجھے یقین تھا کہ مجھے دوسرے مرحلے کے بعد ہی واپس روانہ کر دیا جائے گا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے باغ ابن قاسم کے پاس انڈس ہسپتال کی مدد سے پاکستان کی پہلی ڈرائیو تھرو کورونا وائرس ٹیسٹنگ سروس کا آغاز کیا۔

اِن کا ٹیسٹ بھی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں مجھ سے سوالات ہوئے اور اس کی بنا پر مجھے ایکسرے کرانے کا تجویز پیش کی گئی۔ اس کے بعد ایکسرے کے بعد کووڈ 19 کی ایپ کے ذریعے ٹیسٹ کرنے یا نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر نے مجھے ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے دیا۔

ڈاکٹر کے ٹیسٹ کروانے کے مشورے پر انہیں تشویش ہوئی اور حیرانی بھی کہ آخر ایسا کیوں؟

یہ وہی مرحلہ ہے جس سے ہر کوئی گھبراتا ہے۔

ناک اور حلق کے ذریعے ہونے والے 15 سیکنڈ کا ٹیسٹ آنسو نکال دیتا ہے۔ اس دوران اپنی تھوک کو باہر پھینکنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈان نیوز کے صحافی ایک مرتبہ پھر اچھی خبر بتاتے ہیں کہ 24 گھنٹوں بعد اس ٹیسٹ کی رپورٹ بھی منفی آئی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹرز نے انہیں عوامی اجتماعات پر جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

لکھاری مزید کہتے ہیں کہ 15 دنوں سے زیادہ اس بیماری کی کوریج کے بعد اور مختلف حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے 50 سال سے زائد کی عمر کے افراد کے لیے احتیاط لازم قرار دی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US