سرگودھا میں منتحیٰ زہرا کیس کے مرکزی ملزم ارسلان کی تدفین چک نمبر 58 شمالی کے قبرستان میں پولیس کی نگرانی میں کی گئی، تاہم علاقے کے مکینوں نے اس پر شدید احتجاج کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق تدفین کی اطلاع ملتے ہی چک نمبر 58 شمالی کے شہری بڑی تعداد میں قبرستان پہنچ گئے اور ملزم کی وہاں تدفین پر اعتراض کرتے ہوئے لاش کو قبرستان سے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں صرف سات افراد نے ملزم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ اس سے قبل جھال چکیاں کے قریب حیدر آباد ٹاؤن میں بھی تدفین کی کوشش کی گئی تھی، تاہم مقامی آبادی کے شدید احتجاج کے باعث وہاں تدفین ممکن نہ ہو سکی۔
دوسری جانب ارسلان کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کو بھی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ جو دیگر ملزمان شریک تھے، انہیں بھی قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دکان کے مالک اور دیگر متعلقہ افراد کو تاحال مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ بھی واقعے میں ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ دیگر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔