اس متنازع بِل میں کہا گیا تھا کہ اگر نجی املاک کے مالکان مواصلاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے جیسے ٹاور یا آپٹیکل فائبر کیبلز کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالیں گے تو انھیںپانچ کروڑ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں کئی دنوں سے ٹیلیکام کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی دینے کا بِل زیرِ بحث ہے جس پر کڑی تنقید کے بعد وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے متنازع شقوں پر مزید وضاحت کی تجویز دی ہے۔ کمیٹی کی رائے ہے کہ ’رائٹ آف وے‘ کے نام پر شہریوں کے حقِ ملکیت کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026‘ نامی اس متنازع بِل میں کہا گیا تھا کہ اگر نجی املاک کے مالکان مواصلاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے جیسے ٹاور یا آپٹیکل فائبر کیبلز کی تنصیب میں رکاوٹ ڈالیں گے تو انھیںپانچ کروڑ روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیلیکام کی وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اس بِل کا دفاع کیا ہے اور اسے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار تیز کرنے سے جوڑا ہے۔ تاہم حکومتی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس بِل کو واپس لے۔
اس متنازع بل پر شزا فاطمہ اور ٹیلیکام کی وزارت کے حکام کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔
یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں پہنچ گیا تھا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان سمیت دیگر سینیٹر نے اس پر اعتراض اُٹھایا۔
سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے اس پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اس پر کمیٹی قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔

’پانچ کروڑ جرمانے‘: متنازع بِل میں کیا ہے؟
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026) رواں ماہ 11 جون کو قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن آرگنائزیشن ایکٹ 1996 میں ترامیم کی تجاویز دی گئیں۔
جس معاملے پر شور اُٹھا وہ اس ایکٹ کے سیکشن دو، 27 اے اور 27 بی میں ترامیم سے متعلق ہے۔
ان ترامیم کے تحت کسی بھی ٹیلیکام نظام کی تعیناتی، آپریشن یا دیکھ بھال، مواصلاتی ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے، ٹاور، متعلقہ آلات، آپٹیکل فائبر کیبلز کی تنصیب کے لیے ٹیلیکام کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی (رائٹ آف وے) کے اختیارات دیے گئے ہیں۔
متنازع بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ کوئی بھی مالک، کرایہ داریا نجی ادارہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
مجوزہ بل کے تحت لائسنس ہولڈر مالک، کرایہ دار یا نجی ادارے کو کوریئر کے ذریعے اجازت کے لیے لکھے گا، 15 روز کے اندر کوئی جواب موصول نہ ہونے پر یاددہانی کا خط بھیجا جائے گا اور 30 روز بعد بھی جواب نہ آنے پر درخواست کو منظور سمجھا جائے گا۔
مالک، کرایہ دار یا عوامی یا نجی ادارہ کوئی فیس، کرایہ یا کسی نوعیت کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اور رکاوٹ ڈالنے والے مالک، کرایہ دار یا نجی ادارے کو پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

مالک کی رضامندی ہونی چاہیے، کمیٹی کی تجویز
وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے بل میں شامل مجوزہ ترامیم اور ’رائٹ آف وے‘ سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے متعدد اجلاس کیے اور تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطہ سہولت کو بہتر بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاہم بعض شقوں کی زبان میں مزید وضاحت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
پاکستان میں ٹیلیکام کمپنیوں کا یہ گلہ رہا ہے کہ ملک میں فائیو جی متعارف کروائے جانے کے بعد مواصلاتی رابطوں کے چیلنجز ہیں، جن میں فائبر آپٹیکس بچھانے اور ٹاورز کی تنصیب کا عمل بہت پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق اس کی وجہ سے ڈیجیٹل ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے۔
ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں موبائل فون کے سگنل کمزور ہیں لہذا اس راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی جائیداد کے معاملے میں مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ بنیادی شرط ہوگی۔ کسی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثے کے استعمال یا رسائی سے متعلق کوئی قدم مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدے کے بغیر نہیں اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کا اطلاق عوامی اداروں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیرِ ملکیت یا زیرِ انتظام زمین، عمارت، جائیداد اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اسی نوعیت کے اداروں پر واضح طور پر کیا جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی تعریفیں قانون میں صاف اور واضح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر اور زیرِ زمین ٹیلیکام ڈھانچے، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے معاملات میں واضح فرق رکھا جائے گا اور ہر معاملے کے لیے الگ طریقہ کار مقرر کیا جائے گا۔
اگر کسی لائسنس یافتہ ادارے اور عوامی ادارے، رہائشی منصوبے، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہو تو معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے گا۔ متعلقہ حکومت اس معاملے کا فیصلہ 45 دن کے اندر قانون کے مطابق کرے گی۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ حکومت کی رہنمائی کے لیے واضح اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی تجویز کی ضرورت، مناسب ہونے، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔

’رائٹ آف وے کا مقصد حقِ ملکیت کو متاثر کرنا نہیں‘
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثرہ شخص کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا، جو سیکشن 7 اے آف دی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے تحت قائم ہے۔ اس معاملے میں ٹربیونل کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
کمیٹی نے سیکشن 27 بی ون کے تحت تجویز کردہ جرمانے کی رقم کا بھی جائزہ لینے اور اسے قانون کے مجموعی مقصد، ڈھانچے اور شقوں سے ہم آہنگ بنانے کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دے کر مزید غور اور ہدایات کے لیے پیش کیا جائے گا۔
وزارت نے واضح کیا کہ حکومت ٹیلیکام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی چاہتی ہے، مگر یہ ترقی شہریوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
وزارتِ قانون و انصاف نے کہا ہے کہ شہریوں کی نجی جائیداد، مالک کی رضامندی، حقِ اعتراض، قانونی تحفظ اور معاوضے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ رائٹ آف وے اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر، قابلِ اعتماد اور تیز انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنا ہے، نہ کہ کسی شہری کے حقِ ملکیت کو متاثر کرنا۔

’بہتر ہوتا کہ اس بل کو واپس لے لیا جاتا‘
سینیٹر پلوشہ خان کہتی ہیں کہ اس بل پر عوامی سطح پر شدید غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ اس پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ وزارتِ قانون و انصاف کی عبوری رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ابھی موصول نہیں ہوئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں آئینی کمیٹی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ہی ہے، باقی وزیرِ اعظم اپنی مشاورت کے لیے جو بھی کمیٹی بناتے ہیں، وہ ایک طرح سے اس معاملے میں رائے ہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ اب یہ بل کس شکل میں دوبارہ ایوان میں آتا ہے، ہم آئینی ماہرین، انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین سے اس پر رائے لیں گے، کیونکہ یہ عوام کا اجتماعی مسئلہ ہے اور لوگوں میں پہلے ہی سے اس پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ متنازع ترامیم کو ختم کیا گیا ہے یا نہیں۔‘
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ اس بل کو واپس لے لیا جاتا اور درکار قانونی عمل سے گزار کر نیا بل ایوان میں لایا جاتا۔
قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے اس پر اعتراض کیوں نہیں اُٹھایا؟ اس سوال کے جواب میں سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں پارٹی ارکان کا موقف ہے کہ اُن کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم کو بل میں شامل نہیں کیا گیا اور کسی طریقے سے اُن کی نظر سے گزرے بغیر یہ قومی اسمبلی سے منظور ہو گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اب یہ پارٹی فیصلہ کرے گی کہ آئندہ قانون سازی کے عمل کے دوران کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے، اگر قومی اسمبلی سے یہ بل پیپلز پارٹی کی نظروں سے اوجھل رہا تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی نے ہی اس کی نشاندہی کی۔
’مجھے کوئی جلدی نہیں تھی یہ بل چھ ماہ قومی اسمبلی میں زیرِ بحث رہا‘
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کہتی ہیں کہ اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں کی گئی اور اگر اس بل میں ترامیم تجویز کی جاتی ہیں تو اس پر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے دعویٰ کیا کہ یہ بل چھ ماہ تک قومی اسمبلی میں زیرِ بحث رہا۔
اُن کے بقول ’مجھے جلدی اس بات کی ضرور ہے کہ میں نے فائیو جی کی نیلامی کی ہے اور اسے رول آؤٹ ہونا ہے۔ اگر ہم فائبر نہیں بچھائیں گے تو یہ کیسے ہو گا؟ پھر آپ ہی آ کر کہیں گے کہ انٹرنیٹ نہیں آ رہا، انٹرنیٹ کہاں گیا۔‘
شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ یہ اُسی صورت میں ہو گا اگر ہم سرمایہ کاروں کو تحفظ دیں گے لیکن اس کا ’یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ہم عام آدمی کے حق کو نقصان پہنچائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے فائبر آپٹیکس بچھانی ہیں اور ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور بچے بچے تک انٹرنیٹ پہنچائیں گے۔‘