آپ یا تو مہنگائی کنٹرول کرلیں یا ہمیں گھبرانے کی اجازت دے دیں کیونکہ ۔۔ لائیو کال میں خاتون کے سوال کے بعد عمران خان کیا بولے؟

image

لائیو کال میں خاتون نے ایسا کیا کہا جس پر وزیراعظم عمران خان بھی مسکرا دیے

پاکستانی قوم آج تک مہنگائی کے جس عذاب کو برداشت کر رہی تھی اب اسکا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے جس کو منہ بولتا ثبوت ہمیں کل نظر آیا جس وزیراعظم عمران خان جب عوام کے لائیو سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔اس دوران ایک امبرین قیوم نامی خاتون کی کال آئی جس پر انہوں نے انتاہی عذت و احترام سے وزیراعظم گزارش کی کہ وہ ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک گھریلو خاتون ہیں لیکن آسمان کوچھوتی مہنگائی نے ان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

اب وہ کیا کریں بچوں کی اسکول کی فیسز دیں یا پھر گھر چلائیں۔اب تو روپے کی قدر میں بھی استحکام آیا ہے تو پھر بھی مہنگائی کیوں نہیں تھمتی جبکہ آگے رمضان المبارک کا ماہ آرہا ہے تو اس میں تو تسلیم شدہ ہے کہ مہنگائی اپن ے عروج پر ہوگی۔۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ برائے کرم مہنگائی کو کنٹرول کریں یا پھر ہمیں اب تو گھبرانے کی اجازت دے دیں۔

انکے آخری اس فکرے پر ہال میں خاموشی سی چھا گئی پر وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو یہ فکرہ سن کراپنا ہی شہرہ آفاق مصرہ یاد آگیا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے جس پر وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے مسکرانا ہی ٹھیک سمجھا۔اس کے علاوہ خاتون کی تسلی کراتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم کئی ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے آئندہ کچھ ہی دنوں میں نتائج آپ کے سامنے ہوں گے بلکہ کچھ نتائج تو آپکے سامنے پیٹرول اور ڈیزل کم ہونے کی صوررت میں آبھی گئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ایک طرف تو ہم چاول،گند، دالوں میں خود کفیل ہیں لیکن عوام کو یہ بھی سستے داموں میں میسر نہیں اور دوسری طرف کسان بھی بے حال ہے کیونکہ کسان خود کہتے ہیں کہ بڑی مشکل سے ہمارا گزارا ہو رہا ہے۔لیکن ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس کے تحت اب مال منڈیوں سے براہ راست عوام تک پہنچایا جائیگا جس کا فائدہ عوام کو اور کسانوں کو ہو گا ناکہ مڈل مین کو۔ اس فیصلے کو عملی رنگ دیتے ہوئے لاہور،اسلام آبا د کی مندیوں میں اب یہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US