نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو دوبارہ معاشی قوت بنانے کے لیے شب و روز محنت کر رہی ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
اپنے بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران عزت بخشی اور ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزارت خارجہ کی ٹیم نے سفارتی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال بعد دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھانے میں معاونت کی اور تاریخ گواہ رہے گی کہ امن کی جانب ابتدائی پیش رفت اسلام آباد میں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں پاکستان دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بن چکا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں معاشی چیلنجز میں اضافہ ہوا۔ موجودہ حکومت نے معاشی استحکام کی بنیاد رکھ دی ہے اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہر ملک کی آزادی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے، تاہم پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔