گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرض میں اضافہ نہیں ہوا اور یہ 100 ارب ڈالر سے کچھ زائد کی سطح پر برقرار ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کا ڈھانچہ بھی بہتر ہوا ہے، جہاں مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کو سستے اور طویل مدتی قرضوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تین ارب ڈالر کی کم ترین سطح سے بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ ان کے بقول گزشتہ تین برسوں میں ترسیلاتِ زر 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث عالمی ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کر رہی ہیں، جس سے مستقبل میں پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں سے نسبتاً کم شرح سود پر قرض حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔