دکان ملنا بہت مشکل تھا جہاں جاتے لوگ باتیں بناتے لیکن پھر۔۔ جانیں محنتی خواجہ سراؤں کی دلچسپ کہانی جو درزی کی دکان چلا رہے ہیں

image

اس دنیا میں مرد اور عورت کے علاوہ ایک تیسرا جینڈر بھی پیدا کیا گیا ہے جس کا شمار نہ مرد میں ہوتا ہے اور نہ ہی عورت۔ انہیں خواجہ سرا کہا جاتا ہے اور ان کو بھی باقی انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کی مکمل آزادی اور حق حاصل ہے۔ خواجہ سرا بھی انسان ہیں اور انہیں بھی اپنے طریقے سے جینے کا اتنا ہی حق ہوتا ہے جتنا عام عورت اور مرد کو۔

خوش قسمتی سے گزشتہ چند سالوں میں ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے جس میں دیکھا گیا کہ خواجہ سراؤں کو بھی مختلف شعبہ جات میں اپنی قابلیت دکھانے کا موقع دیا جارہا ہے۔ یہ آج کل مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نیوز چینل پراینکر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اوعر ساتھ ہی اپنا ذاتی کاروبار بھی ہیں۔ بلاشبہ یہ لوگ بھی معاشرے میں محنت اور ہنرمندی میں اپنی مہارت رکھتے ہیں۔

آج ہم ایسے خواجہ سراؤں سے متعلق بات کرنے جا رہے ہیں جن کی کہانی جان کر آپ کو حیرانگی ہوگی۔

پاکستان کی پہلی خواجہ سرا 'وکیل' نیشا راؤ کی کامیابی کے پیچھے ایک طویل محنت اور جدوجہد ہے، جس میں تعصب، تشدد اور ظلم کے پہلوؤں کی بڑی فہرست شامل ہے۔28 سالہ نیشا راؤ آج پیشہ ور وکیل کی حیثیت سے کام کر رہیں جہاں وہ خواجہ سراؤں سمیت تمام لوگوں کے کیسسز لڑتی ہیں۔

ان کی ایک اور کاوشوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حال ہی میں نیشا راؤ نے ایک ٹیلر کی دکان کا آغاز کیا جو پہلے ٹرانس پرائیڈ سوسائٹی چلاتی ہیں۔ یہ ٹیلرنگ شاپ جناح کمپلیکس اپارٹمنٹس اینڈ شاپنگ مال صدر میں موجود ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران خواجہ سرا نیشا راؤ نے بتایا کہ ان کی دکان کی ایک درزن تھی جو پہلے بھیگ مانگتی تھی ، تو اس نے پورا دن بھیک مانگ کر میرے لیے ایک سوٹ خریدا پھر وہ کپڑا اسٹچ کیا۔ نیشا نے بتایا کہ اگلے روز میں وہ سوٹ پہن کر یو ایس ایمبسی گئی تو وہاں میرے لباس کی بہت تعریف کی گئی۔ نیشا راؤ نے کہا کہ میں نے خواجہ سرا کی مہارت دیکھ کر ان کے لیے ایک ٹیلر شاپ کھولنے کا ارادہ کیا۔

دوسری جانب وہ خواجہ سرا جنہوں نے نیشا راؤ کے لیے اسٹچنگ کا کام بھرپور طریقے سے انجام دیا تھا انہوں نے اپنے انٹرویو میں اپنے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی۔

درزن خواجہ سرا کا نام جیاخان ہے جو جناح کمپلیکس اپارٹمنٹس اینڈ شاپنگ مال صدر میں ٹیلر شاپ پر چلا رہے ہیں۔ جیا خان کا تعلق پنجاب سے ہے، انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 20 سال کراچی میں ہیں ۔ جیا نے بتایا کہ ٹیلر بننے سے قبل میں ڈانس پرفارمنس کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلر کا کام ایسا ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کپڑے سینے کا کام پیشہ ورانہ طور پر سیکھا۔

خواجہ سرا نے کپڑوں کے معیار اور قیمت سے متعلق بتایا کہ مارکیٹ میں جو پرائز ویلیو چل رہی ہے وہی میری دکان میں رکھے کپڑوں کی ہوتی ہے۔

جیا خان نے بتایا کہ دکان ملنے میں انہیں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے بتایا کہ صدر میں سب جگہ دکان کی تلاش کے لیے بھاگ دوڑ کی، لوگ بھی پوچھتے تھے کہ آُپ دکان کو کیسے سنبھالو گے اور کافی باتیں بناتے تھے۔ بہر آل پھر آخر میں جاکر جناح کمپلیکس صدر میں ہمیں دکان نصیب ہوئی۔

خاتون خواجہ سرا وکیل نیشا راؤ نے بتایا کہ جیا خان ایک بہت اچھی کاریگر ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ اور بھی خواجہ سرا ان کے پاس آکر کپڑوں کی اسٹچنگ کا کام سیکھیں۔

نیشا راؤ کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بہت قابل فخر بات ہے کہ خواجہ سرا کراچی کے مرکز صدر میں کپڑوں کی سلائی اور اسٹچنگ کا کام کر رہے ہیں اور آنے والے گاہک بھی بھرپور انداز سے سراہ رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US