کورونا وائرس ایک ایسا نام ہے جس سے دنیا کا ہر شخص خائف ہے کیونکہ اس کے اثرات کسی نہ کسی طریقے سے ہر فرد پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔جدید طبی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کا شکار وہ افراد بہت کم ہوتے ہیں جن کی نیند کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج اس لیے بھی چونکا دینے والے تھے کیونکہ اس تحقیق میں 2844 ہیلتھ ورکرز کو شامل کیا گیا اور اس میں بہتر فیصد افراد مردشامل تھے جن کی پینتالیس سال سے زائد تھی۔
سترہ جولائی سے پندرہ ستمبر دو ہزار بیس تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ وہ افراد جو رات کے وقت زیادہ سوتے ہیں اور اپنی ملازمت کی فکروں سے بھی آزاد ہیں تو ایسے افراد کو کورونا وائرس ہونے کے چانس بارہ فیصد کم ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں دوسرے افراد جن کی نیند پوری نہیں ہوتی اور وہ دوپہر کو سونے کی عادت رکھتے ہیں ان کو کورونا وائرس ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔تحقیق میں مزید یہ بتایا گیا کہ وہ لوگ جو ملازمت کی وجہ سے تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں یا پھر جسمانی توانائی میں کمی کے مسئلہ سے دوچار ہیں ان میں اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ چھبیس گنا زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ اس تحقیق میں شامل افراد نے خود بتایا کہ نھیں بھی کورونا وائرس ہوا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اسپتال میں ان کا میل جول ان افراد سے زیادہ تھا جو اس مہلک وائرس کا پہلے سے شکار تھے۔ ہر رات ہر نیند کا اضافی گھنٹہ آپ کو کووڈ نائنٹین کا خطرہ بارہ فیصد کم کر دیتا ہے اور دوپہر کی نیند کا ایک اضافی گھنٹہ چھ فیصد خطرہ بڑھا دیتا ہے۔
جبکہ ماضی قریب میں بھی ایک تحقیق سامنے آئی جس میں رات کو پانچ سے چھ گھنٹے سونے والے افراد کو نظام تنفس اور اس جڑے کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ اس تحقیق کے نتائج بائیس مارچ کو بی ایم جے نیو ٹریشن،پر یونیٹیشن انیڈ ہیلتھ میں شائع ہوئے۔