پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے، گورنر اسٹیٹ بینک

image

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال 2027 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال 41.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 5 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں کرنے کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے رقوم کی ترسیل مزید آسان بنانے کے لیے نئی اسکیمیں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن کے تحت رقم بھیجنے والوں پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ہوگا کیونکہ اس کے اخراجات بینک خود برداشت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2022 کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض اوسطاً سالانہ 6 ارب ڈالر بڑھا، تاہم 2022 کے بعد یہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ صرف قرضوں کی وجہ سے نہیں بلکہ بہتر معاشی نظم و نسق اور بیرونی شعبے میں بہتری کا نتیجہ ہے۔

جمیل احمد نے مزید کہا کہ رواں مالی سال برآمدات میں اضافے کی توقع ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے موصول ہونے والی رقوم بھی بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ماہانہ آمدن 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر 300 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US