جہازوں کو وائرس سے محفوظ کیسے بنایا جائے، سوئٹزرلینڈ کا نیا تجربہ۔
رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایک ایسے روبوٹ کا تجربہ کیا جا رہا ہے جو الٹرا وائلٹ ریز کے زریعے طیاروں کو جراثیم اور ہر قسم کے وائرس سے بچا سکتا ہے، اور وائرس کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں یوویا نامی ایک کمپنی دبئی کی دناتا نامی ایئرپورٹ سروس ہلویٹک کے امبریئر جیٹس میں اس حیرت انگیز روبوٹ کا تجربہ کرنے میں مصروف ہے، جو کہ ایک مارٹن ایبنر نامی ارب پتی شخص کی ملکیت ہے۔
جہاز کے ساتھی مالک کا کہنا ہے کہ ''جس جہاز میں ان روبوٹس کا استعمال کیا جائے گا ان میں یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ کہیں یووی لائٹس سے جہاز کے اندر نشستیں اور دیگر چیزوں کو نقصان نہ پہنچے''۔
لیکن یہ خدشہ ہے کہ جہاز کے اندر ڈس انفیکٹ کا زیادہ استعمال نشستوں کے کور کی رنگت کو تیزی سے خراب کر سکتا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودگی میں صاف صفائی کے اس اعلیٰ نظام کو لوگ پسند کریں گے اور اس سے گھبرائیں گے بھی نہیں۔
جوڈوک ایلمیگر کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سالوں سے اسپتالوں میں استعمال کی جا رہی ہے اور اس کے کوئی نقصانات نہیں جبکہ یہ اتنی مؤثر ہے کہ کوئی نشان نہیں چھوڑتی۔
اس روبوٹ کے تین نمونے تیار کیے گئے ہیں جن میں سے ایک کو سوئٹزرلینڈ میں زیورخ کے ایئرپورٹ میں آزمایا جا چکا ہے اور اس روبوٹ کی لائٹ جہاز کے اندر ہر چیز پر نیلے رنگ کی شعائیں بکھیر دیتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ ایک روبوٹ طیارے کو 13 منٹ میں ڈس انفیکٹ کر سکتا ہے۔
نجی ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 'ان روبوٹس کے استعمال سے بہتری آئے گی اور اگر ہمارے مسافروں اور عملے کو یہ بات معلوم ہوگی کہ ہمارے جہاز محفوظ ہیں، ان میں کوئی وائرس یا بیکٹیریا نہیں ہے، تو انہیں فضائی سفر کرنے میں مدد ملے گی اور وہ مطمئین رہیں گے۔